اداریہ

معاشرے کا بگڑتا رجحان تشویشناک

آج کل غیر مسلموں میں جہاں گھر والی اور باہر والی کا چلن عام ہے، اپنے شہر میں ایک اور باہر کی دنیا میں اور کسی کے چکر میں پریشان رہنا۔جناب کی حرکتیں آخرپگلوں کی جیسی کیوں ہوتی ہیں۔ان پگلوں کی طرح جو عاشقی میں مشوقہ کے چکر میں دنیا بلا دیتے ہیں، دنیا سے پرے سڑک پر چلتی، گاڑی میں بیٹھے اور سڑک کراس کرتے ہوئے مشوقہ کے حسین خوابوں میں کھوئے رہتے ہیں۔ ان جناب کا بھی یہی حال ہے مگر کمال یہ ہے کہ اپنے دوست ان کو ایک مخصوص نام سے پکارتے ہیں۔سنیچر کی شام 5بجے یہ صاحب دوستوں سے پرے اور کافی دور ایک سکول استانی سے باتوں میں مصروف تھے۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد ہم سے رہا نہ گیا کیونکہ صاحب بڑی مسکراہٹوں کے ساتھ محترمہ کے ساتھ باتوں میں محو تھے۔ جوں ہی میں صاحب کو تنگ کرنا شروع کردیا تو عاجزی کرنے لگے کہ میں انہیں تنگ نہ کروں تو اسی وقت میرے ذہن میں خیال آیا کہ جناب تو شادی شدہ ہے اور آج کل گھر والی ہونے کے باوجود باہر والی کے چکر میں لگے ہیں کسی شاعر نے سچ ہی کہا ہے’’برا مت مان اتنا حوصلہ اچھا نہیں لگتا ،یہ اٹھتے بیٹھتے ذکر وفا اچھا نہیں لگتا‘‘جناب کی گھر والی پر مجھے ترس آیا کہ وہ بچاری گھر میں جناب کیلئے کھانی پکانی، کپڑے دھوتی اور بستر بچھاتی مگر بیچاری کو کیا پتا کہ صاحب کسی اور کے چکر میں ادھر اُدھر بٹک رہا ہے اور اپنے ہی بچے کی سکول ٹیچر کے ساتھ طوطے کی طرح کچھ بول رہا تھا، صاحب باہر والی کی چکر میں کیوں نہ پڑیں کیونکہ دن بھر گرمائی دارحکومت میں حسینائوں کو دیکھتے دیکھتے کوئی بھی پگلا جائے ۔ یہاں تو اس جناب کا ذکر کرنا پڑا ،مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سماج میں کافی حد تک بُرائی پھیل رہی ہے اور ہماری اس ریاست خاص کر وادی کشمیر جو کہ ریشیوں اور منیوں کی وادی کہلاتی ہے میں اس حد تک خرابی پھیلنا بڑی تشویش کی بات مانی جاتی ہے ، یہاں اندازہ یہی لگایا جاتا ہے کہ حقیقت جو بھی ہو مگر کشمیری سماج میں گھر والی باہر والی کا چکر مردوں میں زور پکڑ رہا ہےکیونکہ گھروں میں کیبل ٹی وی کے ذریعے آنے والے ڈراموں اور فلموں میں گھر والی باہر والی کی کہانیاں دیکھائی جاتی ہیں جو سماج پر گہرے اثرات مرتب کررہے ہیں اور ہمارا شہر بھی اسی کا شکار ہورہا ہے۔گھر والی اور باہر والی کے چکر ہی کشمیر میں کئی بسے گھروں کو اجاڑ دیا ۔ ان باہر والیوں کے چکر میں کئی گھروں کے تانے بانے بکھر گئے ،کیونکہ باہر والی کے چکر میں نہ صرف مرد حضراب مبتلا ہورہے ہیں بلکہ شادی شدہ خواتین بھی باہر والے کیلئے سج کر جاننے میں خوشی محسوس کرتیں ۔ گھر والی کتنی ہی بدصورت اور بدسلوک کیوں نہ ہومگر وہ قربانیوں کا مجسمہ ہے جبکہ باہر والی گناہوں کا پتلا ہے۔گھر والی اور باہرکا چکر ہمارے سماجی کو دھیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اس سلسلے میں ہمارے علماء دین خاموش تماشائی بیٹھے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کے ذی حس طبقوں ،خاص کر علماء حضرات کواس طرح کی غیر شعوری فعل کو قابو میں رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔