خبریں

مشترکہ مزاحمتی قیادت کی نئی دلی روانگی پر حکومت کی روک

کشمیر میڈیا نیٹ ورک
مشترکہ مزاحتمی قیادت کی نئی دلی میںاین آئی اے ہیڈکوارٹر روانگی پر روک لگاتے ہوئے ہفتے کو شہر کے6پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی سخت بندشیں عائد کرکے محمد یاسین ملک کو گرفتار جبکہ سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کردیا گیا۔آئی جی پولیس منیر احمد خان کے مطابق یہ اقدام لوگوں کو اجتماعی صورت میں متحرک ہونے سے روکنے کیلئے اٹھایا گیا جبکہ میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مزاحتمی لیڈران کو این آئی اے کا’’ڈرامہ‘‘ بے نقاب کرنے سے باز رکھنے کیلئے دلی جانے سے روک دیا گیا۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق مشترکہ مزاحتمی قیادت نے وادی میں قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی طرف سے مزاحتمی لیڈران، تاجروں اور دیگر لوگوں کے خلاف جاری چھاپہ مار کارروائیوں اور انہیں پوچھ تاچھ کیلئے بار بار دلی طلب کئے جانے کے خلاف احتجاج کے بطور سنیچر کو نئی دلی جاکر ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پر خود کو گرفتاری کیلئے پیش کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔اس ضمن میں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دلی روانہ ہونے کا باضابطہ پروگرام بھی مرتب کیا تھا۔تاہم اس اعلان کے پیش نظر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے جمعہ کی شب سے ہی پائین شہر کے حساس علاقوں کو اپنی تحویل میں لینے کا عمل شروع کیااور لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندیاں عائد کیں۔اگر چہ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے مزاحتمی لیڈران کے دلی جانے پر کوئی پابندی نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔تاہم حکام کو خدشہ تھا کہ لیڈران کی دلی روانگی کے موقعے پر لوگوں کوجامع مسجد یا کسی اور علاقے میں اجتماعی صورت میں جمع کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں امن وقانون کا مسئلہ پیدا ہونے کا احتمال ہے۔چنانچہ ضلع انتظامیہ نے شہر کے6 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کیں۔ان میںپولیس اسٹیشن نوہٹہ،،مہاراج گنج،رعناواری،خانیار ، صفاکدل اور مائسمہ شامل ہیں جبکہ دیگر کئی پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں پولیس اور فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔مذکورہ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے بیشتر علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو اہم سڑکوں،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ ناکے بٹھائے گئے تھے۔سرکاری طور پر ان علاقوں میں دفعہ144کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہے تاہم مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا گیا او ر گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت مکمل طور مسدود کھی گئی۔کے ایم این نمائندے نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث سے شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں دن بھر ہو کا عالم رہا۔ امن و قانون کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے اور مجموعی طور پر پائین شہر کے لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا ۔اس دوران مزاحتمی لیڈران کو دلی روانہ ہونے سے روکنے کیلئے ان کی نقل و حرکت بھی مسدود کردی گئی۔حریت کانفرنس(ع) کے ترجمان نے کے ا یم ا ین کو بتایاکہ حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی نگین رہائش گاہ سے جمعہ کی سہ پہر تین بجے پولیس کا پہرہ ہٹادیا گیا تھا لیکن رات ساڑھے دس بجے یہ پہرہ دوبارہ بٹھادیا گیا اور میر واعظ کو پھر سے گھر میں نظر بند کیا گیا۔دوسری جانب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کو کچھ گھنٹوں کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ملک کو کئی دنوں کی نظر بندی کے بعدجمعہ کی صبح ہی سینٹرل جیل سرینگرسے رہا کیا گیا تھا، تاہم فرنٹ ترجمان کے مطابق نصف شب کو پولیس نے چھاپہ ڈال کر انہیں دوبارہ حراست میں لیا جس کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر سینٹرل جیل میںنظر بند کردیا گیا۔قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین سید علی گیلانی بدستور اپنی حیدر پورہ رہائش گاہ پر نظر بند ہیں اور ان کے گھر کے باہر پولیس کا سخت پہرہ ہے۔ کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق مزاحتمی قیادت کی نظر بندی کے بارے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان نے بتایا کہ پولیس کو اس بات کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ علیحدگی پسند لیڈران دلی روانگی کے سلسلے میں ایک ریلی نکالنے والے ہیں اوراس کیلئے لوگوں کو اجتماعی صورت میں متحرک کیا جارہا تھا، اسی وجہ سے انہیں احتیاطی طور نظر بند رکھا گیا۔انہوں نے کہا’’ وہ انفرادی طور کہیں بھی جانا چاہتے تو جاسکتے تھے لیکن یہ لوگ سرینگر میں معمول کی زندگی درہم برہم کرنا چاہتے تھے ، اسی لئے امن و قانون کو برقرار رکھنے کیلئے ان کو نظر بند کیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا ’’اگر یہ لوگ معمول کی مسافروں کی طرح کہیں بھی جانا چاہتے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا ، ہم ان کو ریلی منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، انہیں امن و قانون میں رخنہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا‘‘۔آئی جی کشمیر نے واضح کرتے ہوئے کہا’’یہ لوگ امن و قانون کا مسئلہ پیدا کرکے تشدد بپا کرنا چاہتے ہیںجس کی ان کو کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جاسکتی‘‘۔ اس دوران میرواعظ عمر فاروق نے اپنی اور دیگر مزاحمتی لیڈران کی نظر بندی کو لیکر سماجی نیٹ ورک ٹویٹر پر شدید رد عمل کااظہار کیا۔انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا’’یاسین جیل میں، گیلانی صاحب اور میں خانہ نظر بند ، ہمارے گھروں کی طرف آنے والے راستے سیل ہیں، کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے ، ایسا صرف ہمیں این آئی اے کا ڈرامہ بے نقاب کرنے سے روکنے کیلئے کیا گیا ہے‘‘۔