مضامین

منوارڈ اننت ناگ میں حزب کااعلیٰ کمانڈر ساتھی سمیت جاں بحق

گذشتہ روز بدھوار یعنی 29 اگست کو اننت ناگ میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی خونین تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین کے سرکردہ اور دیرینہ کمانڈر جو ایک دہائی سے زائد عسکری محاذ پر سر گرم تھا ساتھی سمیت جاں بحق ہوا جبکہ فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں دومنزلہ مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوا۔ اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی منوارڈ اننت نات اور ملحقہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جس کے دوران فورسز نے بھی احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کا بھی استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں عابد رشید بٹ نامی نوجوانوں پیلٹ لگنے کی وجہ سے بری طرح زخمی ہوا تھا ۔ ادھر جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجو کمانڈر الطاف کاچرو اور اس کے ساتھی کی ہلاکت کی خبر جونہی ان کے آبائی علاقوں میں پہنچی تو یہاں کہرام مچ گیا اور چہار سو نوجوان سڑکوں پر نمودار ہوکر سیکورٹی فوسز پر شدید سنگ باری کی۔ ادھر فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میںکیمو ہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں 80افراد زخمی ہوئے جن میں سے 5نوجوانوں کو جن کی آنکھوں میں پیلٹ کے چھرے پیوست ہوئے ہیں کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس دوران انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنےکے لیے موبائل انٹرنیٹ سمیت سرینگر سے بانہال جانے والی ریل سروس کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
ادھر پولیس نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ منوارڈ میں جاں بحق ہوئے جنگجو عمر رشید وانی ساکنہ کھڈونی کو لگام حال ہی میں بٹہ مالو سرینگر میں ایک جھڑپ کے دوران فورسز کو چکمہ دے کرفرار ہوا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک جنگجو سرینگر اور اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر ہو ئے حملوں میں ملوث تھا ۔اس دوران دو نوں مہلوک جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی ۔
ادھر بتایا جاتا ہے کہ جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد بھی نمودار ہوئی جنہوں نے اپنے ساتھی مہلوک جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہو ئے ہوا میں گولیاں چلائیں ۔
اس دوران حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد سمیت فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقید ت ادا کیا۔ جنوبی کشمیر اننت ناگ کے بونہ پورہ منوارڈ کھنہ بل علاقے میں منگل اور بدھ کی در میانی شب کو فوج اور فورسز نے مشترکہ طور پر ایک مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر علاقے کا سخت محاصرا عمل میں لایا تھا ۔اس دوران فورسز نے علاقے میں موجود جنگجوؤں کو ڈھو نڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ فورسز کی تلاشی پارٹی جوں ہی مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچی تو اس دوران یہاں موجود جنگجوؤں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی جھڑپ کا با ضابطہ آغاز ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بدھ کی صبح 5بجے سے ہی فوج اور جنگجوؤں کے مابین وقفے وقفے سے گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں بنہ پورہ منیو ارڑ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مکمل طور پر سکوت چھایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دن چڑنے کے ساتھ ہی فورسز نے اپنی کاروائی میں تیزی لاتے ہو ئے کھنہ بل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں خار دار تاریں بچھا کر جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا ۔ جس دوران فورسز کی بکتر بند گاڑیوں نے مکان کے نزدیک جاکر بارودی مواد نصب کر کے مکان کو زمین بوس کر دیا تھا ۔بعد میں فورسز نے مکان کے ملبے سے 2جنگجوؤں کی لاشیں بر آمد کی جن میں حز ب المجاہدین کے سرکردہ اور دیرینہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو، معین ولد مر حوم غلام محمد ڈار ساکنہ ہاوورہ مشی پورہ اور ان کے ساتھ عمر رشید وانی ساکنہ کھڈ ونی شامل ہیں یہ بھی بتایا جاتاہ ے کہ الطاف احمد ڈار عرف کا چرو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے عسکری محاز پر سر گرم تھا جس دوران انہوں نے حز ب المجاہدین میں کئی عہدوں پر کام کیا ۔الطاف احمد فی الوقت حز ب کا ڈویژنل کمانڈر برائے جنوبی کشمیر تھا ۔
اس دوران پولیس نے جھڑپ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ منگل اور بدھ کی در میانی شب کو فوج اور ایس او جی و سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر بنہ پورہ منیوارڑ کا محاصرہ عمل میں لایا اورجو ں ہی فورسز اہلکاروں نے مشتبہ مکان کی جانب پیش قدمی کی مکان میں موجود جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پرفائرنگ کی جس کے ساتھ ہی جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہو گیا تھا ۔جھڑپ کے اختتام پر فورسز اہلکاروں نے مکان کے ملبے سے 2جنگجوؤں کی لاشیں بر آمد کی جن میں حزب المجاہدین کا سرکردہ اور دیرینہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو عرف معین شامل ہیں۔ پولیس بیان کے مطابق جھڑپ میں مارا گیا دوسرا جنگجو عمر رشید وانی ساکن کھڈونی گزشتہ سال سے عسکری محاذپر سرگرم تھا جس دوران انہوں نے سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے انجام دیے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر رشید وانی سرینگر اور اننت ناگ میں فورسز اہلکاروں پر ہوئے حملوں میں براہ راست ملوث تھا جبکہ مہلوک حال ہی میں سرینگر کے بتہ مالو علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران سیکورٹی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہوا تھا۔ پولیس بیان کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں سے ہتھیار اور دیگر نوعیت کا گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا۔
دریں اثنا جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی بدھ کی صبح سے ہی مونیوارڈ اور ملحقہ علاقوں میں فورسز کے کڑے پہرے کے باوجود نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکیوں پر آکر احتجاج کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جھڑپ کے مقام کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہاں تعینات فورسز اہلکاروں سے چاروں اطراف سے سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں انتہائی کشیدگی دیکھنے کو ملی تھی۔
ادھر فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے درجنوں گولے اور پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 80افراد زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا تھا۔ فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 5نوجوانوں کی آنکھوں پر پیلٹ کے چھرے پیسوست ہوئے جن کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ اس دوران انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے کولگام اور انت ناگ میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دوران شب ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا ۔
اس دوران مونیوارڈ اننت ناگ میں جھڑپ کے پیش نظر انتظامیہ نے اگلے احکامات تک موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ادھر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل حکام نے بھی سرینگر سے بانہال تک ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ادھر مہلوک جنگجوؤں کی نعشوں کو جونہی اپنے آبائی علاقے کھڈونی اورہاوؤرہ پہنچایا گیا تو یہاں لوگوں نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ کھڈونی اور ہاؤورہ میں بدھ کی صبح سے ہی حالات کشیدہ رہے جس دوران یہاں تجارتی، تعلیمی اور عوامی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ مونیوارڈ جھڑپ میں پھنسے جنگجوؤں کی خبر بدھ کی صبح جونہی آبائی علاقوں میں پہنچی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران یہاں ٹریفک کی نقل و حمل مکمل طور پر بند ہوگئی تھیں۔ اس دوران نوجوانوں نے یہاں تعینات فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے بعد یہاں تناؤ میں مزید شدت بڑھ گئی۔ ادھر سہ پہر کو جونہی جنگجوؤں کی نعشیں اپنے آبائی علاقوں کو پہنچائی گئی تھی تو یہاں کہرام مچ گیا جس دوران لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔ اور اس دوران جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد بھی جلوس جنازہ میں شامل ہوئی اور ہوائی فائرنگ کر کے جان حق جنگجوئوں کو خراج ادا کیا تھا۔اس دوران حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد سمیت فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقید ت ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمانڈر الطاف احمد ڈار عرف کاچرو اور عمر رشید وانی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا یہ گرم گرم لہو ایک دن ضرور انقلاب برپا کرے گا اور غلامی کا دور اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ ڈپٹی سپریم کمانڈر سیف اللہ خالد اور فیلڈ آپریشنل کمانڈر محمد بن قاسم نے بھی اپنے پیغامات میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شہیدوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق گذاری اور اپنا مقدس لہو تحریک آزادی پر قربان کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انشاء اللہ ان قربانیوں کے طفیل ہی ہماری محکوم و مظلوم قوم بھارتی تسلط سے آزاد ہوگی۔