سرورق مضمون

واجپائی کا انتقال اور مسئلہ کشمیرکے حل کےلئےاُن کی خدمات

ڈیسک رپورٹ
مرکزی سرکار نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی موت پر سات دن کے لئے سوگ کا اعلان کیا ۔ اس دوران ملک کا جھنڈا سرنگوں رہنے اور دعوت وضیافت کی کوئی تقریب منعقد نہ کرنے کا اعلان کیاگیا ۔ جموں کشمیر نے ایک قدم آگے بڑھ کر واجپائی کی یاد میں سات دن کے ماتم کے علا ہ ایک روزہ سرکاری چھٹی کا اعلان کیا ۔ اس و جہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر ماتم کیا گیا جبکہ ریاست میں تمام سرکاری دفاتر اور چھوٹے بڑے سب تعلیمی ادارے ایک دن کے لئے بند رہے ۔بی جے پی کی طرف سے ملک کے تمام حصوں کی طرح جموں کشمیر یونٹ نے پارٹی رہنما کے انتقال پر دکھ اور رنج کا اظہار کیا ۔ ریاست میں پہلے ان کی صحت کے لئے ایک مختصر مجلس منعقد کی گئی ۔ اس کے بعد ان کی موت پر ماتم کیا گیا ۔ یادرہے کہ واجپائی 16 اگست کو اس دنیا سے کوچ کرگئے ۔ آنجہانی لیڈر طویل عرصے سے بیمار تھے اور آل انڈیا میڈیکل انسٹچوٹ میں زیرعلاج تھے ۔ ان کو گردے کا عارضہ تھا ۔ ایک گردہ کئی سال پہلے آپریشن کرکے نکالا گیا تھا ۔ باقی ایک گردہ اچانک خراب ہوکر کام کرنے سے بیٹھ گیا ۔ اس سے پہلے ایک دفعہ دل کا دورہ پڑا تھا ۔ گھٹنوں میں بھی تکلیف تھی اور سہارا لے کر ہی چل پھر سکتے تھے۔ جمعرات کو ترانوے سال کی عمر میں اس دنیا سے چل پڑے اور اپنے پیچھے یادوں کا ایک انبار چھوڑ گئے ۔ ملک کی سیاست میں ایک نامور سیاست دان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ ہندوپرست حلقوں میں ہندوتوا کے ایک کھلاڑی مانے جاتے ہیں ۔ بابری مسجد کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ البتہ اپنے دور حکومت میں رام مندر بنانے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی ۔ ہندو مسلم فسادات کی اجازت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت میں سب سے کم ہندو مسلم فسادات ہوئے ۔دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی اور تمام ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ۔ کشمیر مسئلہ حل کرنے کے لئے مبینہ طور سخت کوششیں کیں ۔ اس وجہ سے سرحد کے آر پار ان کو بڑی قدر ومنزلت سے دیکھا جاتا ہے ۔
واجپائی اپنی زندگی کے شروع میں ایک طویل عرصے کے لئے آر ایس ایس سے وابستہ رہے ۔آر ایس ایس سے رخصت ہونے کے بعد سیاست کا رخ کیا اور بی جے پی سے وابستہ ہوگئے ۔ دس بار لوک سبھا کے لئے چنے گئے ۔ دو بار تو راجیہ سبھا کے ممبر رہے ۔پہلے اپوزیشن کے لیڈر بنائے گئے ۔ اس کے بعد تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم بن گئے ۔پہلی بار بی جے پی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت کے طور ابھری تووزیراعظم کے عہدے کے لئے ان کا انتخاب کیا گیا۔ لیکن پوری حمایت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی وزارت صرف تیرہ دن تک چلی اور مستعفی ہونا پڑا۔ اس کے بعد 13 مہینوں تک پھر وزیراعظم بنے ۔ لیکن یہ بھی آگے نہ بڑھ سکی ۔ ہمت نہیں ہاری ۔ کوشش کرتے رہے اور بعد میں1999 میں پھر وزیراعظم بن گئے۔ اس بار پورے 5 سال حکومت کیااور ایک کامیاب وزیراعظم کے طور اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے ۔ ملک کے اندرونی حالات ٹھیک کئے ۔ملک کی معاشی حالت ٹھیک کرنے اور فوجی طاقت بڑھانے کی طرف توجہ دی۔پوکھران دھماکے کرکے سب کو حیران کیا ۔ اسی طرح ملک کو مضبوط بنانے میں کئی قدم اٹھائے ۔ کشمیر ملی ٹنسی پر قابو پانے کے لئے حریت کے اعتدال پسند گروپ کے ساتھ ملاقات کی ۔ میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں اس گروپ نے پہلے نائب وزیراعظم اور بعد میں ان کے ساتھ ملاقات کی ۔ اسی طرح لبریشن فرنٹ کے لیڈر یاسین ملک کے ساتھ بھی ملاقات کی ۔ اس کے ساتھ ہی حریت کانفرنس دو گروہوں میں بٹ گئی ۔ ایک گروپ میرواعظ گروپ کہلایا جبکہ دوسرے گروپ کو گیلانی کی وجہ سے حریت (گ) کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ دو گروپ ہمیشہ کے لئے الگ ہوگئے۔ آنجہانی واجپائی نے کشمیر کے ساتھ مذاکرات کے کئی راونڈ کئے ۔ پہلے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو اعتماد میں لے کر ٹریک ٹو ڈپلومیسی کو آگے بڑھایا گیا ۔ اس سے دونوں وزیراعظموں کے درمیان دوری ختم ہوگئے اور وہ ایک دوسرے کے نزدیک آگئے۔ واجپائی نے لاہور میں شریف سے ملاقات کی ۔ اس موقعے پر فوج کے سربراہ جنرل مشرف نے ان کے استقبال کے لئے آنے سے انکار کیا ۔اس کے بعد کرگل کی جنگ ہوئی۔ یہ واجپائی دور کی سب سے بڑی ناکامی مانی جاتی ہے ۔ حکومت کو اس بات کی ہوا تک نہ لگی کہ پاکستانی فوج نے کرگل سرحد کراس کرکے ہندوستان کے ان بینکروں پر قبضہ کیا جو سرما کے یخ بستہ ہوا کے دوران خالی کئے جاتے ہیں ۔ اس جنگ میں پاکستان کا پلڑہ بھاری رہا ۔ امریکہ نے مداخلت کرکے اس جنگ کو بند کرایا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی صورتحال بن گئی۔ ایک بار پھر امریکہ نے مداخلت کرکے جنگ روک دی ۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سخت تلخ ہوگئے۔ اس کے بعد کٹھمنڈوں میں سارک کانفرنس کے موقعے پر پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل مشرف نے واجپائی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ اس طرح سے حالات میں نرمی آگئی ۔ اس کے بعد دونوں سربراہوں کے درمیان آگرہ ملاقات ہوئی ۔ ملاقات بڑے دوستانہ ماحول میں ہوئے ۔ لیکن دونوں سربراہ کسی مشترکہ اعلان نامے پر دستخط نہ کرسکے ۔ اس دوران افغانستان پر امریکہ نے حملہ کرکے وہاں کی حکومت ختم کی ۔ خطے کے حالات بدلے اور پاکستان اس جنگ میں امریکہ کا ساتھی بن گیا ۔ اس دوران واجپائی کا دور ختم ہوگیا ۔ ان کی صحت بگڑ گئی اور انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی۔ بی جے پی پر گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے قبضہ جمایا اور وہ ملک کے وزیراعظم بن گئے ۔ ان کی اور واجپائی کی پالیسی میں آسمان زمین کا فرق ہے ۔ واجپائی کو اعتدال پسند لیڈر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ مودی انتہا پسند سنگھی مانے جاتے ہیں ۔ لیکن بی جے پی کی حکمرانی کے لئے راستہ واجپائی نے ہموار کیا ۔ کانگریس کو کمزور کرنے میں واجپائی کا اہم رول رہاہے ۔ آپ پہلے غیر کانگریسی لیڈر ہیںجنہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے پانچ سال مکمل کئے ۔ ان کا دور ملک کے لئے بڑا اہم مانا جاتا ہے ۔