اِسلا میات

قرآن کی عظیم ترین آیت آیۃ الکرسی

مفتی محمد ریاض ارمان القاسمی
اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖ اِلَّا بِمَا شَآءَ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَا یَـُٔوْدُہٗ حِفْظُہُمَا وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
ترجمہ: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،جو سدا زندہ ہے ،جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے، جس کو نہ کبھی اونگھ لگتی ہے،نہ نیند ۔آسمانوں میں جو کچھ ہے (وہ بھی ) اور زمین میں جو کچھ ہے (وہ ) بھی سب اسی کا ہے ۔کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے ؟وہ سارے بندوں کے تمام آگے پیچھے کے حالات کو خوب جانتا ہے ،اور وہ لوگ اس کے علم کی کوئی بات اپنے علم کے دائرے میں نہیں لاسکتے ،سوائے اس بات کے جسے وہ خود چاہے ۔اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمینوں کو گھیرا ہوا ہے،اور ان دونوں کی نگہبانی سے اسے ذرا بھی بوجھ نہیں ہو تا ،اور وہ بڑا عالی مقام ،صاحب عظمت ہے (توضیح القرآن جلد ۱؍۱۶۱)
اس آیت میں توحید ذات اور اس کا تقدس و جلال غایت عظمت کے ساتھ مذکورہے اور اسی آیت کا لقب آیۃ الکرسی ہے اسی کو حدیث میں اعظم آیات کتاب اللہ فرمایا ہے اور بہت فضیلت اور ثواب منقول ہے ،حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ بقرہ میں ایک آیت ہے جو سیدہ آیات القرآن ہے وہ جس گھر میں پڑھی جائے شیطان اس سے نکل جاتا ہے، اسی طرح مروی ہےکہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد ’’آیۃالکرسی‘‘ پڑھا کرے تو اس کو جنت میں داخل ہو نے کے لیے بجز موت کے کوئی مانع نہیں یعنی موت کے بعد فوراً وہ جنت کے آثار ، راحت وآرام کا مشاہدہ کر نے لگے گا۔
اور اصل بات یہ ہے کہ حق تعالی نے اپنے کلام پاک میں رلا ملا کر تین قسم کے مضمون کو جگہ جگہ بیان فرمایا ہے علم توحید و صفات ،علم احکام اور علم قصص و حکایات اس جگہ توحید ذات و صفات کا بیان اس عجیب و غریب انداز میں ہے کہ سابقہ کتب توریت ،زبوراورانجیل میں حق تعالی کی کمال ذات اور کمال صفات کے متعلق اس کا تھوڑا بہت حصہ بھی نہیں ہے۔
توحید ذات و صفات
اس آیت میں اللہ جل شانہ کا موجود ہو نا،زندہ ہو نا ،سمیع و بصیر ہونا ،متکلم ہونا ،واجب الوجود ہو نا ،دائم و باقی ہو نا ،سب کا ئنات کا موجد و خالق ہو نا ،تغیرات اور تأثرات سے بالا تر ہو نا ،تمام کائنات کا مالک ہو نا ،صاحب عظمت و جلال ہو نا ،کہ اس کے آگے کوئی بغیر اس کی اجازت کے بول نہیں سکتا ،ایسی قدرت کا ملہ کا مالک کہ سارے عالم اور اس کی کائنات کو پیدا کرنے باقی رکھنے اور ان کا نظام محکم قائم رکھنے سے اس کو نہ کوئی تھکان پیش آتا ہے نہ سستی ،ایسے علم محیط کا مالک ہو نا جس سے کوئی کھلی یا چھپی چیز کا کوئی ذرہ یا قطرہ باہر نہ رہے۔اسی حقیقت کو علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے اپنی تفسیر’’تفسیر عثمانی‘‘ میں اس نداز میں بیان کیا ہے ’’اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں توحید ذات اور عظمت صفات کو بیان فرمایا کہ حق تعالیٰ موجودہے ہمیشہ سے ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں تما م مخلوقات کا موجد وہی ہے تمام نقصان اور ہر طرح کے تبدل اور فتور سے منزہ ہے سب چیزوں کا مالک ہے تمام چیزوں کا کامل علم اور سب پر پوری قدرت اور اعلی درجہ کی عظمت اس کو حاصل ہے،کسی کو نہ اتنا استحقاق نہ اتنی مجال کہ بغیر اس کے حکم کے کسی کی سفارش بھی اس سے کر سکے کوئی امر ایسا نہیں جس کے کرنے میں اس کو دشواری اور گرانی ہوسکے تمام چیزوں اور سب کی عقلوں سے برتر ہے اس کے مقابلہ میں سب حقیر ہیں ،اس سے دو مضمون اور خوب ذہن نشین ہو گئے ایک تو حق تعالیٰ کی ربوبیت اور حکومت اور اپنی محکومیت اور عبدیت جس سے حق تعالیٰ کے تمام احکامات مذکورہ اور غیر مذکورہ کا بلا چون وچرا واجب التصدیق اور واجب التعمیل ہو نا اور اس کے احکام میں کسی قسم کے شک و شبہ کا معتبر نہ ہو نا معلوم ہو گیا، دوسرے عبادات و معاملات کثیرہ مذکورہ سابقہ کو اور ان کے ساتھ تنعیم و تعذیب کو دیکھ کرکسی کو خلجان ہو سکتا تھا کہ ہر فرد کے اس قدر معاملات وعبادات کثیرہ ہیں کہ جن کا مجموعہ اتنا ہو جاتا ہے کہ ان کا ضبط اور حساب کتاب محال معلوم ہو تا ہے پھر اس کے مقابلے میں ثواب و عقاب یہ بھی عقل سے باہر غیرممکن معلوم ہو تا ہے سو اس آیت میں حق سبحانہ نے چند صفات مقدسہ اپنی ایسی ذکر فرمائیں کہ وہ تمام خیالات بسہولت دور ہو گئے یعنی اس کا علم و قدرت ایسا کامل ہے کہ ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اس سے باہر ہو جس کا علم اور قدرت ایسا غیر متناہی اور ہمیشہ یکساں رہنے والا ہو اس کو تمام جزئیات عالم ضبط رکھنے اور ان کا عوض عطا فرمانے میں کیا دقت ہو سکتی ہے‘‘(تفسیرعثمانی مع ترجمہ شیخ الہند ،سورہ بقرہ آیت نمبر۵ ۲۵ص؍۵۳؍۵۴)۔
کرسی کی حقیقت
اس آیت میں اللہ تبارک و تعالی نے دس جملے ارشاد فرمائے ہیں جس میں نواں جملہ ’’وسع کرسیہ السموات والارض‘‘ ہے اسی جملہ کی وجہ سے اس آیت کو آیۃ الکرسی کہتے ہیں اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کرسی اتنی بڑی ہے کہ جس کی وسعت کے اندر ساتوں آسمان اور زمینیں سمائے ہوئے ہیں ،اللہ جل شانہ نشست و برخاست اور حیز ومکان سے بالاتر ہیں ،اس قسم کی آیات کو اپنے معاملات پر قیاس نہ کیا جائے ،اس کی کیفیت و حقیقت کا ادراک انسانی عقل سے بالا تر ہے ،البتہ مستند روایات حدیث سے اتنا معلوم ہو تا ہے کہ عرش اور کرسی بہت عظیم الشان جسم ہیں جو تما م آسمان اور زمین سے بدرجہا بڑے ہیں ۔
ابن کثیر ؒ نے براویت ابو ذر غفاری ؓ نقل کیا ہے کہ انہوں نے آنحضرتﷺ سے دریافت کیا کہ کرسی کیا اور کیسی ہے آپﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی مثال کرسی کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے ایک بڑے میدان میں کوئی حلقہ انگشتری جیسا ڈال دیا جائے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ عرش کے سامنے کرسی کی مثال بھی ایسی ہی ہے جیسے ایک بڑے میدان میں انگشتری کا حلقہ ہو،اسی طرح کی بات تفسیر قرطبی میں ہے :
’’وروی ابو ادریس الخولانی عن ابی ذر قال: قلت یا رسول اللہ،ای ما انزل علیک اعظم ؟قال: (آیۃ الکرسی )ثم قال یا ابا ذر ما السموات السبع مع الکرسی الا کحلقۃ ملقاۃ فی ارض فلاۃ و فضل العرش علی الکرسی کفضل الفلاۃ علی الحلقۃ )
اخرجہ الآجری و ابو حاتم البستی فی صحیح مسندہ والبیھقی وذکر انہ صحیح (تفسیر القرطبی جلد۳/۲۵۶)۔