نقطہ نظر

مودی دلتوں کے حق میں آواز اٹھائیں

کلدیپ نائر
ہاتھوں میں رنگ برنگے پھولوں کا ایک بہت بڑا گلدستہ تھام کر آر ایس ایس کا چیف موہن بھگوت مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ پر دھاوا بولنے کا ارادہ کر رہا تھا جب صوبے کی وزیراعلیٰ ممتاز بینرجی نے اس ہال کا استعمال منسوخ کر دیا جسے آر ایس ایس نے اپنی تقریب کے لیے بک کروایا تھا‘ اس پر آر ایس ایس نے ہال کی تنسیخ کو غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے ۔گو یہ اعتراض یکسر بے جا نہیں مگر جب ہم مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفرت پھیلانے کا آر ایس ایس کا ریکارڈ دیکھتے ہیں تو ہال کی منسوخی کا اقدام جائز محسوس ہوتا ہے۔
یہ درست ہے کہ ممتا بینرجی کے بعض اقدامات آمرانہ محسوس ہوتے ہیں لیکن آر ایس ایس کے ہال کی منسوخی بلاجواز نہیں لیکن اس کے باوجود میں چاہتا ہوں کہ ممتا بینرجی ایک دوسری آواز کو بلند کرنے کی بھی اجازت دے دیتیں۔ خواہ یہ کتنی ہی تنقیدی کیوں نہ ہوتی۔ دیگر اقدامات میں مسلمانوں اور دوسری پس ماندہ ذاتوں (او بی سی) کو وظائف دینے یا مخصوص مذہبی شخصیات کو خصوصی مراعات دینے کے معاملے کی مخالفت اس لحاظ سے درست ہے کہ یہ بھارت کے جمہوری معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کسی مخصوص کمیونٹی کے لیے کوئی خصوصی رعایت دینے کا اصل مقصد ان کا ووٹ حاصل کرنا ہے جو کہ آر ایس ایس کے اقدامات سے بھی زیادہ غلط چیز ہے۔
بابری مسجد کے منہدم ہونے کے بعد وہاں راتوں رات جو چھوٹا سا مندر تعمیر ہو گیا اس سے لگتا تھا کہ وقتی طور پر یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے لیکن اس سے نہ تو صرف مسلمان مطمئن ہوئے اور نہ ہی یہ ان کے مفاد میں تھا۔ بی جے پی کو آر ایس ایس کی رہنمائی حاصل ہے وہ اسی قسم کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے جب کہ حکومت بھی اجتماعیت کی سیاست کے بجائے ہندوتوا کو فروغ دے رہی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی اس گنجلک فضا کو صاف کرنے کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھا سکتے تھے ان کی پارٹی ایسا نہیں کر رہی کیونکہ اس کا فائدہ تقسیم در تقسیم ہی میں ہے۔ کوئی باہر کا آدمی مداخلت نہیں کر سکتا کیونکہ اس وقت سے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جس کا کہنا تھا کہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ برقرار رکھا جانا چاہیے۔
ایک سیکولر معاشرے کو ہندوتوا میں تبدیل کرنا ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مذہب کسی قوم میں یک جہتی پیدا نہیں کر سکتا جس کی مثال بنگلادیش ہے جو کہ ہم مذہب ہونے کے باوجود پاکستان سے علیحدہ ہو گیا۔ مشرقی پاکستان پر بالجبر اردو نافذ کرنے کے نتیجے میں مشرقی پاکستان نے آزادی حاصل کر لی اور ایک آزاد اور خود مختار جمہوریہ بنگلادیش کی صورت میں نمودار ہو گیا۔ بھارت اس وجہ سے ایک ملک کے طور پر قائم رہا کیونکہ مختلف ثقافتی اکائیوں کو ڈسٹرب نہیں کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ ہندو ملکی آبادی کا 80 فی صد ہیں لیکن مسلمانوں کی اکثریت کو سوائے ایک مختصر متعصب عناصر کے سوا اور کسی نے دھمکانے کی کوشش نہیں کی۔ اگر آر ایس ایس ہندوتوا میں فی الحقیقت دلچسپی رکھتی ہے تو اسے دلتوں کے حقوق کے لیے احتجاج کرنا چاہیے جو کہ ہندو ہونے کے باوجود تمام معاشرتی حقوق سے محروم ہیں۔
یہ درست ہے کہ ان میں سے بعض نے دیگر مذاہب میں پناہ ڈھونڈ کر آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ مسلمانوں یا عیسائیوں میں بھی پوری طرح قبول نہیں کیے گئے اور اپنا مذہب بدلنے کے باوجود ان کے ساتھ اسی طرح کا امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے جس طرح ہندوؤں میں رکھا جاتا تھا۔ آر ایس ایس کے سربراہ جوہندوؤں کے کاز کو بڑھاوا دینے کا دعویٰ کرتے ہیں انھوں نے دلتوں کو زندہ جلانے کے حالیہ واقعے کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ ان کا اپنا تعلق ہندوؤں کی اونچی ذات سے ہے جس کو اس قسم کے افسوسناک واقعات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اب نریندر مودی کو ملک کے نظریات کا بہتر علم حاصل ہو گیا ہے لہٰذا انھیں دلتوں کی مدد کرنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے اونچی ذات والوں پر زور دینا چاہیے کہ وہ دلتوں کے خلاف امتیازی سلوک نہ کریں۔
میں نے مودی یا ان کے پیروکاروں کی طرف سے مذکورہ صورت حال پر کوئی تنقید نہیں دیکھی حالانکہ وہ بھارت کے معاشرے کو ہر قسم کی اونچ نیچ سے پاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کم از کم دلتوں کے زندہ جلائے جانے کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے جس کو بھارت کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل دور درشن پر وسیع طور پر دکھایا گیا ہے لیکن لگتا ہے کہ حکومت خود ہی اس معاملے کو پوری طرح اچھالنا نہیں چاہتی کیونکہ حکومت میں بھی اونچی ذات والوں کی اکثریت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے لگتا ہے جیسے اس بات کا کوئی غیر تحریری اہتمام ہے کہ اس قسم کے واقعات کو ذرایع ابلاغ میں زیادہ نمایاں کوریج نہ دی جائے۔ اگر میڈیا اور دیگر اہم ادارے مکمل طور پر آزاد ہوں تو وہ بہت دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
آر ایس ایس کو یہ جرات ہی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کوئی اقدام کر سکے کیونکہ ہندو ازم کا بنیادی فلسفہ صبر و تحمل اور برداشت کو فروغ دینا ہے نہ کہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا۔ حکمران بی جے پی میں آزاد خیال عناصر کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا جن کا مطالبہ تھا کہ آر ایس ایس کے ساتھ تمام روابط توڑ دیے جانے چاہئیں۔ اگر ایسا ہو جاتا تو حالات بہت بہتر ہو سکتے تھے۔ بی جے پی کا پھیلاؤ اس حوالے سے تشویشناک ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے جذبات کو نظر انداز کرتی ہے۔
مودی کی طرف سے ملکی ترقی کا دعویٰ اس اعتبار سے لوگوں کے لیے قابل قبول ہے کیونکہ اس سے غربت میں کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ مودی کو چاہیے کہ وہ اپنے اس راستے سے انحراف نہ کریں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مودی کی آر ایس ایس اور اس کے بااثر افراد جن میں امیت شاہ بطور خاص شامل ہیں باقاعدگی سے ملاقاتیں مودی کے دعوؤں کی راہ میں حائل ہیں۔ مہاتما گاندھی کے پیروکار جے پرکاش نارائن نے جن سنگھ کے چوٹی کے لیڈروں کو اس بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی پارٹی ختم کر کے جنتا پارٹی میں شامل ہو جائیں لیکن جن سنگھ کے پرانے ارکان مسلسل آر ایس ایس کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے جس کی وجہ سے جے پی کا اصل مقصد فوت ہو گیا۔
اس بات میں زیادہ وقت نہیں گزرا جب آزاد خیال اٹل بہاری واجپائی نے آر ایس ایس اور جن سنگھ کے مابین ہر قسم کے روابط ختم کر دیے لیکن ان کی یہ کامیابی صرف کاغذات تک محدود رہی۔ وہ پرانے اراکین کی وفاداری کو ختم کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایل کے ایڈوانی بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے بی جے پی کی بنیاد رکھی تھی۔
ایڈوانی کا خیال تھا کہ جن سنگھ کے پرانے اراکین پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نئی پارٹی کی تشکیل میں کامیاب ہو گئے اور جن سنگھ کے اراکین کو بی جے پی میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ جے پرکاش نارائن کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ بھارت میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی کانگریس پارٹی کی اب پہلے جیسی اہمیت باقی نہیں رہی۔ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بی جے پی کی بھرپور کامیابی کو روک سکتے ہیں اگر وہ ان تمام پارٹیوں کو جو بی جے پی میں شامل نہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیں تب وہ بی جے پی سے بازی جیت سکتے ہیں۔ ہندوتوا کا جو ’مثبت‘ پہلو پورے بھارت میں پھیلایا جا رہا ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے باعث ترقی کرتا ہوا سیکولر بھارت پس منظر میں نہ چھپ جائے۔ یہ یقیناً ایک قابل فکر مقام ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)