اداریہ

مارا ماری کب تک؟

پولیس پر جنگجووں کے حملے پچھلے کئی مہینوں سے برابر جاری ہیں۔ اس سے پہلے 2008 , 2010 اور2016کی ایجی ٹیشن کے دوران پولیس کو لوگوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔ ان ایجی ٹیشنوں کے دوران پولیس نے مبینہ طور عوام دشمن رول ادا کیا ۔ اس وجہ سے پولیس عوام کے عتاب کا شکار بنی ۔ اس کے باوجود جنگجووں نے پولیس کو براہ راست نشانہ بنانے سے احتراض کیا ۔ تازہ واقعہ پلوامہ کے تکیہ واگم میں پیش آیا۔ وہاں عدالت پر بندوق برداروں نے اچانک حملہ کیا اور ڈیوٹی پر تعینات تین پولیس اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی ۔ ان میں سے دو موقعے پر ہی مارے گئے اور ان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہوا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو سخت صدمے سے دوچار کیا ۔ اس طرح سے تین اور خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ حالانکہ واقعے کی کسی بھی جنگجو تنظیم نے ذمہ داری نہیں لی، البتہ لشکر طیبہ نے پولیس محکمے میں کام کرنے والے اہلکاروں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک مخالف سرگرمیوں سے دور رہنے کے لئے کہا ہے۔ اس طرح سے آج پہلی بار محسوس کیا جا رہا ہے کہ پولیس جنگجووں کے نشانے پر ہے۔ اس سے پہلے کئی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرکے ان سے ان کے ہتھیار چھین لئے گئے ۔ تکیہ واگم پلوامہ میں پیش آئے واقعہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ حملہ آور پولیس اہلکاروں کے ہتھیار چھین کر بھاگ گئے ۔ ان کا مقصد صرف ہتھیار چھیننا تھا یا اس کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے مقصد سے حملہ کیا گیا ، تاحال معلوم نہ ہوسکا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کرکے اصل حقیقت کا پتا لگانے کی یقین دہانی کی ہے ۔ تاہم اس بات کی توقعہ کم ہی کی جاتی ہے کہ پولیس تحقیقات سے کچھ حاصل ہوگا۔ اس واقعے سے پولیس محکمے کے اندر سخت خوف وہراس پیدا ہوگیا ہے۔ ادھر ایک اور دلدوزواقعہ سرینگر کی پریس کالونی میں اُس وقت پیش آیا جب ایک معروف صحافی، قلمکار، ادیب اور ایڈیٹر سید شجاعت بخاری کو آفس سے نکلتے وقت اپنی ہی گاڑی میں گولیوں کا نشانہ بنایا،حملے میں شجاعت بخاری اور اُن کے دو محافظ جان بحق ہوئے۔ عید سے پہلے ان ہلاکتوں پر سخت رنج وغم کا اظہار کیا گیا ۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پریس کالونی میں اس طرح کا حملہ انجام دیا جائے گا تاہم اب یقین کرنا لازمی بن گیا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی شہری خاص کر پولیس کا کوئی بھی اہلکار محفوظ نہیں ہے ۔ جنگجو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ حملہ کرکے اپنا مقصد حاصل کرسکتے ہیں ۔ پولیس نے ان حملوں کو روکنے کے لئے کس قسم کی حکمت عملی تیار رکھی ہے تاحال کوئی خاص اشارہ نہیں ملا، تاہم پولیس کے خاموش بیٹھنے کی امید بھی نہیں کی جاسکتی ہے ۔ ملی ٹنسی کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ ادھر جنگجو صفوں میں بڑے پیمانے پر نئی بھرتیاں جاری ہیں ۔ اس طرح سے مارا ماری کا سلسلہ فی الحال جاری ہے البتہ رمضان المبارک میں عام شہری یا ملی ٹینٹوں کے مارے جانے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں طرف کی مارا ماری کو ختم کیا جائے اور کب تک اس طرح کی مارا ماری جاری رکھی جائے گی۔ اور اس طرح کی مارا ماری سے کیا حاصل ہوگا؟