خبریں

قیدیوں کی حالت زار تشویشناک

قیدیوں کی حالت زار تشویشناک

ریاست جموں کشمیر کے قیدیوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ مہذب انسانی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق کو اولین اہمیت دی گئی ہے، لیکن بھارت کے قابض حکمرانوں نے ریاست جموں کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت سے تعلق رکھنے والے اسیرانِ زندان کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا ہے۔ ایک پریس بیان میں چیرمین حریت(گ) نے بھارت کی جنگِ آزادی کے دوران برطانوی سامراج کی طرف سے گرفتار کئے گئے قیدیوں کو اپنے گھروں کے نزدیگ ترین جیل خانوں میں مقید کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کو اپنے ساتھ اپنا سیکریٹری رکھنے کی بھی سہولیت میسر رکھی گئی تھی۔ سید علی گیلانی نے بھارت کے قابض حکمرانوں کی شقاوت قلبی اور تنگ نظری پر عبرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے قیدیوں کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے لوگوں سے دُور ترین جیلوں میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے، تاکہ ان کے نزدیکی رشتہ داروں کو ان کے ساتھ ملاقات کرنے کو مشکل سے مشکل تر بنایا جاسکے۔
حریت راہنما نے راجستھان، اترپردیش، مغربی بنگال، تہاڑجیسے ہزاروں میلوں کی دوری پر جیل خانہ جات میں ہمارے اسیرانِ زندان کی مشکلات، مصائب میں زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بیان کے مطابق سید علی گیلانی نے کہاکہ بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی لمبی فہرستیں مرتب کرکے ان قیدیوں کے مقدموں کی عدالتی کارروائیوں کو سست رفتاری کے ساتھ چلایا جاتا ہے اور پندرہ پندرہ سال گزارنے کے بعد انہیں تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ جرم بے گناہی میں لمبی مدتوں کے لیے جیل کی سزا کاٹنا اور الزامات سے بری کردینا آزاد پسند انتظامیہ کا ایک انوکھا طریقۂ انصاف ہے جسے ریاست جموں کشمیر کے اسیرانِ زندان کے ساتھ مخصوص کردیا گیا ہے۔
حریت راہنما نے کٹھ پتلی سول انتظامیہ اور عدالتی نظام کے درمیان طے شدہ مفاہمت سے ریاست کے جملہ اسیران زندان کو زیادہ سے زیادہ عرصہ تک مقید رکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سید علی گیلانی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کرنے کے باوجود پولیس ان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیتی ہے اور فرضیFIRکے تحت گرفتاریوں کے چکر کو طول دیا جارہا ہے۔ پولیس انتظامیہ نے FIRکے دہانوں کو کھلا رکھتے ہوئے کسی بھی فرد کو کسی بھی وقت ناکردہ جرم کے باجود ان FIR’sمیں ملوث کردیتا ہے۔ عدالتِ عالیہ ایک PSAکو کالعدم کردیتی ہے تو ظالم انتظامیہ دوسرے PSAکو نافذ کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔
حریت راہنما نے زیرِ حراست قیدیوں کو قتل کرنے کی بہیمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک قیدی کو اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو کِسی غیر جانبدار عدالت میں چلینج کرنے کا قانون اور اخلاقی حق حاصل ہے، لیکن قاتل انتظامیہ نے ریاست کے اطراف واکناف میں لاقانونیت اور سرکاری گنڈہ گردی کا ایک ماحول طاری کردیا ہے، جس میں ترال کے نذیر احمد چوپان کو پولیس اسٹیشن کے اندر ہتھکڑیاں بہتے ہوئے گرینیڈ کا شکار بنادیا جاتا ہے اور دن کے اُجالے میں کئے گئے حراستی قتل کو چُھپانے کے لیے من گھڑت کہانیاں تراش کر عوام کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہے۔ سید علی گیلانی نے اس حراستی قتل کو اقوامِ متحدہ کے وار کرائم ٹریبونل کے ذریعے تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ دہرتے ہوئے کہا کہ نذیر احمد چوپان کو مورخہ 9؍جنوری2018 کو سوپور میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سید علی گیلانی نے اسلام آباد مٹن کے جیل خانہ میں جیل انتظامیہ کی طرف سے مسلسل دوران شب قیدیوں کی بلاوجہ مارپیٹ اور ذہنی تشدد کا شکار بنائے جانے کی ظالمانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔حریت راہنما نے سرینگر سینٹرل جیل میں نظربند قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جارہے انتقام گیرانہ سلوک پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کو بلاوجہ اپنے گھروں سے دُور لے جاکر ظلم وستم کا نشانہ بنانا ایک وحشیانہ کارروائی ہے جسے کوئی بھی انصاف پسند برداشت نہیں کرسکتا۔ حریت راہنما نے جملہ حریت پسند اسیرانِ زندان کے تئیں اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان قیدیوں کے صبروثبات کو اپنی تحریکِ آزادی کا ایک انمول اثاثہ سمجھتے ہیں۔سید علی گیلانی نے اپنی مظلوم قوم کے صاحب ثروت ذمہ داروں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کے اہل وعیال کو پالنا اور ان کی بنیادی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا ہم سب کی ملی ذمہ داری ہے۔