نقطہ نظر

نسل پرستی ‘ مغرب اورہم

ڈالٹر طارق احمد

نسل پرستی کی وہ چنگاری جو دہائیوں سے امریکی آئین کی برابری اور برادری کی گارنٹیوں کی راکھ تلے سلگ رہی تھی؛ بلآخر شعلہ بن کر بھڑک اٹھی اور نا صرف امریکا کلر بلائنڈ ہے ‘‘ جیسے خوشنما نعروں کے حسن کو گہنا دیا‘ بلکہ زندگی ‘ آزادی اور خوشی کے حصول جیسے اعلیٰ مقاصدکو بھی بے یقینی کی گمنام وادیوں کی نذرکر دیا۔ جارج فلائیڈ کے بے رحمانہ قتل سے کم از کم وقتی طور پر سہی ‘ یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ امریکی آئین کی لاکھ گارنٹیوں اور امریکا کلر بلائنڈ‘‘ جیسے دلربانعروں کے باوجودغیر سفید فام افراد بالخصوص کالوں کی نہ تو زندگی اور آزادی کی کوئی عملی ضمانت ہے‘ نہ ہی خوشی کا حصول ان کیلئے اتنا سہل ہے ‘جتنا کسی سفید فام کے لیے ہو سکتا ہے۔یوں آپ کسی سفید فام سے نسل پرستی یا نسلی امتیاز کی بات کریں گے‘ تو وہ اس کو فوری طور پر جھٹلا دے گا اور بحث سے کترائے گا۔ اس طرح کے مباحث میں اس نوع کے جملے اکثر سننے کو ملتے ہیں؛ میرے تو کئی غیر سفید فام دوست ہیں ‘ میں نے تو کبھی ان کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا‘ سفید فام براؤن اور کالے لوگوں سے شادیاں بھی کرتے ہیں ‘ ہمارا آئین بھی اس کی ضمانت دیتا ہے اور نسلی امتیاز روا رکھنا قابلِ تعزیر ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ فرد کی سطح پر دیکھا جائے تو یہ بات کافی حد تک درست بھی معلوم ہوتی ہے‘ مگر جب سب ہی سفید فام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نسل پرست نہیں تو پھر یہ شور کیسا ہے؟ عمیق نگاہی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چند ایک شدت پسندوں کے سوا کوئی بھی نسل پرستی کی کھلے عام حمایت کرتا نظر نہیں آئے گا‘ مگر یہ امریکی اور یورپی معاشروں کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے ‘جس پر ان معاشروں کا فکر و نظر رکھنے والا طبقہ متفکر بھی نظر آتا ہے اور شرمندہ بھی۔درحقیقت نسلی امتیاز کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اس کا تانا بانا ان کے معاشرتی‘ ثقافتی اور سیاسی نظام میں گندھا ہوا ہے۔ سفید فام لوگوں میں بے شمار لوگ سچے دل سے نسل پرستی کیخلاف ہیں اور ان میں سے کچھ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں‘ مگر وہ بھی اس سٹرکچرل(Structural)اور سسٹمک (systemic) نسل پرستی سے کسی نہ کسی طرح مستفید ہوتے ہیں۔ امریکی دانشور پیگی میکنٹوش اس کو مراعات سے لبالب ایسے بیگ سے تشبیہ دیتی ہیں‘ جس کا کوئی وزن بھی نہیں‘ لیکن پھر بھی وہ فوائد سے بھرا ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ سفید فام لوگوں کو بغیر کچھ کیے بیشمار مراعات اور سہولیات حاصل ہوتی ہیں ‘جن سے دوسری اقوام ہمیشہ محروم ہی رہتی ہیں۔ پیگی نے کم ازکم پچاس ایسی غیر مرئی اور غیر محسوس مراعات کی ایک فہرست مرتب کی ہے‘ جو ہر سفید فام کو گود سے گور تک حاصل ہوتی ہیں ‘خواہ وہ اس سے آگاہ ہو یا نہ ہو۔ مثال کے طور پر صحت اور تعلیم کے حوالے سے سفید فام کو ان تفکرات کا سامنا نہیں ہوتا ‘جو غیر سفید فام کو ‘ نیز تاریخ سے مراد سفید فام لوگوں کی تاریخ ہے اور چند سال قبل تک کالوں کی تاریخ پر مشکل سے کوئی کتاب دستیاب تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سفید فام لوگوں کو اپنے بچوں کو یہ نہیں بتانا پڑتا کہ نسل پرستی کیا ہوتی ہے اور اس کے مضمرات کیا ہیں ؟
نسلی برتری کے احساس کیلئے کسی سیاسی جماعت یا نازی ازم جیسے نظریے کا پیروکار ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی اس کیلئے کسی باقاعدہ تعلیم یا تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ افراد کے اندر یہ احساس غیر محسوس طور پر آس پاس پھیلے ہوئے ثقافتی ماحول سے از خود سرایت کر آتا ہے۔ 1940 ء میں ڈاکٹر کینتھ نے بچوں پر ایک تجربہ کیا‘ جس میں سیاہ فام بچوں کو سیاہ اور سفید گڑیاؤں میں سے انتخاب کرنا تھا۔ زیادہ بچوں نے سفید گڑیا کو پسند کیا۔ 2010 ء میں یہی تجربہ دونوں نسل کے بچوں پر دُہرایا گیا اور نتائج وہی رہے۔ گویا انہی برسوں میں لا شعوری نسل پرستی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عام آدمی تو ایک طرف بڑے بڑے سیلیبرٹیزبھی نسلی امتیاز کی زد سے نہیں بچ سکے۔ معروف ٹینس سٹار سیرینا ولیم نے ایک مرتبہ غصے سے ریفری کو چور کہہ دیا‘ جس پر اس کو باقاعدہ تحریری سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ‘جبکہ سفید فام جان مکینرو جو منہ پھٹ مشہور تھے ‘ کھیل کے دوران اس سے بڑی بڑی بدتمیزیاں کر جاتے تھے‘ مگر ان کو کبھی کچھ نہ کہا گیا۔ اس بات کا اعتراف خود مکینرو نے بھی میڈیا کے سامنے کیا۔ نسلی امتیاز کا اظہار ایک اور طریقے سے بھی کیا جاتا ہے‘ جس کو ٹون پولیسنگ کہا جاتا ہے۔ غیر سفید فام لوگوں کو ان کے لب و لہجہ کی وجہ سے بھی غیر مہذب گردانا جاتا ہے۔ وہ اگر غصیلی آواز میں اپنی شکایت کا بھی اظہار کر دیں تو بھنویں تن جاتی ہیں اور اکثر اوقات ان کو اونچی آواز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے پر بھی پر تشدد ہونے کے الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ اسی طرح اگر کوئی غیر سفید فام شستہ گفتگو کرے یا دھیمے اور مہذب لب و لہجے میں اپنے جذبات یا غصے کا اظہار کرے تو اس کو بڑی خوشگوار حیرت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے ۔گویا کوئی انہونی ہو گئی ہو! یہ بذات ِخود نسلی امتیاز کا ایک خفی انداز ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ سیاہ فام حضرات حقوق کی بات تو کرتے ہیں‘ لیکن اپنے آپ کو بہتر کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔ نوے فیصد سٹریٹ کرائمز سیاہ فام حضرات ہی کرتے ہیں ‘ تعلیم میں بھی ان کی دلچسپی برائے نام ہے‘ مصنف کا ذاتی تجربہ ہے کہ نیو یارک میں ان کی گلیوں سے گزرتے ہوئے خوف آتا ہے۔ آوارہ گرد لڑکوں کی منڈلیاں جگہ جگہ بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دیکھنے والے کے ذہن میں یہ چیزیں کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کرتیں۔یہاں تک کہ صدر اوباما تک یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ سیاہ فام لوگوں کو بھی اپنے کلچر میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات اس لیے بھی درست نظر آتی ہے کہ سیاہ فام کے خلاف مخاصمت کے جذبات جس قدر شدید نظر آتے ہیں ‘ اس قدر کسی اور غیر سفید فام قومیت کیخلاف دکھائی نہیں دیتے‘ مثلاً: ساؤتھ ایشیا ئی لوگوں کو اس طرح کے تعصب کا سامنا نہیں ہوتا‘کیونکہ وہ محنت سے اپنا کیرئیر بناتے ہیں ‘ اپنے رویے سے اپنے آپ کو پر امن ثابت کرتے ہیں اور کسی پرتشدد کارروائی کا حصہ بھی نہیں بنتے۔ ہمارے یہاں یہ عمومی رویہ ہے کہ مغرب میں ہمیں ذرا بھی خرابی نظر آجائے‘ ہم خوب اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں‘ لیکن اسی نوع کی خرابیاں ہمارے یہاں پائی جائیں تو آسانی سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔امریکا میں تو انسان گورے اور کالے میں ہی تقسیم ہیں ‘جبکہ ہمارے یہاں تو یہ تقسیم کثیرالجہتی ہے۔کہیں امیر اور غریب کی طبقاتی تقسیم تو کہیں مذہب اور فرقوں کا بٹوارہ ‘ کہیں برادریوں کی اونچ نیچ او رکہیں اقلیتوں کے ساتھ ہماراحسن سلوک ‘‘ سب ہمارے ہی معاشرے نا قابل ِتردید حصہ ہیں۔ امیر غریب کی تقسیم تو یقینامغرب میں بھی پائی جاتی ہے‘ لیکن فلاحی ریاستیں اپنے غریب کو لاوارث نہیں چھوڑتیں اور مشکل پڑنے پر مثلاً بیماری کی صورت میں غریب کو بھی ویسا ہی علاج اور دیگر سہولیات میسر ہوتی ہیں‘ جیسی امیر کو۔ ذات برادری کی بنیاد پر تعصب بھی ہمارا ہی طرۂ امتیاز ہے ۔