خبریں

مودی کا دور اقتدار مسائب و مشکلات کا ہوا ثابت

مودی کا دور اقتدار مسائب و مشکلات کا ہوا ثابت

بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5سالہ دور اقتدار کو فرقہ پرستی ،عدم رواں داری،غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈ ر غلام نبی آزاد نے خطہ چناب کے کئی علاقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر بھارتیہ جنتا پارٹی لوگوں کوتقسیم کرکے پھر سے اقتدار میں آنے کی خوا ب دیکھ رہی ہے مگر اب کی بار ملک کاعوام بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارادوں کوکامیاب نہیں ہونے دیگا ۔ریاست کی وحدت انفرادت کوکانگریس کے لئے مقدم قرا ردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے لوگ جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں ۔ریاست کے لوگوں کوبہتر سہولیات فراہم کرنا مشکلارت کاازالہ کرنا استحکام کوقائم کرنا کانگریس کی ذمہ داری ہے اور ریاست کے سیاسی سماجی اور اقتصادی حالات کوبہتر بنانے کیلئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جا ئیگا ۔ غلام نبی آزاد نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار کو مسائب و مشکلات کے برس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کاعوام بھارتیہ جنتا پارٹی کی مایوس کن کارکردگی پرنالاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نریند رمودی کے اقتدار کوہاتھ میں لینے کے ساتھ ہی ملک بھرمیں عدم رواں داری منافرت ،بد امنی کاسلسلہ شروع ہوا ۔کہیں گائے کے تحفظ کے نام پر اقلیتوں کو پریشان کرنے کی کاروائیاں انجام دے دی گئی تو کہیں اعلیٰ ذات کی بنیاد پر غریب طبقہ سے وابستہ لوگوں کوزد کوب کرنیکی کاروائیاں بھی انجام دے دی گئی ۔آزاد نے کہا کہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی مذہب کی بنیاد پر لوگوں کوتقسیم کرکے پھر سے اقتدا رکی کرسی پرجلوئے افروز ہونے کاخوا ب دیکھ رہی ہے تاہم ملک کے عوام نے اب کی بار تہیہ کررکھا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کوووٹ کے ذریعے ملک کے اقتدار سے بے دخل کیا جائے گا ۔ انہوں نے نوجوانوں کاعسکریت کی طرف مائل ہونے ،ریاست کی موجودہ صورتحال کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کوزمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ لال قلعے کی تقریر کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھاکہ گولی سے نہ گالی سے بات بنے گی گلے لگانے سے تاہم وزیراعظم نے ریاست کے حالات کوبہتر بنانے کیلئے بات چیت کاسلسلہ ہی منقطع کر دیااور طاقت کے بلبوتے پر ریاست میں امن بحال کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور خود مرکزی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ریاست میں عسکریت پسندوں کی تعداد اب بھی سرگرم ہے۔ آزادنے کہا کہ کانگریس کواقتدار ملا تو ریاست کے لوگوں کوترقی کی منزلوں پرگامزن کرنے ،ان کے مشکلا ت کازالہ کرنے تعمیر وترقی کویقینی بنانے کی طرف خصوصی توجہ دی جائیگی اور ریاست میں امن استحکام قائم کرنے کیلئے بات چیت کاراستہ اختیا رکیا جائیگا