نقطہ نظر

مذاکرات کی بحالی کا عندیہ

مذاکرات کی بحالی کا عندیہ

جموں وکشمیر میں امن وامان کی بحالی کیلئے اعتماد سازی پر مبنی 7نکاتی فارمولہ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا کہ کشمیر میں امن وامان کی بحالی کیلئے اعتماد سازی اقدامات کے علاوہ مذاکرات کا دروازہ بھی کھول دیا گیا ہے اور بہت جلد حالات بہتر ہوجائیں گے۔ایسے میں سات رکنی فارمولہ میں سنگبازوں کو عام معافی کا دائرہ وسیع کرنا، انسانیت کی بنیاد پر نوجوانوں اور طلباء کو زندگی دوبارہ بہتر طریقے پر شروع کر نا، سنگبازوں کے کیسوں کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینا، سنگین جرائم میں ملوث نہ ہونے والے سنگبازوں کے کیسوں کی کتاب بند کرنا، جبکہ نئی سرنڈر پالیسی تیار کرنے کے علاوہ مہاجروں،رفوجیوں اور اور دیگر لوگوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے شکایتی سیل قائم کرنا اور جموں میں مصنوعی جھیل کی تعمیر شامل ہے ۔
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گزشتہ دنوں اعلان کیا کہ جموں وکشمیرمیں امن وامان کی بحالی کیلئے مرکزی حکومت ہر سطح پر کام کررہی ہے اور ایسے میں اعتماد سازی کے اقدامات کیساتھ ساتھ مذاکرات کا دروازہ بھی کھول دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ حالات کو سازگار بنانے کیلئے ہر ممکن سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں جس کیلئے مرکزی حکومت کئی ایک سطحوں پر کام کررہی ہے۔وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ مرکز نے کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے سات نکاتی فارمولہ تیار کرلیا ہے اور اس کا اعلان باضابط کیا جارہا ہے جس میں کئی ایک اعتماد سازی کے تازہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اعتماد سازی کے اقدامات میں سنگبازوں کو عام معافی اور پھر عام معافی کا دائرہ وسیع کرناشامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پہلے ہی سنگبازوں کو عام معافی دینے کی پالیسی کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے اور اس کو پہلے ہی منظور کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ 2نومبر کو پچھلے سال 3685طلباء اور نوجوانوں کو عام معافی سے فائدہ پہنچایاگیا ہے جنہوں نے سنگبازی کے واقعات میں حصہ لیا تھا ۔ ایسے میں مرکزی وزیر داخلہ نے مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کواس سلسلے میں بھی پہلے ہی منظوری دی گئی ہے کہ وہ سنگبازی کے واقعات میں ملوث طلباء کو فائدہ مل سکا ہے۔اس کے علاوہ اعتماد سازی کے دوسرے اقدام کے تحت مرکزی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ باقی ماندہ کیسوں کی جانچ پڑتال کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جس کی سربراہی ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کریں گے ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ امور داخلہ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جو بھی سنگباز سنگین جرائم میں ملو ث نہ ہو جن میں طلباء اور نوجوان شامل ہیں ان کے کیسوں کی کتاب ہی بند کر دی جائے اور ایسے میں انہیں ایک موقعہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم اور روزگار کو پھر سے شروع کر سکیں یا پھر وہ دیگر ریاستوں اورممالک میں تعلیم کے حصول کیلئے جا سکیں اور ان کے اندر نفسیاتی دباو میں کمی لائی جاسکے ۔
داخلہ امور کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ اس طرح کے اعتماد سازی کے اقدامات کو ہری جھنڈی دکھا دی گئی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے میں ریاستی حکومت کو مرکز کی طرف سے یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ نئی سرنڈر پالیسی ترتیب دے جس میں اقتصادی طور پر لوگوں کو باز آبادکاری کے دائرے میں لایا جا سکے اور ایسی پالیسی ترتیب دی جائے جس میں جنگجوئیت کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کو ایسی تربیت دی جاسکے کہ وہ اپنا نیا روزگار بھی کماسکیں اور اپنی زندگی کو بہتر انداز میں جی سکیں۔ اعتماد سازی کے اقدامات میں یہ بات درج کی گئی ہے کہ نئی سرنڈر پالیسی کے تحت مین اسٹریم میں آنے والے نوجوانوں کو باوقار زندگی گذارنے کا موقعہ دیا جا سکے۔ سات نکاتی فارمولہ میں مرکزی وزیر داخلہ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ مائیگرنٹوں ، مہاجریں اور ویسٹ پاکستان کے رفوجیوں کی باز آبادکاری کو لیکر ایک ایڈوائزری بورڈ کی تشکی عمل میں لائیں تاکہ ان کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے ۔ جبکہ جموں میں تلواری اور جگاٹی علاقوں میں مہاجریں کیمپوں کی نئے سرے سے تعمیر کو بھی ہری جھنڈی دی گئی ہے ۔ایسے میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا ہے کہ جموں میں ایک مصنوعی جھیل کی تعمیر کوبھی منظوری دی گئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ان اعتماد سازی کے اقدامات کے علاوہ ریاست میں امن بحالی کیلئے مذاکراتی عمل بھی بحال کر دیا گیا ہے اوراس سلسلے میں مذاکرات کار کی نامزدگی کو بھی عمل میں لایاگیا ہے ۔مرکزی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار کی نامزدگی کو لیکر وزیراعظم نے منظوری دی ہے جس کا مقصد کشمیر میں امن بحالی کیلئے مذاکرات کے دروازے کو کھلا رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ کشمیر میں امن وامان کی بحالی کیلئے مذاکرات کیساتھ ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات بھی اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کے دل ودماغ کو جیتا جا سکے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں امن بحالی مرکزی حکومت کی ترجیح رہی ہے اوراس موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے کہ امن بحالی کیلئے جو کوئی بھی مذاکرات کیلئے آگے آئیگا اس کیساتھ بات چیت کی جائیگی ،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندری مودی نے بھی صاف کر دیا ہے کہ کشمیر میں مذاکرات کے حامی لوگوں کیلئے مرکز کا دروازہ کھلا ہے اور ایسے میں آئین ہند کو بنیاد بنا کر بات چیت کی جائیگی اوراس سے کسی کو انکار نہیں ہوگا ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ امن بحالی کیلئے یہ لازمی ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب اور مذاکرات کار کی تجاویز کا خیر مقدم کیا جا سکے اور ایسے ہی ان تجاویز پر عمل درآمد ہورہا ہے جس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں۔