سرورق مضمون

محبوبہ مفتی کا درابو کے خلاف سخت اقدام/ حکومت کے بعدکیا پارٹی سے بھی رخصتی ہوگی ؟

محبوبہ مفتی کا درابو کے خلاف سخت اقدام/ حکومت کے بعدکیا پارٹی سے بھی رخصتی ہوگی ؟

ڈیسک رپورٹ
رواں ماہ کی 12 تاریخ یعنی سوموار کو اس وقت وزیراعلیٰ نے دبنگ قدم اٹھایا جب گورنر کو خط لکھ کر ڈاکٹر حسیب درابو کو وزارتی کونسل سے رخصت کرنے کی سفارش کی گئی۔ گورنر سفارش قبول کرتے ہوئے اسی وقت اس اقدام کی توسیع کی ۔ اس طرح سے مالیات کے وزیر درابو کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کابینہ سے خارج کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے پہلے وہ تمام محکمے اپنے پاس رکھنے کا اعلان کیا جو درابو کی تحویل میں تھے۔ اگلے روز یہ اعلان سامنے آگیا کہ وزیرتعلیم الطاف بخاری کو ان محکموں کا اضافی چارج دے دیا گیا ۔ بخاری نے ابھی مالیات کا چارج سنبھالا ہی تھا کہ انہوں نے سابقہ وزیر کا ایک اہم فیصلہ بدل دیا جس میں کئی دہائیوں سے جاری ٹریجری سسٹم بدل کر اس کی جگہ ایک نیا نظام لانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اگرچہ بخاری نے اعلان کیا کہ سابق وزیر کی طرف سے مالی بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز پر من و عن عمل کیا جائے گا ۔ تاہم کئی حلقوں کا کہنا ہے درابوکے ان اقدامات کو رول بیک کیا جارہاہے ۔ ابھی تک پوری صورت حال سامنے نہیں آئی ہے ۔ تاہم کئی حلقے درابو سے وزارت چھیننے کے اقدام کو موجودہ سرکار کا ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں ۔
ڈاکٹر درابو کو اس وقت کابینہ سے رخصت کیا گیا جب انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک بیان دیا ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سرے سے کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے ۔ انہوں نے سامعین سے اپیل کی کہ کشمیر کے سماجی اور معاشی مسائل حل کرنے میں مدد دیں۔ ان کے اس بیان پر وادی میں ہلچل مچ گئی ۔ سیاسی مبصرین نے اسے پی ڈی پی کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنائی گئی پالیسی کے بالکل مخالف قرار دیا ۔ یہاں کے تمام سیاسی حلقوں نے اس بیان پر پی ڈی پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے پارٹی موقف کے برعکس قرار دیا ۔ اس وجہ سے خیال ظاہر کیا جانے لگا کہ پی ڈی پی نے کشمیر پالیسی کو ترک کرکے بی جے پی کے سامنے سرنڈر کیا ۔ شاید اسی وجہ سے پی ڈی پی صدر نے کوئی انتظار کئے بغیر درابو کو وزارت سے باہر کرنے کا اعلان کیا ۔ اس متنازع بیان پر اگرچہ پارٹی میں کوئی بحث و مباحثہ نہ ہوا ۔ درابو کا کہنا ہے کہ اسے کوئی شو کاز نوٹس دیا گیا نہ وضاحت کرنے کا موقع دیا گیا بلکہ ضابطے کی کوئی بھی کاروائی کئے بغیر وزارت سے رخصت کیا گیا ۔ ادھر پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر پیر محمد حسین نے درابو کے اخراج کا خیرمقدم کیا اور اسے خوش آئند قدم قرار دیا۔ حسین کا کہنا ہے کہ ایسے کئی افراد کے خلاف اس طرح کی کاروائی کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے وزیراعلیٰ کے ارد گرد گھیرا ڈالا ہے۔ ان کا اشارہ کن افراد کی طرف ہے وضاحت نہیں کی گئی ۔
ادھر این سی کے سرپرست اور پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے درابو کو وزارت سے نکالنے کا خیر مقدم کیا اور اس کی شاباشی دی۔حکومت میں شامل ایک اور وزیر سجاد لون نے اس فیصلے کی نکتہ چینی کی ۔ لون کا کہنا ہے کہ درابو کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور پی ڈی پی نے جلدی میں فیصلہ لے کر انہیں کابینہ سے رخصت کیا۔ بی جے پی نے اسے پی ڈی پی کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے البتہ ان کے بیان کی حمایت کی ہے ۔ پی ڈی پی کے اندر اس بیان کو لے کر سخت ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ پی ڈی پی کے سابق رہنما اور ایک وقت کے راجپورہ کے ایم ایل اے سعید بشیر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے زوردیا ہے کہ درابو کو وزارت کے ساتھ ساتھ پارٹی سے بھی نکالنا ضروری ہے ۔ یاد رہے کہ سعید بشیر نے راجپورہ سے دوبار الیکشن جیتا تھا اور پی ڈی پی کے بانی رہنمائوں میں سے تھے ۔ لیکن ان کی جگہ درابو کو راجپورہ سے منڈیٹ دیا گیا تو انہوں نے پارٹی سے بغاوت کرکے درابو کے خلاف آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا جو وہ ہار گئے ۔ بعد میں درابو نے پی ڈی پی کی طرف سے بی جے پی کے ساتھ حکومت کے لئے اتحاد بنانے مین اہم رول ادا کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ درابو کی ممبئی قیام کے دوران بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو کے ساتھ دوستی ہوگئی تھی ۔ اس کی جانکاری کی وجہ سے مفتی سعید نے درابو کو رام مادھو کے ساتھ مل کر مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینے کا اختیار دیا ۔ دوستی کام آگئی اور دونوں پارٹیوں نے مل کر حکومت بنائی جو آج تک چل رہی ہے۔ اس دوران کہا جاتا ہے کہ کئی موقعوں پر درابو نے پارٹی لیڈرشپ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کئی ایسے قدم اٹھائے جو لوگوں کے لئے پسندیدہ نہ تھے ۔ بجٹ میں جب اعلان کیا گیا کہ ٹریجری سسٹم ختم کرکے اس کی جگہ نیا PAO سسٹم لایا جائے گا تو اس سے ریاست کے کئی حلقوں میں تشویش پیدا ہوگئی ۔ خاص طور سے ٹھیکہ داروں نے اس پر ناراضگی کا اختیار کیا ۔ درابو کا کہنا تھا کہ اس سے ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت آئے گی اور رشوت پر قابو پایا جاے گا۔ لیکن ٹھیکہ داروں نے اسے پسند نہ کیا اور اس کے خلاف جلسے جلوس کئے ۔ کئی جگہوں پر سرکاری دفتروں پر تالے چڑھائے گئے ۔ اس سے حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھنے لگی۔ کہا جاتا ہے کہ ٹھیکہ داروں کا یہ طبقہ اس وقت حکومت میں شامل کئی وزیروں اور پارٹی کے بہت نزدیک ہیں ۔ اس وجہ سے پارٹی میں درابو کے خلاف ناراضگی پائی جاتی تھی ۔ اسی طرح ممبئی کی کئی کمپنیوں کو مبینہ طور ریاست میں بڑے بڑے ٹھیکے الاٹ کئے گئے اور میٹریل کی درآمد پر تمام قسم کے وہ ٹیکس معاف کئے گئے جن سے ریاست کو آمدنی ملنے کی امید تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس اقدام پر وزیراعلیٰ نے کئی بار اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ لیکن درابو نے ان کی ناراضگی کو کوئی اہمیت نہ دی ۔ اس سے اندر ہی اندر درابو کے خلاف لاوا پکنے لگا جو سوموار کو اچانک پھٹ پڑا ۔ اس دھماکے نے کئی حلقوں میں کھلبلی پیدا کی ۔درابو کا مستقبل کیا ہوگا ؟ اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ درابو کو عنقریب ہی ریزرو بینک آف انڈیا کا گورنر بنانے کی امید ہے ۔ لیکن کئی حلقے اسے ناممکن قراردیتے ہیں ۔ البتہ یہ بات صاف ہے کہ پی ڈی پی میں درابو کا مستقبل زیادہ محفوظ دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ درابو کو پارٹی سے نکالنے سے پارٹی کی عوام میں ساکھ مضبوط ہوگی اس بارے میں لوگوں کے رائے مختلف ہے ۔ این سی کے کارگزار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ درابو کو نکالنے سے پی ڈی پی کے گناہ معاف نہیں ہوسکتے ہیں ۔ تاہم اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ درابو کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پی ڈی پی سے ناراض تھی ۔ اس ناراض طبقے کو خوش کرنا اب آسان ہوجائے گا۔ پارٹی آگے مزید کیا فیصلے لے گی یہ دیکھنا باقی ہے ۔ فی الحال الطاف بخاری کو خزانے کا اضافی چارج دیا گیا ہے ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عوام دوست پالیسیاں بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس سے پارٹی کو کسی حد تک فائدہ ملنے کی امید ہے۔