اداریہ

لیڈران ووٹروں کو لبھانے میں مصروف

ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں اس ماہ کی 11 تاریخ کو پارلیمانی چنائو کے پہلے دور کی ووٹنگ ہوئی ہے جس میں جموں صوبے سے تعلق رکھنے والے ووٹروں نے کشمیر صوبے کے بارہمولہ پارلیمانی سیٹ کے ووٹروں کی نسبت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس طرح سے جموں میں کشمیر کی نسبت سے مجموعی پولنگ کی شرح بہت زیادہ رہی ہے ۔ تاہم کئی ایک حلقوں کا ماننا ہے کہ بارہمولہ میں اگرچہ پولنگ کی شرح بہت کم رہی تاہم پولنگ سے پہلے اتنی تعداد میں پولنگ شرح ہونے کی بھی توقع نہیں تھی۔2016 کے بعد وادی میں سخت تنائو پایا جا رہا ہے خاص طور سے وادی میں آئے روز جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جس میں تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی اموات ہوتی رہتی ہے اور نوجوانوں کا ملی ٹینسی میں بھرتی ہونے کی بھی خبریں مسلسل آتی رہتی ہیں۔ اس طرح سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کشمیر کی تمام بستی متاثر ہوئے بناء نہیں رہ سکی۔ اتنا ہی نہیں ابھی جبکہ بڑے بڑے سکالروں کا عسکری صفوں میں شامل ہونا اور پھر اُن کی جھڑپوں میں مارے جانے کے بعد ہر کسی کا یہی عندیشہ ہے کہ ریاست میں چنائو کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے تاہم پہلے ہی دور میں سوائے ایک ہلاکت کے پُر امن طور پر پولنگ ہونا ایک خوش آئند قدم ہے۔
پارلیمانی چنائوکے پہلے دور کی ووٹنگ کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران ووٹروں کو لبھانے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ مختلف پارٹیوں کے یہ سیاسی لیڈران ووٹروں کو لبھانے میں کسی بھی طرح کی کمی نہیں رکھتے۔ہر کوئی لیڈر جو اس وقت میدان میں ہے عوام کو سبز باغ دکھانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ آج کل یہ لیڈران عوام سے وہ وعدے بھی کرتے ہیں جو شاید ان لیڈران کے چاہنے کے بعد بھی کبھی پورا نہیں ہونگے۔ کئی ایک لیڈران جان بوجھ کر عوام سے وہ وعدے کرتے ہیں جن کا پورا کرنے کی اُن کی نیت بھی نہیں ہیں۔ گذشتہ الیکشنوں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ لیڈران یہی وعدے کرتے ہیں جو آج کل وہ پھر دہرا رہے ہیں اور کامیاب ہونے کے بعد اقتدار سنبھالتے ہی یہ کہنے میں کوئی دشواری نہیں کرتے کہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ ہر کسی کے مراد پورے کرسکے۔ بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کے بھائونائوں کی بھی قدر کی جانی چاہئے اور جو بھی وعدے کئے جائے اُنہیں نیک نیتی سے نبھانے کی کوشش کیا جائے جس میں لیڈر اورعوام کی بھلائی ہے۔