نقطہ نظر

مسئلہ کشمیر حل کیلئے اقوام متحدہ میں ثالثی کی ایک بار پھر تجویز

گذشتہ دنوںاقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں کشمیر مسئلے پر ہندوپاک مندوبین ایک بار پھر لڑ پڑے،اقوام متحدہ میں کستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی نے کشمیر پر ثالثی کرنے کی اقوام متحدہ کو تجویز پیش کر دی جس پر بھارتی مندوب آگ بھگولا ہوگیا اور اکبرالدین نے پاکستان کی نئی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ کشمیر مسئلے پر سیاست کاری کے بجائے ساوتھ ایشیا کو تشدد اور دہشت گردی سے پاک بنانے میں اپنا تعاون پیش کرے ۔ اس طرح سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی گونج سنائی دی جس کے دوران ہندوپاک مندوبین کے مابین جم کر لفاظی جنگ ہوئی ۔اس سلسلے میں پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے کشمیر کو لیکر بھارت پر جم کر تنقید کی اور کہاکہ بھارت کشمیر میں ناکام ہوگیا ہے اور وہ جبری طور پر وہاں قابض ہے اور نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے۔ ملیحہ لودھی نے عالمی برداری کو کشمیر مسئلے کے حل میں ثالثی کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ جب تک اقوام متحدہ یا دیگر عالمی برداری مسئلہ کشمیر کے حل میں ثالثی نہیں کریگی تب تک کشمیر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان آپسی طورپر باہمی مذاکرات کے ذریعے کشمیر مسئلے کو حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی نئی حکومت کشمیر مسئلے کے حل کیلئے ایک جامع منصوبہ مرتب کررہی ہے اور عمران خان کی سربراہی میں یہ منصوبہ بہت جلد کابینہ میں پیش کیا جائیگا جس کے بعد عالمی برداری کو اس منصوبے سے آگاہ کیا جائیگا ۔اس موقعے پر تنقید کو برداشت نہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی نمائندگی کررہے سعید اکبر الدین نے واضح کر دیا کہ کشمیر مسئلے پر پاکستان کی نئی حکومت کو سیاست کاری کے بجائے عملی طورپر پورے برصغیر کو تشدد اور دہشت گردی سے پاک کرنے میں تعاون پیش کرنی چاہئے اکبر الدین نے کہاکہ پاکستان کی سرزمین سے پورے خطے کیلئے دہشت گردی ابھر رہی ہے ۔لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی نئی حکومت کسی بھی طرح سے سیاست کاری کے بجائے ایک پر امن ،مستحکم ، محفوظ ،اور ترقی یافتہ برصغیر کی تعمیر کرنے کیلئے اپنا تعاون پیش کریگی ۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر حال میں کشمیر میں دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا۔
ا قوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کھل کر کشمیر مسئلے پر بحث ہوئی جس کے بعد اکبر الدین نے صاف کر دیا کہ پاکستان اب عالمی برداری میں کشمیر کو لیکر اپنی پوزیشن کھو رہا ہے لہٰذا وہ ہر روز نئے بیانات اور الزامات بھارت کیلئے تیار کرلیتا ہے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب نے ایک مرتبہ پھر کشمیر پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت پر زبردست الزامات عائد کئے اور انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ بھارت نے پاکستان پر فرضی سرجیکل سٹرائیکس کا جھوٹ پھیلایا حالانکہ زمینی سطح پر کسی بھی جگہ سے کوئی سٹرائیک نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس طرح کا کوئی مشکل فیصلہ بھارت لے سکتا ہے اور نہ ہی بھارتی فوج پاکستانی علاقوں میں گھسنے کی جرات کر سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اندر بھی بھارت دہشت گردی پھیلا رہا ہے کیونکہ جگہ جگہ پر فوج کی طرف سے لوگوں کو مختلف بہانوں سے ہراسان کیا جارہا ہے ۔اس کے علاوہ جگہ جگہ پر فوج نوجوانوں پر گولیوں اور پیلٹ گن کا استعمال کر رہی ہے جس کی وجہ سے بے گناہوں کاخون بہایا جارہا ہے ۔ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف پر درست ہے لیکن بھارت موقف بدل رہاہے کیونکہ کبھی وہ بین الاقوامی دبائو کی تاب نہ لاکر اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتا ہے تو کبھی اس کو اٹوٹ انگ کہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت کے قول و فعل میں ہی تضاد ہے ۔ اگر اس طرح کی صورتحال ہے تو پھر بھارت کس طرح کے مذاکرات کی دلیل پیش کرتا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ بھارت ہمیشہ سے ہی کشمیر کو لیکر مذاکرات کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن پاکستان اس سلسلے میں نیک نیتی سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستان کو دہشت گردوں کی فیکڑی قرار ردے رہا ہے لیکن پاکستان بھارت میں سے ہی نکل کر آیا ہے تو سب سے پہلے بڑھی فیکڑی کو ہی بند کردینا ہوگا کیونکہ اصل فیکٹری بھارت ہی ہے ۔
ملیحہ لودھی نے کہاکہ کشمیر میں لوگوں کے اندر خوف وہراس پھیلانے میں بھارتی فوج ملوث ہے اور اس فوج کو بھارت ہر طرح سے دفاع کر رہا ہے ۔ تاہم سرجیکل سٹرائیکس کے حوالے سے ملیحہ لودھی نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت بھارت نے دکھائی تو اس کے ایسے رد عمل دکھائی دے گی کہ بھارت کی نسلیں یاد رکھ سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں دونوں ممالک کو اس حقیقت کو تسلیم کرناہوگاکہ کشمیر ایک حل طلب تنازعہ ہے اوراس سے راہ فرار کا کوئی موقعہ نہیں ہے اور نہ ہی طاقت کے بل پر کشمیریوں پر دہشت پھیلانے سے اس مسئلے سے فرار حاصل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی پر پاکستان خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہے بلکہ اسکا بھر پور جواب دیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ آبادی والے علاقوں میں بھی بھارتی فوج کی بمباری جاری ہے جس میں بے گناہ اور معصوم افراد کو ہلاک کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بھارت کی جانب سے دی جانی والی دھمکیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بھارت ہمیشہ سے ہی جارحیت کا موڑ بنانے پر تلا ہو اہے ۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کشمیر میں حراستی ہلاکتوں اور عوام کو موت کے گھاٹ اتارنے کے اپنی کالی کرتوت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے لیکن بھارت کی اس جارحیت کو اقوام متحدہ کی نوٹس میں لایا گیا ہے اوراس سلسلے میں انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل کو ایک ڈویزیر بھی پیش کر دیا ہے جس میں کشمیریوں پر مظالم کی تصویر کھینچی گئی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ فوری طورپر کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کو بند کرائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں بھیانک جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اوران کو چھپانے کیلئے یاتو وہ دہشت گردی کا سہارا لیتا ہے یاپھر کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کررہا ہے جس سے اس کو اب کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس دران انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ کافی زیادہ ہورہا ہے جس میں کسی بھی طور پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اس دوران بھارت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی مندوب سعید اکبر الدین نے نے پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے الزاامات کو سرے سے ہی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ یکطرفہ آواز ہے جو بھارت پر اثرا نداز نہیں ہوسکتی ہے ۔انہوں نے پاکستانی مندوب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر پاکستان کی چیخ وپکار بے معنی ہے کیونکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور رہیگا لہٰذا پاکستان بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے تو بہتر ہوگا لہٰذا پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور تشدد میں کمی کرنے کیلئے اقدامات کرے جس کی وجہ سے کشمیر کے اندر آج بھی حالات خراب ہوجاتے ہیں اور بعد میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے بھارت کو کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔