نقطہ نظر

نریندر مودی کا خراج تحسین

کلدیپ نائر
یہ میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے میری تنقید کا نوٹس لیا ہے۔ بے شک انھوں نے میری ستائش کی اور کہا میں نامور صحافی کلدیپ نیئر جی کی عزت کرتا ہوں جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران انسانی حقوق کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ ’’میرے لیے وہ بڑی سخت نکتہ چینی کرنے والے ہیں، مگر میں اس کے لیے انھیں سلام پیش کرتا ہوں‘‘ جہاں تک اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے وزیراعظم مودی اور میں مکمل طور پر ہم خیال ہیں۔ جہاں پر ہمارا اختلاف ہے وہ اس بات پر ہے کہ ہم بھارت میں کس قسم کا معاشرہ چاہتے ہیں۔
مودی کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہے جو آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے جو ملک میں ہندو راشٹرا قائم کرنا چاہتے ہیں جب کہ میں مہاتما گاندھی کے فلسفے کا پیروکار ہوں جو ملک میں کثیر الثقافتی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ جہاں تمام مذاہب کے لوگ بلاخوف و خطر مل جل کر رہیں۔ مجھے یاد ہے گاندھی جی مشترکہ عبادت کی تقریب منعقد کیا کرتے تھے جس میں گیتا اور بائبل کے ساتھ قران شریف کی تلاوت بھی ہوتی تھی اور اگر کوئی اعتراض کرتا تو وہ یہ تقریب منعقد نہیں کرتے تھے۔
مہاتما کے اجتماعیت کے فلسفے کو قوم کی حمایت حاصل تھی۔ وزیراعظم مودی گاندھی جی کی عزت کرتے ہیں اور کہتے ہیں اور انھی کا مقولہ دہراتے ہیں: ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ لیکن ان کی پارٹی کا نکتہ نظر اس کے برعکس ہے۔ مودی جب آر ایس ایس کی ہائی کمان کے ساتھ تبادلہ خیال کے لیے اس پارٹی کے ہیڈکوارٹر ناگپور گئے تو بہت سے لوگوں کو مایوسی ہوئی۔ مسلمان خاص طور پر تشویش میں مبتلا تھے۔ کیونکہ وہ معاشرے کو مزید بنیادوں پر تقسیم کا شکار دیکھ رہے تھے۔
بالخصوص بابری مسجد کے انہدام کے بعد یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ مودی نے ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جیسے بی جے پی کے مشہور لیڈروں کو پارٹی کے امور سے فاصلے پر رکھا ہے۔ مودی کی حکمرانی کا انداز بھی متذکرہ لیڈروں سے مختلف ہے۔ لیکن جس سمت میں وہ قوم کو لے جانا چاہتے ہیں وہ واضح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوتوا کی ایک نسبتاً نرم قسم پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔
وزیراعظم کو اب اپنے آپ سے ہی یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا یہ منظرنامہ عوام کے لیے فائدہ مند ہے۔ مختلف ثقافتوں کے مجموعے کے حامل معاشرے کو اجتماعیت کا نمونہ ہونا چاہیے کیونکہ بھارت کا قیام اسی نظریے کے تحت عمل میں آیا تھا لیکن جب محکمہ تعلیم اور حکومت کے دیگر اداروں میں کلیدی مناصب آر ایس ایس کے اعتبار والے لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو آزاد خیال لوگوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے اعتماد کو ٹھوس پہنچتی ہے۔
مودی کو چاہیے کہ ان تمام لوگوں کو اعتماد میں لیں تا کہ انھیں محسوس ہو کہ ان کی کارکردگی بھی برابر کی اہمیت رکھتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں حالانکہ انکی تعداد پوری قوم کے مقابلے میں ایک چوتھائی کے لگ بھگ ہے۔ اس وقت مسلم لیگ نے بھی ایسی پالیسی اپنائی تھی کہ ریلوے اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلم پانی کے نام سے پینے والا پانی بھی تقسیم ہو گیا۔ ہندو خوش تھے کہ شمال مغربی سرحدی صوبہ خان عبدالغفار خان کے زیر اثر تھا لیکن وہاں پر مسلمانوں کو زیادہ اختیارات حاصل نہیں تھے۔ کانگریس کے چوٹی کے لیڈروں میں مولانا ابوالکلام آزاد بھی شامل تھے جو ہندوؤں کے ساتھ اشتراک کے حامی تھے لیکن مسلم لیگ نے مذہب کے نام پر تقسیم کا مطالبہ کر دیا۔ اس کا اثر ان طلبہ پر منفی انداز سے پڑا جن کے باورچی خانے بھی تقسیم ہو گئے۔
مجھے یاد ہے میں لاہور کے لاء کالج میں آخری سال کا طالب علم تھا۔ جب قائداعظم محمد علی جناح طلبہ سے خطاب کے لیے وہاں تشریف لائے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ان دونوں کو مل جل کر ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ بعدازاں سوال جواب کا جو وقفہ ہوا اس میں میں نے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تو قائداعظم نے ہمیں یقین دلایا کہ بھارت اور پاکستان بہترین دوست ہوں گے لیکن یہ الگ بات ہے کہ آج ان دونوں میں بہت کم تعلق باقی رہ گیا ہے۔
کسی پاکستانی کے لیے بھارت آنے کا ویزا حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے اور یہی حال بھارت سے پاکستان جانے والوں کا ہے۔ گویا مجھے جس بات کا سب سے زیادہ ڈر تھا وہی بات حقیقت بن کر سامنے آگئی۔ دونوں جانب کے بہت سے لوگ یقین کرتے ہیں کہ اس کی وجہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ کشمیر صرف بھارت دشمنی کی علامت بن گیا ہے لیکن اگر یہ مسئلہ نہ ہوتا تو عین ممکن ہے کہ پاکستان بھارت سے نفرت کے لیے کوئی اور مسئلہ پیدا کر لیتا۔
اب میں وزیراعظم مودی کی طرف واپس آتا ہوں جنہوں نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ انھوں نے روس اور افغانستان کے سرکاری دورے سے واپس آتے ہوئے لاہور میں مختصر قیام کیا اور (سابق) وزیراعظم نواز شریف کو خیرسگالی کے جذبات پیش کیے۔ یہ گزشتہ دس سال میں کسی بھارتی وزیراعظم کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ دونوں وزرائے اعظم نے اپنی ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر بھی بات کی۔ اب وزیراعظم مودی کی وزارت عظمیٰ کا آخری سال ہے اور وہ اس وقت تک پاکستان کے ساتھ تجدید تعلقات میں پہل کاری نہیں کر سکتے جب تک کہ ان کی حکومت اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہ کرے۔ وزیراعظم مودی پر چونکہ شخصی حکمرانی کا الزام بھی لگتا ہے اس لیے وہ پہل کاری سے قدرے گریز ہی کریں گے۔
واضح رہے مسز گاندھی پر بھی شخصی حکمرانی کا الزام عائد ہوا تھا جس بنا پر انھیں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ بدقسمتی سے اس وقت کوئی دوسرا لیڈر اتنے قد کاٹھ کا نہیں تھا جو مسز گاندھی کو چیلنج کر سکتا اور نہ ہی اندرا گاندھی نے کسی کو بطور لیڈر پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا تھا اور آج بی جے پی میں بھی وہی حال ہے اور یہاں بھی کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں جو مودی کے آڑے آ سکے۔ لیکن کیا انتخابات سے پہلے صورتحال میں کوئی تبدیلی ممکن ہے؟
اس کا اندازہ بعد میں ہی ہو گا۔ مودی اقتدار کے بگ ٹٹ دوڑنے والے جس گھوڑے پر سوار ہیں انتخابات سے پہلے وہ اپنی موجودہ حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا تمام تر انحصار آر ایس ایس پر ہے جس کے ذریعے وہ اپنے انتخابی وعدے پورا کرنا چاہتے ہیں۔
ممکن ہے کہ وہ انتخابات کے لیے کوئی ایسی حکمت عملی تیار کر رہے ہوں جس سے ان کی پارٹی کو یقینی فتح حاصل ہو سکے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر ان کے مدمقابل انتخاب لڑنے والی دوسری پارٹیاں کوئی اتحاد قائم کر لیں جو کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی کی زیر قیادت اکٹھی ہو سکتی ہوں تو ممکن ہے کہ مودی کو چیلنج کیا جا سکے۔ لیکن ایسا بھی بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ مودی اپنی ذات میں ہی بی جے پی بن چکے ہیں۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)