اداریہ

قومی شاہراہ پر بندشوں کا کیا مطلب؟

جب وادی میں قومی شاہراہ پرہفتے میں دو دن سیول ٹریفک کی نقل و حمل پر پاندی کا اعلان کیا گیا تو سماج کے سبھی طبقوں نے سرکار کی طرف سے کئے گئے اس اعلان پر احتجاج کیا ۔ ان دو دنوں کے لئے شاہراہ پر کسی بھی سیول گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ یہ فیصلہ سی آر پی گاڑی پر ہوئے اس حملے کے تناظر میں لیا گیا جس میں درجنوں اہلکار مارے گئے۔ تازہ ترین فیصلے میں حفاظتی اقدام کے طور کسی بھی قسم کی دوسری گاڑیوں کو ان دو دنوں کے لئے شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جس سے عام لوگوں میں کافی پریشانیاں لاحق ہو رہی ہیں ۔ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہے کامگاروں کے ساتھ ساتھ ملازمین بھی خاصا پریشان دکھ رہے ہیں ۔ حالانکہ اس پابندی سے ہر طرح کے لوگ مشکلات کے شکار ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سماج کے سبھی طبقے انتظامیہ کے اس فیصلے سے نالاں نظر آرہے ہیں۔ تاہم ہفتے میںدودنوں کی پابندی کے احکامات پر عام لوگوں کے سراپااحتجاج کے بعد صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے کہا ہے کہ مریضوں، طلاب،سیاحوں اور دیگر ایمرجنسی کے معاملات سے متعلق جانچ کے بعد انہیں شاہراہ پر آمدرفت کی اجازت دی جائے گی۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے اس حوالے سے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اچانک پیداہ شدہ ایمرجنسی کیلئے ضلعی سطح پر فون نمبرات کا اشتراک کیا جائے گا،تاکہ لوگ نوڈل افسران کے ساتھ فوری طور پر بات کریں،اور شاہراہ پر سفر کر سکیں۔ بصیر احمد خان نے کہا کہ سیاحوں کی گاڑیوں کو جانچ پڑتال کے بعد شاہراہ پر چلنے کی اجازت دی جائے گی،جبکہ ائر پورٹ جانے والے مسافروں کی ٹکٹوں کی جانچ کے بعد انہیں سرینگر جموں شاہراہ پر نقل و حرکت کی اجازت دی جائے گی۔ اگر چہ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے محدود لوگوں کےلئے جانچ پڑتال کے بعد شاہراہ پر چلنے کی اجازت کا اپشن رکھا ہے تاہم ایک بڑی تعداد جو آئے روز شاہراہ پر سفر کرتے ہیں اور اپنا روزی روٹی کماتے ہیں جن کے لئے کوئی اپشن ہی نہیں ہے۔ یہاں پر یہ بات کہنے پر مجبورہیں کہ آخر قومی شاہراہ پر بندشوں کا کیا مطلب ہے؟ یہاں یہ بات عیاں ہے کہ جموں کشمیر ایک شورش زدہ علاقہ ہے ۔ جہاں ہر قسم کے فیصلے سیکورٹی تناظر میں کئے جاتے ہیں ۔ اس حوالے سے بیشتر علاقوں میں آئے دن ہڑتالوں ،احتجاجوں اور بندشوں کا سامنا رہتا ہے ۔ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ خاص طور سے تعلیمی اداروں پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں اور سرکاری دفتروں میں کام کاج متاثر رہتا ہے ۔ تجارتی سرگرمیاں کئی سالوں سے محدود ہوچکی ہیں ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور علاج معالجے کی عدم سہولیات کی وجہ سے اموات اور ناخیز ہونے کی شرح میں اضافہ ہورہاہے ۔ اب شاہراہ کو ہفتے میں دو دن کے لئے بند رکھے جانے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ معمول کی زندگی پر مزید خراب اثرات پڑیں گے ۔ تجارتی طبقے نے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ علاحدگی پسندوں نے اسے ایک آمرانہ فیصلہ قرار دیا ہے ۔ مین اسٹریم جماعتوں کی طرف سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ خاص طور سے ہسپتال عملے کی طرف سے اس فیصلے پر احتجاج کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمبولنس اور ہسپتال عملے کو اس فیصلے کے دائرے سے باہر رکھا جانا چاہئے۔ تاحال عام لوگوں کے سراپااحتجاج کے بعد صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے یقین دہانی کہ مریضوں، طالب علموں،سیاحوں اور دیگر ایمرجنسی کے معاملات سے متعلق جانچ کے بعد انہیں شاہراہ پرچلنے کی اجازت ہو گی سے کچھ حد تک کئی لوگوں کو راحت محسوس ہوئی ہے تاہم آبادی کا زیادہ تر حصہ اس فیصلے سے متاثر رہے گا۔