سرورق مضمون

منی لانڈرنگ کیس میں چارج شیٹ داخل / سیدصلاح الدین اور حافظ سعید ملزم قرار

منی لانڈرنگ کیس میں چارج شیٹ داخل / سیدصلاح الدین اور حافظ سعید ملزم قرار

ڈیسک رپورٹ
مرکزی تفتیشی ادارے NIA کی طرف سے درجن بھر علاحدگی پسند لیڈروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا گیا ۔جن ملزموں کے خلاف چارج شیٹ پیش کیا گیا ان میں جماعۃ الدعوہ کے رہنما حافظ سعید اور جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین اور ان کا بیٹا بھی شامل ہے ۔ ان لیڈروں پر الزام ہے کہ انہوں نے بیرون ریاست فنڈز حاصل کرکے ملک دشمنی کے لئے استعمال کئے ۔ بارہ سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ جمعرات کو پٹیالہ ہائوس کورٹ میں پیش کیا گیا ۔ ملزموں کے خلاف باضابطہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کرکے بہت ساری رقم وصول کیا اور کشمیر میں افراتفری پھیلانے پر خرچ کی ۔ NIA کی طرف سے پیش کئے گئے وکیلوں اور دوسرے کئی آفیسروں نے موقعے پر تمام ملزموں کے خلاف الزامات کی تفصیل پیش کی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مصدقہ ثبوت ہیں کہ ملزم دہشت گردوں کو استعمال کرنے کے لئے انہیں پیسے فراہم کرتے تھے اور وہ ریاست میں ایجی ٹیشن چلانے میں ملوث رہے ہیں ۔ حریت کانفرنس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ NIA کو مرکزی سرکار ریاست میں آزادی کی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کررہی ہے ۔ متحدہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے ردعمل میں کہا گیا کہ ریاست میں پرامن تحریک چل رہی ہے جو کسی کے کہنے یا مالی امداد کرنے کے بجائے یہاں کے عوام اپنے ذریع سے چلارہے ہیں ۔ انہوں نے چارج شیٹ میں لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا اور اسے ایک خودساختہ کہانی قرار دیا۔
مرکزی تفتیشی ادارے کی طرف سے جن ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ان کو پچھلے سال مختلف موقعوں پر گرفتار کرکے دہلی کے تہاڑ جیل پہنچادیا گیا ۔ وہاں ان پر مبینہ طور سختی کی گئی جس سے ان کے اہل خانہ میں سخت تشویش پھیل گئی ۔ بعد میں انہیں کورٹ میں پیش کیا گیا اور ان کے ساتھ انسانی سلوک رو رکھنے کو کہا گیا ۔ گرفتار کئے گئے افراد میں معروف علاحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی کا داماد الطاف شاہ، ان کا دست راست بشیر بٹ اور پارٹی کے کئی دوسرے عہدے دار شامل ہیں ۔ اسی طرح سید صلاح الدین کا بیٹا بھی ملزموں میں شامل ہے ۔ NIA نے بارہ افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا ۔ ان میں پہلے سے گرفتار کئے گئے دس افراد کے علاوہ پاکستان میں مقیم سید صلاح الدین اور جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید بھی شامل ہیں ۔ چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات ملازم کافی وقت سے ملزموں کے ساتھ رابطے میں تھے ۔ اگرچہ ان کے نام نہیں لئے گئے ہیں تاہم کہا گیا ہے کہ ادارے کو ان کے ناموں سے متعلق پوری تفصیل معلوم ہے ۔ البتہ کہا گیا کہ ان ملازموں نے ملزموں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے پیسے فراہم کئے ۔ اس بات پر کئی لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ معروف علاحدگی پسند رہنمائوں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کے خلاف کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے ۔ اس کے بجائے سیدصلاح الدین اور حافظ سعید کو ملوث ٹھہرایا گیا ہے ۔ تفتیشی دارے کی طرف سے کہا گیا کہ ان لیڈروں کے خلاف تحقیقات جاری ہے اور ثبوت جمع کئے جارہے ہیں ۔NIA کی طرف سے کیس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا کہ ثبوت جمع کرنے کے لئے 60جگہوں پر چھاپے ڈالے گئے ۔950 دستاویزات تحویل میں لی گئیں ۔ مقدمے میں 300گواہوں کو شامل کیا گیا ہے ۔ الزامات کی جو تفصیل سامنے آئی ہے اس کے مطابق ملزموں کو ریاست میں ایجی ٹیشن چلانے کے لئے پروٹسٹ کلینڈر شایع کرنے کا ذمہ دار بتایا گیا ہے ۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کام کے صلاح الدین اور حافظ سعید سے براہ راست رہنمائی لی جاتی تھی۔ یہ سارا کام ریاست میں افراتفری پھیلانے کی غرض سے کیا جاتا تھا ۔ سب سے بڑا دعوی یہ کیا گیا ہے کہ ادارے کو اس بات کے لئے ٹھوس ثبوت ملے ہیں کہ یہ ملزم ، حریت رہنما اور سنگ بازایک دوسرے کے ساتھ تال میل رکھ کر کام کرتے تھے ۔ اس سارے کام کو بیرون ملک حاصل کی گئی فنڈنگ کے ساتھ جوڑا گیا ہے ۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سارا گروہ ایک دوسرے سے مل کر حوالہ کے ذریعے رقم حاصل کرتا تھا ۔ الزام لگایا گیا ہے کہ حوالہ سے رقم وصول کرنے اور اسے تقسیم کرنے میں ظہور احمد شاہ وٹالی کا ہاتھ رہاہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرحد کے آر پار جاری تجارت کے ذریعے سے بھی کافی رقم حاصل کی گئی ہے ۔ تفتیشی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ کئی جعلی اور فرضی کمپنیاں وجود میں لاکر ان کے نام پر رقو م جمع کی گئیں ۔ یہی رقم بعد میں شورش کے لئے استعمال کیا گیا ۔
مرکزی تفتیشی ادارے کی طرف سے علاحدگی پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون اس وقت کیا گیا جب کشمیر میں بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن بڑی مشکل سے قابو میں کی گئی ۔ یہ ایجی ٹیشن حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت پر شروع ہوئی ۔ مرکزی سرکار کی طرف سے یہ بات زور دے کرکہی گئی کہ ایجی ٹیشن چلانے میں بیرونی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے اور سنگ بازوں کو اس کام کے لئے پیسے فراہم کئے جاتے ہیں ۔ اس ایجی ٹیشن کو ختم کرنے کے لئے پولیس کی طرف سے بڑے پیمانے پر کاروائی کی گئی اور چھ ہزار کے لگ بھگ افراد گرفتار کئے گئے ۔ بعد میں NIA نے حریت لیڈروں کو گرفتار کیا ۔ اس غرض سے الطاف شاہ اور شاہد الاسلام کو گرفتار کیا گیا ۔ اسی طرح ایاز اکبر کو بھی تحویل میں لیا گیا ۔ نعیم خان کے علاوہ بشیراحمد بٹ کو بھی حراست میں لیا گیا ۔ پیرسیف اللہ کے علاوہ راجسامعراج الدین کلوال کے خلاف بھی کاروائی کی گئی ۔ اسی حوالے سے معروف تاجر ظہور وٹالی اور میڈیا سے وابستہ کامران یوسف بھی نرغے میں آئے ہیں۔