سرورق مضمون

لداخ میں ہند چین سرحد پر کشیدگی بدستور جاری ، پارلیمنٹ میںکشمیر پر بحث کا مطالبہ، پی ڈی پی کا اجلاس

لداخ میں ہند چین سرحد پر کشیدگی بدستور جاری ، پارلیمنٹ میںکشمیر پر بحث کا مطالبہ، پی ڈی پی کا اجلاس

سرینگر ٹوڈےڈیسک
دہلی میں پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوچکا ہے۔ اجلاس میں بین الاقوامی سرحد پر کئی ماہ سے ہند چین تنائو پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور وزیردفاع نے ایک تفصیلی بیان بھی دیا ۔حکومت نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ اجلاس میں کوئیZero Hour یا پرائیویٹ بل پیش کرنے کو موقعہ نہیں ہوگا ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا کے وبا کی وجہ سے اجلاس کو طول نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کارروائی مختصر کرنے کے لئے اہم مدعوں پر ہی بات ہوگی ۔ ظاہر ہے کہ زیادہ تر موقعہ حکومتی ممبران کے ہی حق میں آئے گا ۔ اجلاس کے آغاز میں چین کے ساتھ لداخ کی سرحد پر جاری تنازع سامنے آیا ۔ اس حوالے سے وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے ایک طویل بیان دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ملٹری اور سفارتی سطح پر تنازع حل کرنے کے لئے بات چیت جاری ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چین بات چیت کا صحیح ڈھنگ سے احترام نہیں کرتا ہے ۔ وزیردفاع نے پارلیمنٹ کو اس بارے میں جانکاری دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ چین نے ہندوستان کے 38000مربع کلومیٹر زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہے ۔ سکم ،ارونا چل پردیش اور لداخ کے سرحدی علاقوں پر چین کے قبضے والی زمین کو چھڑانے کا اعلان کیا گیا ۔ وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی کہ چین کی طرف سے کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے فوج تیار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نے پہلے ہی مکمل تیاری کرکے چین کی سرحد پر دراندازی کو روک دیاہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بات مان لی کہ پنگانگ جھیل کے پاس چین نے جنگ کی تیاری کررکھی ہے ۔ ادھر فوج کا کہنا ہے کہ وہ ملک کا دفاع کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے ۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کئی روز سے ہندوستانی ہوائی فوج نے سرینگر اور کئی دوسرے علاقوں میں جنگی مشقیں شروع کی ہیں۔ اس دوران جنوبی کشمیر میں اس وقت لوگوں میں خوف وہراس پیدا ہوگیا جب سوموار اور منگلوار کو فضا میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ۔ بعد میں اندازہ لگایا گیا کہ انڈین ائر فورس کے جٹ طیاروں کی طرف سے کی گئی مشقوں کی آوازیں ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے دو مہینوں کے دوران ہند چین فوجوں کے کمانڈروں کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہوئے ۔ ہر گفتگو کے بعد امید ظاہر کی گئی کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری کش مکش ختم ہورہی ہے ۔ لیکن تاحال امن قائم نہیں ہوسکا اور دونوں طرف کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ اس حوالے سے آئے دن ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔اس دوران روس میں دونوں ملکوں کے درمیان وزارتی سطح کی بات چیت بھی ہوئی ۔ لیکن کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا ۔ دونوں طرف کی فوجوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنگی طیارے سرحد کے قریب لاچکے ہیں ۔ ہندوستان کی طرف سے بڑی تعداد میں فوجیں لداخ پہنچادی گئی ہیں ۔ایک اطلاع کے مطابق پہلے سے تعینات فوجوں کی تعداد میں کافی اضافہ کیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پچاس ہزار فوجی اہلکار اب پنگانگ جھیل کے آس پاس سرما کے دوران بھی تعینات رہیں گے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ یہ تنائو مبینہ طورکسی بھی وقت باضابطہ جنگ کی صورت اختیار کرسکتا ہے ۔ تاہم ابھی تک حالات کنٹرول میں بتائے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے علاوہ کئی دوسرے عالمی رہنما دونوں ملکوں کے درمیان صلاح مشورہ کرانے کی کوششوں میں لگے ہیں ۔ تاہم تاحال تنائو موجود ہے ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ امن کے لئے مذاکرات جاری ہیں تاہم جنگ کے لئے مکمل تیاری کی گئی ہے ۔ فوج کی طرف سے تازہ بیان میں کہا گیا کہ اس بار چین کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ ہندوستان کی فوجین بہت ہی طاقتو ر ، تربیت یافتہ اور قربانی کا جذبہ لے کر میدان میں آئیں گی۔ اس تنائو کی وجہ سے پورے خطے میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے ۔
پارلیمنٹ کے جاری اجلاس کے لئے کشمیر سے نیشنل کانفرنس کے تینوں ممبر دہلی پہنچ گئے ہیں ۔ پہلے روز اننت ناگ کے پارلیمنٹ ممبر حسنین مسعودی نے سوپور میں ہوئی مبینہ حراستی ہلاکت کا مسئلہ اٹھایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے شوپیان میں تین بے گناہ نوجوانوں کو مارا گیا اور ملی ٹنٹ قرار دیا گیا ۔ اب سوپور میں ایک نوجوان کو گرفتار کرکے بدھ وار کو اس کی لاش مل گئی ۔ این سی ممبران نے ان ہلاکتوں کی مزمت کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کی مانگ کی ۔ اس دوران کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر فاروق کی قیادت میں تینوں ممبران نے پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کرکے کشمیر پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اسپیکر نے جواب میں کیا کہا اب تک معلوم نہ ہوسکا ۔ اس دوران پتہ چلا ہے کہ کانگریس کے پارلیمانی بورڈ نے ملک کورونا کیسز میں اضافہ ، مالی صورتحال اور کشمیر معاملے پر بحث کرانے کی مانگ کی ہے ۔ حکومت اس طرح کا کوئی مطالبہ ماننے سے انکار کررہی ہے ۔ این سی کے ممبران پچھلے سال ۵؍ اگست کی کاروائی کے بعد جس میں دفعہ 370 ہٹاکر جموں کشمیر ریاست کو دو یونین ٹریٹیز میں بدل دینے کے بعد حراست میں لے گئے تھے ۔ رہائی کے بعد آج پہلی بار یہ پارلیمنٹ ممبر دہلی پہنچ کر مون سون اجلاس میں شریک ہورہے ہیں۔ ادھر پی ڈی پی کی یوتھ ونگ کی طرف سے ایک سال بعد پہلی بار اجلاس منعقد کیا گیا ۔ سرینگر میں پارٹی ہیڈکواٹر پر اس جلسے کا انعقاد پی ڈی پی کی یوتھ ونگ کی طرف سے کیا گیا تھا جس میں پارٹی کے کئی سینئر رہنما شریک ہوئے ۔ اس سے پہلے پارٹی کے ان رہنمائوں نے گھر میں نظر بند رہنما اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملنے کی کوشش کی تھی ۔ لیکن پولیس نے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی ۔اس کے بعد پارٹی کی یوتھ ونگ نے سرینگر انتظامیہ سے اجلاس منعقد کرنے کے لئے اجازت طلب کی ۔ ان کی یہ درخواست منظور کی گئی ۔ اجلاس میں پارٹی کے درجنوں سینئر رہنمائوں کے علاوہ کئی کارکنوں نے شرکت کی ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سال بعد پارٹی کا یہ اجلاس توقع کے برعکس کامیاب رہا ۔ پارٹی کے بڑے بڑے رہنما پہلے ہی بغاوت کرکے الگ ہوگئے ہیں اور اپنی پارٹی کے نام سے انہوں نے نئی پارٹی بنائی ہے ۔ تاہم سرینگر میں پی ڈی پی کا تازہ اجلاس پارٹی کی کامیابی قرار دی جارہی ہے ۔