سرورق مضمون

لداخ میں ہند چین فوجی تنائو بر قرار، کشمیر میں این سی اور بی جے پی کے درمیان تو تو میں میں جاری

لداخ میں ہند چین فوجی تنائو بر قرار، کشمیر میں این سی اور بی جے پی کے درمیان تو تو میں میں جاری

سرینگر ٹوڈےڈیسک
بھارت کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ چین کی فوجوں نے سرحد پر ایک بار پھر تنائو پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ نے الزام لگایا کہ چینی فوجوں نے ہندوستان کے فوجیوں کو اکسا کر ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ۔ چین کی طرف سے اس طرح کے الزامات کو مسترد کیا گیا اور اسےبھارت کا بہتان قرار دیا گیا ۔ دونوں فوجوں کے درمیان تازہ تنائو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ہندوستان کے وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے پچھلے دنوں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ روس میں ایک اہم ملاقات کی ۔ اس ملاقات کے حوالے سے ہندوستان کا کہنا تھا کہ چین کی طرف سے ملاقات کی پہل کی گئی ۔ دونوں ملکوں کے دفاعی سربراہ اپنے وفودکے ہمراہ ایک دوسرے سے ملے اور مبینہ طور سرحد پر پائے جانے والے تنائو کے بارے میں بات چیت کی ۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے مذاکرات کے بارے میں اگرچہ کوئی تفصیل نہیں بتائی گئیں ۔ تا بھارت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ چین تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ سرحد پر کسی قسم کی دراندازی قبول نہیں کی جائے گی ۔ اس دوران یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وزیر دفاع نے چین کے اپنے ہم منصب سے زور دے کر یہ بات کہی کہ وہ اپنی فوجوں کو فوری طور اپنی پرانی پوزیشنوں پر واپس جانے کے لئے کہے ۔ اس بیان کے بعد چین کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ سرحد پر تنائو ختم کرنے کی ساری ذمہ داری ہندوستان کی ہے ۔ اس سے یہی اندازہ لگایا گیا کہ چین واپس اپنی جگہوں پر جانے کے لئے تیار نہیں ۔ بلکہ ہندوستان سے علاقہ خالی کرنے پر دبائو ڈالا جارہاہے ۔ اس دوران یہ بھی اطلاع دی گئی کہ بھارت نے بڑے پیمانے پر لداخ میں اپنی فوجیں جمع کرنے کے علاوہ جدید ہتھیار بھی وہاں پہنچادئے ۔ بھارت کے فوجی سربراہ نے لداخ کا دو روزہ دورہ کرکے وہاں جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر سخت تنائو ہے ۔ تاہم فوجی جوانوں کا حوصلہ بلند ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجیں تیار بہ تیار ہیں ۔ حکومت کی طرف سے حکم ملتے ہی فوجیں حرکت میں لائی جائیں گی ۔ اس دوران بھارتی فوج کے سابق سربراہ اور حال ہی میں وزیراعظم کی طرف سے تعینات کئے گئے تینوں فوجی شاخوں کے سربراہ بپن راوت نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی قسم کی پیش رفت کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چین سے مل کر ہندوستان پر حملہ کرنے کے لئے فوجوں کو سرحد پر اکٹھا کررہاہے ۔ راوت نے خبردار کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی فوجیں دونوں طرف سے کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ پاکستان نے اس طرح کے کسی بھی قسم کے فوجی دبائو کی اطلاعات کو غلط قرار دیا ۔ پاکستانی فوج کے سربراہ نے ایک تقریب میں بولتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہرگز جنگ کے حق میں نہیں ۔ تاہم جنگ مسلط کیا گیا تو اس کا پوری طرح سے جواب دیا جائے گا ۔ لداخ کے پینگ کانگ جھیل کے علاقے سے اطلاع ہے کہ چین نے جھیل کے شمالی علاقے میں اپنی پوزیشن مستحکم کی اور نئی تعمیرات کھڑا کرنے میں مصروف ہے ۔ کئی خبر رساں ایجنسیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین نے جھیل کی سیر کے لئے سیاحوں کی آمد کی اجازت دی ہے ۔ ادھر منگلوار کو چین کے فوجی دستوں کو لاٹھیوں اور برچھیوں سے لیس ہندوستانی فوجی جوانوں کا سامنا کرتے دیکھا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ چینی فوجوں نے ایک بار پھر لاٹھیوں سے حملہ کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن ہندوستانی فوج نے ایسا ہونے نہیں دیا ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے اسی طرح کے ایک حملے میں چین نے ہندوستان کے بیس سپاہیوں کو مار مار کر ہلاک کیا تھا ۔ اس پر ہندوستان کی طرف سے سخت احتجاج کیا گیا ۔ بعد میں دونوں طرف کے فوجی کمانڈروں کے درمیان بات چیت کے کئی راونڈ ہوئے ۔ اس بات چیت سے تنائو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن تازہ صورتحال ایک بار پھر دگر گوں بتائی جاتی ہے ۔ دونوں طرف کے فوجی جمائو کے بعد یہاں جنگ کا سماں بتایا جاتا ہے ۔ کانگریس کی طرف سے اس بات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ حکومت اس بارے میں سچائی سامنے لانے میں ناکام ہے ۔ کانگریس سربراہ راہول گاندھی کی طرف سے مودی سرکار پر مسلسل یہ الزام لگایا جارہاہے کہ اس نے لداخ کا ایک وسیع علاقہ چین کے حوالے کیا ۔ مودی سرکار اس سے برابر انکار کررہی ہے ۔ تاہم دوسرے کئی حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ چین نے کئی سو کلومیٹر کا علاقہ لداخ میں اپنی تحویل میں لیا ہے ۔ اس وجہ سے خطے میں تنائو کی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چین اس تنائو کو بہانہ بناکر جنگ کرنے کی کوشش کررہاہے ۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل کیا جائے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ دونوں ملکوں کے حق میں نہیں ہے ۔ تنائو کچھ ہفتے جاری رہ کر خو دہی ختم ہوگا ۔ ان ماہرین کی رائے ہے کہ دونوں ملک جنگ کرنے سے گریز کئے ہوئے ہیں ۔ ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیش کش کی ہے کہ تنائو ختم کرنے کے لئے وہ ثالثی کرنے کو تیار ہیں ۔ امریکہ میں آنے والے نومبر میں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں ۔ انتخابات میں ٹرمپ کو مبینہ طور اپنے مخالف سے سخت مقابلہ ہے ۔ اس الیکشن میں اسے ہندوستان کے پچیس ہزار ووٹروں کی حمایت درکار ہے ۔ اس وجہ سے ٹرمپ کی کوشش ہے کہ چین کے خلاف ہندوستان کی حمایت جاری رکھی جائے ۔ کہا جاتا ہے کہ ہند چین تنائو میں امریکہ اور اسرائیل ہندوستان کی کھل کر حمایت کررہے ہیں ۔ اس وجہ سے بھی جنگ کے خطرے کو مسترد کیا جارہاہے ۔ لداخ کی طرف سے الزام لگایا جارہاہے کہ پنگوکانگ جھیل کے پاس موجود ہندوستانی فوجیوں نے کئی گولیاں چلاکر سخت تنائو پیدا کیا ۔ یہ واقعہ کہا جاتا ہے کہ سوموار کو پیش آیا جس کے بعد چین کی فوجوں نے مشتعل ہوکر آگے بڑھنے کی کوشش کی ۔ چین نے اس حوالے سے کہا کہ چین کی حفاظتی فوجوں نے مجبور ہوکر اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کی کوشش کی ۔ تاہم اس حوالے سے کچھ وضاحت نہیں کی گئی کہ چین نے کس طرح کے حفاظتی اقدامات کئے ۔ وہاں موجود پیوپلز لبریشن آرمی کی طرف سے بیان میں کہا گیا کہ ہندوستانی فوجوں نے غیر قانونی طور سرحد پار کرتے ہوئے گولیوں کے کئی راونڈ چلائے جس کے بعد لبریشن آرمی نے حفاظتی اقدامات کئے ۔اس وجہ سے علاقے میں سخت تنائو پائے جانے کی اطلاع ہے ۔
کشمیر میں پچھلے ایک سال سے سیاسی سرگرمیاں پوری طرح سے معطل ہیں ۔ یہ صورتحال اس وقت ابھری جب مرکزی سرکار نے کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن ختم کرنے سے پہلے تمام مین اسٹریم لیڈروں کو نظر بند کیا ۔ اس کے بعد ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے دونوں حصوں کو یونین ٹیرٹیوں میں بدل دیا گیا ۔ کچھ ہفتے پہلے پی ڈی پی سربراہ کو چھوڑ کر تمام سیاسی نظر بندوں کو رہا کیا گیا ۔ نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق اور عمر عبداللہ کی کئی ماہ پہلے نظربندی ختم کی گئی ۔ دونوں باپ بیٹے رہا ہوئے تو انہوں نے محدود سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ اس دوران انہوں نے پہلے پارٹی لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی ۔ اس کے بعد سیاسی کارکنوں کے ساتھ ملاقات کی گئی ۔ اس طرح سے اندازہ لگایا جارہاہے کہ مرکزی سرکار جموں کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے حق میں ہے ۔ اس کو دیکھ کر پی ڈی پی کے کچھ لیڈروں نے نظر بند پارٹی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن پولیس نے ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہونے دی ۔ کئی لیڈروں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا گیا ۔ اسی طرح جو لیڈر محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے انہیں وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے اندر جانے نہیں دیا ۔ اس دوران نیشنل کانفرنس نے الزام لگایا کہ بی جے پی کسی دوسرے سیاسی گروہ کو اپنے مقابلے کھڑا ہونے نہیں دے رہی ہے ۔ اس وجہ سے دونوں جماعتوں کے درمیان بیان بازی جاری ہے ۔ تازہ ترین بیان ڈاکٹر فاروق کی طرف سے سامنے آیا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آرا یس ایس دونوں گروہ مذہب منافرت پھیلاکر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے پیشن گوئی کی کہ یہ دونوں گروپ اسی مذہبی منافرت کی وجہ سے سیاست کے سمندر میں ڈھوب کر غائب ہوجائیں گے ۔ اس سے پہلے بی جے پی کی طرف سے نیشنل کانفرنس پر مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا الزام لگایا گیا تھا ۔ ڈاکٹر فاروق نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ سیکولر بنیادوں پر کھڑا رہی ہے اور کبھی بھی مذہب کی آڑ میں سیاست نہیں کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ این سی نے ہمیشہ سیکولر نظریے کی حمایت کی ۔