مضامین

محبوبہ مفتی کا دورِ اقتدار

محبوبہ مفتی کا دورِ اقتدار

 

 

یوسف ندیم

پی ڈی پی صدراور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنا پرانا طریقہ کار ایک بار پھر اختیار کرکے ماضی کی طرح مہلوک ملی ٹنٹوں کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہانے کی روایت شروع کی ہے۔ ایسا طریقہ کار محبوبہ مفتی نے 2014کے انتخابات سے قبل بھی اختیار کیا تھا۔ پھر جب 2015میں اقتدار ملا تو آنسو بہانے کے طریقہ کار کو خیرباد کہہ دیا اور ایکدم کشمیر میں اس حد تک قتل و غارت اور ظلم و ستم کا بازار گرم کرنے کےلئے شریک بن گئی جس سے انسانیت بھی شرمسار ہوئی۔
یاد رہے محبوبہ مفتی کی سرکار آتے ہی کشمیری عوام کو روز نئی مصیبتوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ پوری مدت کے دوران ایک کے بعد ایک نئی مصیبت کا سامنا رہا۔ محبوبہ مفتی کے دور اقتدار کے دوران حالات خراب رہے۔ نہ امن ملا اور نہ چین کا سایہ ہی نصیب ہوا۔ حالانکہ پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط سرکار کا دورانیہ افراتفر کا ثابت ہوا ۔
پی ڈی پی سرپرست اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد ریاست میں سیاسی تعطل برقرار تھا کہ آئے روز کوئی نہ کوئی نئی خبر سننے کو ملتی تھی کہ آخر کب تک نئی حکومت بننے و الی ہے مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے جس کا اعتراف مرحوم مفتی محمد سعید نے وزیراعلیٰ بننے کے فورا بعد کیا کہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے یعنی سیاست میں دوستی اور دشمنی نہیں دیکھی جاسکتی ہے وقت کی نویت دیکھی جا سکتی ہے۔ کل کا دشمن آج دوست بن سکتا ہے اور آج کا دوست کل دوست نہیں رہ سکتا ہے اس لہٰذ سے سیاست میں ہرکچھ ممکن ہے، حالانکہ پی ڈی پی کی سیاست میں یہی کچھ دیکھنے کو ملاہے۔ پہلے پارٹی لیڈران یہاں تک کی مرحوم مفتی محمد سعید نے بھی بی جے پی کو فرقہ پرست جماعت کہہ کر ریاست کے لوگوں کو اُس پارٹی سے دور رہنے کی تلقین کی، اتنا ہی نہیں خود پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے ایک زور دار مہم چلائی جس میں ایک قسم کی بیداری چلائی گئی کہ بی جے پی کو کسی نہ کسی طرح ریاست میں اُبھرنے نہ دیا جائے تاکہ اگر یہ پارٹی ریاست میں اُبھر آئی تو ریاستی عوام کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے مگر وقت آنے پر محبوبہ مفتی کا یہ دعویٰ بھی غلط ہی ثابت ہوا ور اُسی پارٹی سے گٹھ جوڑ کیا جس کے خلاف وہ الیکشن میں ایک زور دار مہم چھیڑ چکی تھیں اور اس طرح سے اپنے مفادات کے خاطر بی جے پی کے ساتھ ہی گٹھ جوڑ کر کے حکومت بنائی۔
نتیجتاً ریاست میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے پر ناراض نظر آنے لگی ۔مرحوم مفتی محمد سعید نے محبوبہ مفتی کو جانشین بنانے کا فیصلہ لیا اور محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ بنانا چاہا اس کو حکومت میں شامل پارٹی بی جے پی نے نکارا اور اس کے کچھ وقت کے بعد ہی مفتی محمد سعید کا انتقال ہوا اور شاید انہیں محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کا ارمان ارمان ہی رہ گیا۔ مفتی محمد سعید کے وفات کے بعد ریاست میں سیاسی تعطل برقرار تھا ایک طرف پی ڈی پی والے خاموش ہے تو دوسری طرف بی جے پی والے اس آش میں تھے کہ انہیں پھر سے اقتدار مل جائیں لیکن خیال یہی کیا جاتا تھا کہ محبوبہ مفتی یہ جانتی ہے کہ ان کی پارٹی کے تئیں بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے پر عوام ناراض ہے اور اس لئے وہ عوام کو پھر سے بھروسہ دلانے کی کوشش میں تھی کہ پی ڈی پی کشمیری عوام کی خیر خواہ ہے۔ اس لئے وہ عوام میں پھر سے اپنا اور پارٹی کا اعتماد بڑھانا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کچھ وقت کےلئے ہٹ دھرم بن گئیں۔ حالانکہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو مفتی محمد سعید کی رحلت کے بعد بی جے پی کے ساتھ ناطہ توڑنے کا موقعہ ملا تھا تب انہوں نے حکمرانی کو ترجیح دے کر اسی پاٹی کو پھر سے گلے لگایا ۔
2016کو کشمیر کے لوگ بہت عرصے تک یاد رکھیں گے۔ قتل وغارت کا جو سلسلہ یہاں 1990 سے چل رہا ہے2016 میں وہ شدت کے ساتھ بڑھ گیا تھا۔
2016 کا ابھی پہلا ہی ہفتہ چل رہا تھا کہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید مختصر علالت کے بعد 7 جنوری کو نئی دہلی کے میڈیکل انسٹیچوٹ میں انتقال کر گئے۔ وزیراعظم نریندر مود ی نے ان کی میت کو سرینگر روانہ کیا۔وزیرداخلہ مفتی کی میت کے ساتھ ان کی آخری رسومات میں حصہ لینے کے لئے سرینگر تک ساتھ آگئے۔
وزیراعلیٰ کا عہدہ خالی ہونے کے بعد محبوبہ مفتی سے فوری حلف اٹھانے کے لئے کہا گیا۔ محبوبہ مفتی بحیثیت وزیراعلیٰ فوراً حلف اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ ریاست کے لئے یہ ساتواں موقعہ ہے جب یہاں ریاست پرگورنر راج نافذ کیا گیا۔ محبوبہ مفتی پر دبائو بڑھنے لگا اور انہیں وزیراعلیٰ بننے کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔ اس دوران محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے میں ناراضگی دکھائی تاہم اپنی ہی پارٹی کے چند ایک ممبران نے ادھر اْدھر کرنا شروع کیا تو مجبوراً محبوبہ مفتی کو دلی کا رْخ اختیار کرنا پڑا، وہاں بی جے پی لیڈران کے ساتھ ملاقات کر کے ریاست کو پائور پروجیکٹوں کی واپسی کے شرط پر حکومت بنانے پر رضا مندی دکھائی تاہم جب محبوبہ مفتی کی یہ مانگ بھی بی جے پی لیڈران نے خاطر میں نہیں لائی تو مجبوراً انہوں نے خالص وزیراعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کے لئے حامی بھر لی تھی، جس کا انہیں محض معاوضہ اور مراعات کے ساتھ میٹنگوں کی صدارت کے علاوہ ربن کاٹنے کے اختیار سمجھائے گئے باقی حکومت کی بھاگ ڈور بھاجپا لیڈروں نے اپنے حد اختیار میں رکھے احکامات اور پالیسی بھاجپا کے پاس ہی تھی۔ اور یوںریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے محبوبہ مفتی اور اْن کی کابینہ کے وزرا کی تقریب حلف برداری 4؍ اپریل سوموار کو جموں یونیورسٹی کے جنرل زورآ?ور سنگھ آڈیٹوریم میں ہوئی ، جس کے ساتھ ہی محبوبہ مفتی کی وساطت سے بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر کی انتخابی تاریخ میں دوسری مرتبہ ملک کی واحد مسلم اکثریت والی اس ریاست میں حکومت کا حصہ بن گئی۔ اس طرح سے محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن گئی۔ اس کے بعد ہی پی ڈی پی کا لوگوں کے اندر شہرت کا گراف بہت ہی نیچے آگیا تھا۔ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے پارٹی لوگوں کی نظروں میں گرچکی تھی۔ اس وجہ سے محبوبہ مفتی کا پہلے ہی وزیراعلیٰ بننے میں تامل تھا، محبوبہ مفتی پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تین مہینے تک ٹال مٹول سے کام لیا۔ حالانکہ محبوبہ مفتی نے اسے پہلے کہا تھا کہ انہیں کرسی سے نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے امن اوروقار کے ساتھ پیار ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا تھاکہ انہیں ایسی کرسی نہیں چاہئے جس پر بیٹھ کر وہ عوام بالخصوص نوجوانوں کیلئے کچھ نہ کرسکے۔
تاہم باضابطہ محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیراعلیٰ حکومت کی بھاگ ڈور کیا سنبھالی اور وزیراعلیٰ کی Desigination کیا حاصل کی کہ 12 اپریل کو ہندوارہ میں اْس وقت صورتحال بگڑ گئی جب ایک فوجی اہلکار نے ایک کمسن طالبہ سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی، وہاں موجود کئی نوجوانوں نے فوجی اہلکار کی نازیبا حرکت پر آواز اٹھائی اور حالت قابو سے باہر ہونے لگی، نوجوانوں نے نازیبا حرکت پر احتجاج کرنا شروع کیا تو احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے گولیاں چلی جس کے نتیجے میں موقعے پر ہی دو نوجوانوں کی موت واقع ہوئی۔ ا?نا فانا چاروں اوور یہ خبر پھیل گئی، حالت مزید بگڑنے لگی۔ اس دوران احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور احتجاجیوں پر پھر سے گولیاں چلیں جس کے نتیجے میں مزید دو نوجوان اور ایک خاتون جان بحق ہوئی۔ اس دوران متاثرہ لڑکی کو حراست میں رکھا گیا اور متاثرہ لڑکی باہر کی حالت سے بے خبر تھی۔ لڑکی کو پانچ جانیں چلے جانے کی بالکل بھی خبر نہ تھی۔ متاثرہ لڑکی کو حراست میں رکھ کر اْس سے ایک بیان دلوانے کے لئے تیار کیا جا رہا تھا جو فوجی اہلکاروں کو بچانے کے حق میں بن جائیں، دوسری اور حکومت نے معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم بھی صادر کیا تھا۔
اس کے بعد وادی میںایک لہر سی چلی کہ ریاست جموں وکشمیر میں مائیگرنٹ پنڈتوں کو الگ سے بسانے اور سینک کالونی کے ساتھ ساتھ نئی صنعتی پالیسی منصوبوں کو عملانے سے ایک طرف اس بات کا خدشہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کو لے کر ریاست میں ایک بڑا لاوا پک رہا ہے جو حکومت کیلئے ایک بڑی چتاونی ہے۔ حکومت ریاست میں سینک اور پنڈت کالنیاں بنانے کے حق میں ہے،جس کا چرچہ ریاست کی اسمبلی میںبھی رہا، اس دوران حزب اختلاف کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سینک اور پنڈت کالنیوں پر سوال اٹھایا تاہم اس کا دفاع کرتے ہوئے اگلے روز بحیثیت وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے قانون ساز اسمبلی میں عمر عبداللہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کبوتروں اور بلیوں کو ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ یعنی کبوتر کشمیری پنڈتوں اور بلی کشمیری مسلمانوں کو محبوبہ مفتی لقب دے چکی تھی۔ علیحدگی پسندوں کی طرف سے ریاستی سرکار کو خبردار کیا گیا کہ حکومت کے ان اقدام سے ریاست میں سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔18 مئی کو لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک نے حیدر پورہ جا کر حریت لیڈر سید علی گیلانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے وقت حریت (گ)کے تمام سرکردہ رہنما وہاں موجود تھے۔ سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو بڑی اہمیت دی گئی تھی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ گذر جانے کے بعد پانپور میں سی ا?ر پی ایف کی گاڑی پر ملی ٹینٹ حملہ ہوا جس میں8 سی ا?ر پی ایف اہلکار مارے اور بیس ز خمی ہوگئے، ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس حملے پر بیان دیتے ہوئے سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے حملوں سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی ہوتی ہے۔ ان کے اس بیان پر اسمبلی میں اپوزیشن نے سخت ہنگامہ کیا۔
سلسلہ آگے بڑھتا گیا عوام کچھ حد تک حکومت کے تئیں بدظن ہونے لگا اور اندر ہی اندر ایک لاوا پکنے لگا کہ عید الفطر کے بعد پتہ نہیں ریاست میں کیا کچھ ہونے والا ہوگا، بہرحال ماہ رمضان گذر جانے کے بعد تیسری عید یعنی8 جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف اور کم عمر کمانڈر برہان وانی کی اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جان بحق ہونے کی خبر کیا آئی کہ پورا کشمیر برہان کی ہلاکت کو لے کر اُبل پڑا۔ ان کی ہلاکت نے پورے کشمیر میں سخت بحران پیدا کیا۔ وادی بھر میں لوگ سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل آئے۔ بڑی تعداد میںلوگ جن میں بچے بوڑھے مرد خواتین شامل رہے، ان کے جنازے میں شرکت کے لئے برہان کے آبائی گائوں شریف آ?باد ترال پہنچ گئے۔ ان کے جنازے میںپانچ لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔ تعزیت کا یہ سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آیا۔ جگہ جگہ جلسے جلوس اور احتجاجوںکا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس حوالے سے کشمیر کی تاریخ کا سب سے طویل ہڑتال کیا گیا۔ برہان وانی کشمیر ملی ٹنسی کو سوشل میڈیا کے ذریعے چلانے کے لئے بہت ہی مشہور تھا۔ اس سے وہ حزب المجاہدین میں درجنوں نئے عسکریت پسند بھرتی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ برہان کشمیر کی نئی نسل کے لئے ایک ہیروقراردیا جانے لگا۔ ان کی ہلاکت کی وجہ سے کشمیر میں تمام کاروبار زندگی ٹھپ ہوگیا اور لوگوں نے حریت قیادت کے تحت آزادی تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ وادی میں ہرقسم کا ٹرانسپورٹ بند ہوگیا۔ سرکاری دفتر مفلوج ہوگئے اور کاروباری سرگرمیاں پوری طرح سے بند ہوگئیں۔ پاکستان نے کشمیر جدوجہد کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی مدد کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے یواین جنرل کونسل میں تقریر کرتے ہوئے برہان وانی کو مجاہد آزادی قرار دیتے ہوئے اسے خراج عقیدت پیش کیا۔اسی دوران اوڑی سیکٹر میں فوجی کیمپ پر فدائین حملہ کیا گیا جس میں19 فوجی مارے گئے۔ بھارت نے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کوقرار دیا اور جوابی حملے کی دھمکی دی۔ اس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر تنائو شروع ہوگیا۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں آگئے۔ جنگ کسی طرح سے ٹل گئی۔ بھارت نے سرجیکل سٹرائیک کرکے سرحد پار لشکر طیبہ کے کیمپ اڑانے اور کئی جنگجو مارنے کا دعویٰ کیا۔پاکستان نے اس کی تردید کی۔ البتہ ہندوستان نے اپنے دعوے کو سچ قرار دیا۔
ادھر وادی میں فورسز نے بے تحاشہ طاقت کا استعمال کر کے متعدد شہری ہلاکتوں کو انجام دیا اور انتظامیہ نے پوری وادی میں لگاتار کرفیو نافذ کیا۔ تقریباً32 دنوں تک لگاتار ہڑتال، کرفیو اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد مجبوراً راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے کشمیر کی صورتحال پر بحث کرنے کی مانگ کی۔ اپوزیشن کی لگاتار مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے 10 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کے مدعو کو لے کر ایک زبردست بحث چھیڑا گیا جس میں اپوزیشن لیڈر اور سابق ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کشمیریوں کے کئی مدعوں کی طرف ایوان کی توجہ مبذول کرائی، تاہم بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور بھارت کو کبھی گولیاں بند کر کے اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا اس دوران ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا ہے بلکہ بھارتی وفاق کے ساتھ اس کے تعلقات دفعہ 370کے تابع ہیں کرن سنگھ نے کہا ’ میرے والد نے تین باتوں پر حامی بھری، اس میں دفاع، مواصلات اور خارجی امور، بھارت نے اسی طرح دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی دستاویزات پر دستخط کئے یہ تمام ریاستیں بھارت میں ضم ہوئی لیکن ریاست جموں وکشمیر ضم نہیں ہوئی۔ اس طرح سے راجیہ سبھا میں کشمیر کے مدعو کو لے کر بحث بھی بے سود نکلا۔
اس دوران 15 اگست کی تقریب کے سلسلے میں انتظامات ہو رہے تھے اور کشمیر میں بھی حسب روایت اس دن15 اگست کی سب سے بڑی تقریب بخشی سٹیڈیم میں منعقد کی جارہی تھی۔ مگر وادی میں نامساعد حالات کے چلتے لگاتار کرفیو رہنے سے عام زندگی ایک طرح سے مفلوج ہو کر رہی گئی۔ عوام حکومت سے شہری ہلاکتوں کو لے کر سخت نالا ں تھا اور عوام جان و مال کی سلامتی کیلئے فکرمند تھا۔ اس دوران37 دنوں کے لگاتار کرفیو کے باوجود بھی15 اگست کی بخشی سٹیڈیم تقریب میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا تقریر بھی کشمیری نوجوانوں کیلئے مزید اشتعال کا سبب بنا۔
ادھر وادی میں لگاتار پیلٹ فائرنگ سے آئے روز یا تو شہری ہلاکتیں ہوتیں یا درجنوں زخمی ہوتے تھے، سنگین صورتحال کے چلتے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وادی میں لگاتار کرفیو، بندشوں اور ہڑتال کے چلتے کشمیر کادو روزہ دورہ کیا تھا، دورے کے اختتام پریعنی لگاتار کرفیو کے 48 دن کے بعد قریباً68 شہری ہلاکتیں اور قریباً دس ہزار لوگوں کے زخمی جن میں سے سینکڑوں افراد بینائی سے بھی محروم ہوئے ، ہونے کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئیں اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں محبوبہ مفتی پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے بجائے خود بولنی لگی اور یوں پریس پر برس پڑی۔ اور زور زور سے چلانے لگی کہ جو لوگ مارے گئے وہ کیا ٹافی یا دودھ لانے کیمپوں پر گئے ، پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ وزیراعلیٰ تو آپ کی اپنی ہے۔ وزیر داخلہ کا دورے کے بعد بھی وادی میں کئی اور شہری ہلاکتوں کے علاوہ سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے، پیلٹ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور حریت قائدین بھی ہڑتال کیلئے احتجاجی کلینڈر مشتہر کرتے رہے۔ اس طرح سے احتجاج کے دوران لوگ زخمی یا جان بحق ہوتے رہیں، جان بحق ہونے والے شہری کی تعداد پھر سو تک پہنچ گیا۔اس طرح سے وادی میں افرا تفری کا ماحول پورے پانچ مہینوں تک بنا رہا، پانچ مہینوں کی ہڑتال سے کشمیر میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اورسرکار پوری طرح سے مفلوج ہوکر رہ گئی۔احتجاج کو ختم کرنے کے لئے پولیس کو میدان میں لایا گیا۔ پولیس نے نیم فوجی دستوں کی مدد سے ہڑتال ختم کرنے کے لئے تشدد سے کام لیا۔ ایک سو سے زیادہ نوجوا ن مارے گئے جو سب کے سب عام شہری تھے۔ پیلٹ گن استعمال کرکے دس ہزار کے لگ بھگ لوگ زخمی کئے گئے اور سینکڑوں شہریوں کو بینائی سے محروم کیا گیا۔اسی طرح چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ تب بھی محبوبہ مفتی ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔ اور اس طرح سے محبوبہ مفتی کا اقتدار سے پہلے اور اقتدار کے بعد کی واضح فرق سامنے آئے اور اور آج ایک بار پھر محبوبہ مفتی پرانی تاریخ دہرانے جا رہی ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار بھی محبوبہ مفتی ریاست کے عوام کو دھوکے کی سیاست سے اپنی طرف مائل کرتی ہیں کہ نہیں؟