نقطہ نظر

میڈیا کے خلاف مودی حکومت کے ہتھکنڈے

کلدیپ نائر
جب مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) میں این ڈی ٹی وی کے مالکان پر اس مبینہ الزام کے تحت چھاپہ مار کارروائی کی کہ انھوں نے کروڑوں روپے کی رقم کے حصص کی ترسیل چھپا کر ایک نجی بینک کو 48 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ روایتی طور پر ویسا ہی جھوٹا الزام ہے جیسا کہ حکومتیں کسی کے خلاف کارروائی کے لیے لگاتی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی شریک پروپرائٹر رادھیکا رائے کا کہنا ہے کہ ان پر جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایا جارہا ہے۔ میں رادھیکا کی بات سے پوری طرح متفق ہوں کیونکہ میں اس کے ساتھ انڈین ایکسپریس اخبار میں کام کرتا رہا ہوں اور میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث ہو گی جس کا کہ اس پر الزام لگایا جا رہا ہے۔
میرے خیال میں یہ قطعاً من گھڑت الزام ہے۔ رادھیکا اور اس کا شوہر پرونائے رائے دونوں سیلف میڈ لوگ ہیں۔ وہ اس قسم کے ہتھکنڈوں میں ملوث ہونے والے نہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے کوئی تکنیکی فروگزاشت ہو گئی ہو، وہ جان بوجھ کر کوئی غلط کام کرنے والے نہیں لیکن سی بی آئی نے آر آر پی آر ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جس کی ملکیت پرونائے رائے اور اس کی بیوی رادھیکا رائے کے پاس ہے اور اس نے آئی سی آئی سی آئی بینک آف کریمینل کانسپریسی چیٹنگ اینڈ کرپشن کے ادارے کا ایک بے شناخت افسر بھی شامل ہے۔ الزام یہ ہے کہ آر آر پی آر ہولڈنگز نے مبینہ طور پر انڈیا بُلز پرائیویٹ لمیٹڈ سے این ڈی ٹی وی کے 20 فی صد حصص خریدنے کے لیے 500 کروڑ روپے ادھار لیے۔ سی بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ آر آر پی آر نے آئی سی آئی سی بینک سے 375 کروڑ روپے 19 فیصد سالانہ سود ادا کرنے کی شرح پر قرض لیے تاکہ انڈین بُلز کی رقم واپس ادا کی جا سکے۔
تحقیقاتی ادارے کے بقول انھوں نے اپنے جو حصص بطور ضمانت رکھوائے تھے ان کی اطلاع ایس ای بی آئی‘ اسٹاک ایکسچینج اور وزارت اطلاعات و نشریات کو نہیں دی۔ یہ خلاف ورزی مبینہ طور پر بینکنگ ریگولیشن ایکٹ کی دفعہ 19(2) کی خلاف ورزی تھی۔ ٹی وی نیٹ ورک نے کہا ہے کہ قرضے کی ادائیگی کر دی گئی تھی جس کے ثبوت کے طور پر انھوں نے دستاویز بھی پیش کیں اور کہا کہ این ڈی ٹی وی اور اس کے پروموٹرز نے کبھی آئی سی آئی سی آئی یا کسی دوسرے بینک کے قرضے کی واپسی میں ہر گز کوتاہی نہیں کی۔ این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر یہ بیان جاری کر دیا گیا ہے کہ ہم یکجہتی اور خودمختاری کے اعلیٰ ترین معیار کی مکمل پاسداری کرتے ہیں دوسری طرف سی بی آئی نے کہا ہے کہ اس قسم کے بیانات میڈیا کو گمراہ کرنے کی خاطر دیے گئے ہیں۔
نریندرا مودی کی حکومت کافی عرصے سے این ڈی ٹی وی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کیونکہ یہ ان ٹی وی چینلز میں سے ایک ہے جو حکومت کے بارے میں کھری کھری سناتا ہے نیز یہ پہلا موقع نہیں جب حکومت نے اس کے خلاف کارروائی کی کوشش کی ہو۔ پچھلے سال حکومت نے این ڈی ٹی وی کے ہندی چینل پر ایک دن کی پابندی عائد کی تھی کیونکہ یہ بھی ان چند چینلز میں سے ایک تھا جس نے حکومت کی غیرمشروط حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس چینل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کی نشریات پر کچھ عرصے کے لیے پابندی لگا دی تھی کیونکہ اس نے جنوری 2016ء میں پٹھانکوٹ کے فضائیہ کے اڈے پر ہونے والے حملے کی بعض ایسی تفصیلات نشر کر دی تھیں جو حکومت نہیں چاہتی تھی کیونکہ انتظامیہ کے نزدیک ان میں حساس قسم کی اطلاعات شامل تھیں۔
این ڈی ٹی وی نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس کی نشریات سرکاری بریفنگ کے عین مطابق تھیں اور دوسرے چینلز پر بھی یہی تفصیلات دکھائی گئیں جن پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً این ڈی ٹی وی کے نمایندوں نے وزیر اطلاعات و نشریات کے ساتھ ملاقات کی اور انھیں باور کرایا کہ ان کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں کیا جا رہا اور انھی خبروں پر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جو کہ دیگر تمام چینلز بھی نشر کرتے ہیں اور اخبارات میں بھی شایع ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافیوں‘ ایڈیٹروں اور پریس کونسل کی طرف سے این ڈی ٹی وی کے خلاف پابندیوں کو 1970ء میں نافذ کی جانیوالی ایمرجنسی کے مماثل قرار دیا جو پریس کی آزادی کچلنے کی شرمناک کوشش تھی لہٰذا حکومت کو این ڈی ٹی وی کی نشریات پر عائد کردہ پابندی واپس لینا پڑی۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے کہا ہے کہ میڈیا کے کسی شعبے پر حکومت کی طرف سے ایک روزہ پابندی کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مرکزی حکومت کسی خبر سے عدم اتفاق پر بذات خود تادیبی کارروائی کرنے لگی ہے۔ اس پابندی کی حمایت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات وینکیا نائڈو نے کہا ہے کہ پابندی ملکی سیکورٹی کی حفاظت کے لیے لگائی گئی جب کہ اس کے خلاف تنقید کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا اس کے پیچھے سیاسی ہاتھ تھا حتیٰ کہ سی بی آئی نے حال ہی میں جو چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں ان کے بارے میں بھی وزیر اطلاعات و نشریات کا ردعمل وہی تھا۔ انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ پابندی کے پیچھے حکومت کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے صحافیوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ این ڈی ٹی وی کے خلاف کارروائی کس وجہ سے ہوئی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے خود کارروائی کا حکم دیا تھا اور ظاہر ہے کہ اگر اوپر سے ہدایت نہ ملتی تو میڈیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی تھی۔ حکومت مخالفانہ آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے ظالمانہ اقدام کر رہی ہے جب کہ آزادی اظہار کے جرم میں 2005 میں قانون نافذ ہونے کے بعد سے 51 کارکنوں کو سرکاری اشارے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی خبروں میں مودی کی ہندوتوا کی پالیسی پر تنقید کی گئی۔
بی جے پی کے سرکاری ترجمان سمبت پترا نے ایک نشری بیان میں کہا کہ این ڈی ٹی وی کا حکومت کے خلاف باقاعدہ ایک ایجنڈا ہے۔ وزیراعظم مودی ایک طرف جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ایسے اقدامات کرتے ہیں جو جمہوریت کی کمزوری کا باعث ہیں۔ ’’من کی بات‘‘ نامی پروگرام مودی کا بہت پسندیدہ ہے جس میں وہ خود حکومت پر تنقید کرنیوالوں کے خلاف جواب دیتے ہیں۔ عوام پر انتخابات سے قبل نریندر مودی نے جو جادو کر دیا تھا وہ بتدریج اپنا اثر کھو رہا ہے۔ مودی کو اس بات کا جس قدر جلد احساس ہو جائے ان کے اور ان کے پیروکاروں کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)