اِسلا میات

لیلۃ القدر، ستائیسویں شب!

سید ابوالااعلیٰ مودودی
حضرت اُبی بن کعبؓ نے بغیر استثنا کیے ہوئے حلفاً یہ کہا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں تاریخ ہے (پوچھا گیا کہ) آپ یہ بات کس بنا پر کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: (میں یہ بات) ایک علامت یا نشانی کی بنا پر کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی اور وہ نشانی یہ ہے کہ اس روز جو سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہوگی۔ (مسلم)
’شعاع نہیں ہوگی‘ سے مراد یہ ہے کہ شعاع میں تیزی نہیں ہوگی۔ ایسا اس بنا پر بھی ہوسکتا ہے کہ بادل ہونے کی وجہ سے سورج کی شعاعیں بہت ہلکی اور دھیمی ہوں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس روز ویسے ہی شعاعوں میں تیزی اور چمک کم ہو… اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس علامت سے قطعی طور پر لیلۃ القدر کا تعین کیا جا سکتا ہے؟
حضرت اُبی بن کعبؓ نے اول تو اپنے اجتہاد سے یہ رائے قائم کی کہ چوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ علامت بتائی ہے اور فلاں تاریخ کو (جو ستائیسویں تھی) میں نے یہ علامت دیکھی ہے اس لیے ضرور یہ سائیسویں تاریخ ہی لیلۃ القدر کی تاریخ ہوگی، حالاں کہ کسی اور تاریخ کو بھی سورج نکلنے کی یہ کیفیت ہوسکتی تھی۔ دوسرے یہ کہ خود لا شعاع لھا کے الفاظ بھی اس بات کا قطعی طور پر تعین نہیں کرتے کہ سورج کے طلوع ہونے کی کس کیفیت کا نام لاشعاع لھا ہے۔ اس بنا پر بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمیشہ کے لیے ستائیسویں تاریخ کا تعین کردیا جائے۔ یا کسی اور تاریخ کو کھڑے ہوکر ایک آدمی یہ دیکھے کہ آج سورج کی شعاع کیسی پڑرہی ہے اور وہ اپنی جگہ یہ خیال کرکے کہ لاشعاع لھا کی کیفیت ہے، یہ طے کردے کہ آج کی تاریخ وہ خاص تاریخ ہے… یہاں بھی دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت کس طرح پوری ہورہی ہے کہ لوگوں کو یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے۔(کتاب الصوم، نومبر 2000ء۔ ص 270۔271)
لیلۃ القدر کی تلاش
حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی سے (یا اپنے خانۂ مبارک) سے نکلے تاکہ ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دیں۔ اتنے میں دو مسلمان آپس میں جھگڑنے لگے۔ اس پر آپؐ نے ہم سے فرمایا کہ میں تو تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے نکلا تھا مگر فلاں اور فلاں آپس میں جھگڑ پڑے اور اس دوران میں وہ اٹھالی گئی (یعنی اس رات کا علم مجھ سے رفع کرلیا گیا) شاید تمہاری بھلائی اسی میں تھی۔ لہٰذا اب تم اسے 21 ویں یا 23 ویں یا 25 ویں رات کو تلاش کرو۔ (بخاری)
اب تک جتنی احادیث گزری ہیں ان سب پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ کوئی خاص حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے لیلۃ القدر حتمی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتائی، اور آپؐ کو اس بات پر مامور نہیں کیا کہ آپؐ لوگوں کو یہ بتائیں کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے۔
نبیؐ کو زیادہ سے زیادہ جوبات بتانے کی اجازت دی گئی وہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور تم طاق راتوں میں اسے تلاش کرو۔ اس حدیث میں طاق راتوں میں سے بھی تین راتوں کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی 21، 23 اور 25۔ بعض روایات میں 21 سے 29 تک کی طاق راتیں ہیں، اور بعض روایات میں آخری سات دنوں کی راتیں ہیں۔
احادیث کی روایت کرتے وقت چوں کہ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سی حدیث کس تاریخ کی ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سی حدیث ابتدائی دور کی ہے اور کون سی بعد کے دور کی۔ علمائے امت میں جوبات معروف ہے وہ یہی ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام ملائکہ کے ایک جھرمٹ میں اترتے ہیں اور ہر اُس بندے کے لیے دعا کرتے ہیں جو اُس وقت کھڑا ہوا یا بیٹھا ہوا اللہ عزوجل کا ذکر کررہا ہو (یعنی جاگ رہا ہو اور عبادت کررہا ہو)۔ پھر جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے ملائکہ کے سامنے فخر کرتا ہے اور انہیں مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! اس اجیر (مزدور) کی جزا کیا ہے، جس نے اپنے ذمے کا کام پورا کردیا۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! اس کی جزا یہ ہے کہ اس کی مزدوری اسے پوری پوری دے دی جائے۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ اے میرے ملائکہ! میرے ان بندوں اور بندیوں نے اپنا وہ فرض ادا کردیا جو میں نے ان پر عائد کیا تھا۔ پھر اب یہ گھروں سے (عید کی نماز ادا کرنے اور) مجھ سے گڑگڑا کر مانگنے کے لیے نکلے ہیں۔ اور قسم ہے میری عزت اور میرے جلال کی، اور میرے کرم کی اور میری بلند مرتبگی کی، اور میری بلند مقامی کی کہ میں ان کی دعائیں ضرور قبول کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے: جائو میں نے تمہیں معاف کردیا اور تمہاری برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیا… حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر وہ اس حالت میں پلٹتے ہیں کہ انہیں معاف کردیا جاتا ہے۔ (بیہقی)
اللہ تعالیٰ سال کے سال اپنے مومن بندوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتا ہے کیونکہ انہوں نے رمضان میں روزے رکھے اور لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو عبادت کرتے رہے۔ پھر عید کے روز نماز کے لیے نکلے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس کے ہاں سے مغفرت اور مہربانیاں حاصل کرکے پلٹے ہیں۔
(کتاب الصوم، نومبر 2000ء۔ ص 279۔280۔(