نقطہ نظر

مذاکرات کیلئے عمران خان کی پیشکش

پاکستانی وزیرِاعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو خط لکھ کر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ طور پر دوبارہ آغاز کرنے پر زور دیا۔پاکستان میں حکومت بنانے کے بعد سے عمران خان کی جانب سے اپنے بھارتی ہم منصب کو دو طرفہ مذاکرات کی یہ پہلی رسمی تجویز ہے ۔اس دوران ایک اہم پیش رفت کے بطورہندوپاک وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں ملاقات طے ہوگئی تھی تاہم یہ ملاقات اُس وقت منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا جب وادی کشمیر کے ضلع شوپیان میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سامنے آئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی وزیرِاعظم عمران نے اپنے خط میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔خیال رہے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اوربھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج کے درمیان مذاکرات کے امکانات ظاہر کئے گئے تاہم اگلے ہی روز اس ملاقات کے لئے شوپیان میں پولیس ہلکاروں کی ہلاکتیں بریک بن گئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ سشما سوراج نیویارک میں اس ماہ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دوسرے سارک ممالک کے غیر ملکی وزراء کے غیررسمی اجلاس میں حصہ لے سکتی ہیں۔ بھار تی خارجہ وزیر سشما سوراج اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان نیویارک میں ملاقات کے امکان کو اب پوری طرح سے بریک لگ گیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق کنٹرول لائین پر بی ایس ایف اہلکار کی سرکٹی لاش اور کشمیر میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میٹنگ کی منسوخی کاباعث بن گیا۔
یاد رہےپاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے وزیر اعظم عمران خان کے بھارتی وزیر اعظم کو جوابی خط کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم کے مکتوب کا جواب مثبت پیرائے میں دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم کے جذبات کا مثبت جواب دیا جو ایک مثبت اقدام ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خط میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئیں مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں، تاہم اس ضمن میں بھارت کی جانب سے مثبت جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنے خط میں نریندرمودی پرزوردیاہے کہ بھارت اورپاکستان کوکشمیرسمیت تمام دوطرفہ مسائل کاحل تلاش کرنے کیلئے مذاکرات کی راہ اپنانی چاہئے کیونکہ بقول پاکستانی وزیراعظم مذاکرات ہی تمام طرح کے مسائل کوپُرامن طورپرحل کرنے کاواحدراستہ اورذریعہ ہے۔
پاکستانی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ ’میں آپ(مودی) کے جذبات کی تائید کرتا ہوں کہ دونوں ممالک کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ صرف مضبوط تعلقات میں ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کے وزیرِ قانون اور وزیرِ اطلاعات نے نئی دہلی میں سینئر سیاست دان اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی۔اپنے خط میں عمران خان نے سابق بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کی خطے میں امن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ ان ہی کی کوششوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون نتظیم (سارک) میں اہم کردار ادا کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر، سر کریک، سیاچن جیسے تنازعات پر بات کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن قائم کیا جاسکے۔خط میں واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ خطے میں دہشت گردی کے مسائل پر بھی بات کرنے کے لیے تیار ہے۔عمران خان نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے مبارکباد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے خط کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے خط لکھا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے بھیجاگیاخط موصوف کی فتح کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے لکھے گئے خط کے جواب میں لکھا گیا ہے۔
یادرہے جولائی میں عام انتخابات میں فتح کے بعد اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، لیکن انہیں بھارتی میڈیا میں اس طرح دکھایا جاتا ہے جیسا کہ وہ کسی فلم کے سب سے بُرے کردار(ویلن ) ہیں۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں یقین دلایا تھا کہ تعلقات کو بہتر بنانے میں اگر بھارت ایک قدم اٹھائے گا تو پاکستان اس سمت میں دو قدم اٹھائے گا۔تاہم یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عمران خان کی جانب سے خط اور باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش دونوں ممالک کی جانب سے پہلی باقاعدہ پیشکش ہے۔اس دوران ایک اہم پیش رفت کے بطورہندوپاک وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں ملاقات ہونے ہی والے تھے اور یہاں کشمیر میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سامنے آنے کے ساتھ ہی بھارتی خارجہ وزارت نے اعلان کیا کہ ہندوپاک خارجہ سطح کی میٹنگ منسوخ کی گئی ۔خیال رہے سال 2015 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی اہم بات چیت نہیں ہوئی ہے۔