اداریہ

معاملہ اقتدار کھونے کا!

سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرح پارٹی کے دوسرے لیڈران اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعدبوکھلاہٹ کے شکار ہو رہے ہیں،خود پارٹی صدر محبوبہ مفتی مرکزی سرکار کو سمجھا رہی ہیںکہ اُنہیں اقتدار سے بے داخل کرنے کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اور اُن کی پارٹی کے ساتھ اب چھیڑ چھاڑ کرنے سے بہت سارے مسائل پیدا ہو نے جا رہے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ محبوبہ مفتی یہ باتیں تب کہتی ہیں جب ان کی بادشاہیت چلی گئی تب وہ مرکزی سرکار کو سمجھا رہی ہیں کہ کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ اور کیا کچھ ہونے جا رہا ہے؟جس طرح محبوبہ مفتی کو بادشاہیت کے بغیر طرح طرح کے مشکلات سامنے آنے لگے اسی طرح اُن کے پارٹی لیڈران کو بھی اقتدار کے بغیر چین و سکون میسر کہاں ہوگا؟تب اُن کے خدشات اور ناراضگی کا اظہار بھی جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ پارٹی لیڈران ، جن میں محبوبہ سرکار میں کئی ایک وزیر بھی رہ چکے ہیں آج محبوبہ مفتی پر عدم اعتماد کر رہے ہیں اور محبوبہ مفتی سرکار کو طرح طرح کےلزامات لگا رہے ہیں،ان لیڈران نے محبوبہ مفتی کے خلاف ایک طرح کا محاذ کھولا ہے، ناراض لیڈران نے پارٹی سے اختلاف کے بجائے محبوبہ مفتی کی صدارت سے اختلاف کیا ۔ یہ لیڈران محبوبہ مفتی کے تئیں خاندانی راج کا الزام لگا رہے ہیں حالانکہ یہ بھی الگ بات ہے کہ ناراض لیڈران میں بھی وراثتی طور کچھ ایک لیڈر بن گئےہیں، بہرحال محبوبہ مفتی کے ساتھ خاندانی راج کا اختلاف اُنہیں اقتدار کھونے کے بعد کیوں ہوا؟ اس کا جواب یہی ملا کہ وہ اب بےدار ہوئے ہیں۔ بہرحال سوال کا جواب کیا آیا، اصل سوال کا جواب یہاں کے سبھی ذی حس لوگ جانتے ہیں کہ اقتدار کے بغیر یہاں کے لیڈران کبھی بھی چین و سکون کے ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں۔ اقتدار ہو تو سب کچھ ٹھیک رہتاہے اور اقتدار نہ رہنے کی صورت میں ہمارے لیڈران کو نہ چین ملتا اور نہ سکون میسر ہوتا ہے۔ چین و سکون نہ رہنے کی صورت میںپی ڈی پی کے لیڈرا ن نے آج محبوبہ مفتی کی قیادت پر عدم اعتماد ظاہر کرنے میں کوئی پس و پیش تک نہیں کیا ہے۔