مضامین

وادی میں طالب علموں کا احتجاج جاری

رواں مہینے کی 9 تاریخ کو سرینگر ضمنی پارلیمانی نشست کے چنائو عمل کے دوران اگرچہ ضلع بڈگام میں متعدد جگہوں پر مظاہرے ہونے کے ساتھ ساتھ مظاہرین اور فورسز کے درمیان کئی جگہوں پر جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم مختلف جھڑپوں کے دوران 8 نوجوان مارے بھی گئے۔ سرینگر پارلیمانی نشست کے چنائو کے دوران اگر چہ بہت حد تک حالات بگڑ گئے تاہم نشست کے38 پولنگ اسٹینوں میں نئے سرے سے ووٹنگ کرائی گئی یہ الگ بات ہے دوبارہ بھی ان پولنگ سٹینوں میں ووٹر ووٹ ڈالنے نہیں نکلے، ہاں اتنا ضرور دیکھا گیا کہ فوج فورسز اور پولیس کی بھاری جمائو کے بیچ ان 38 پولنگ سٹیشنوں کے لئے ووٹنگ کی گئی۔ البتہ الیکشن کمیشن نے اننت ناگ ضمنی پارلیمانی نشست کے لئے سرینگر کی پارلیمانی نشست کے چنائو کے دوران حالات بگڑنے کو مد نظر رکھتے ہوئے موخرکردیا۔ اس کے بعد صورتحال میں لگاتار ابتری دیکھنے کو ملی۔ فوج کی طرف سے ظلم و زیادتیوں کے کئی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائریل ہوئے، جس پر کئی ایک لوگوں نے حیرانگی کے ساتھ ساتھ افسوس کا اظہار کیا تاہم کئی ایک تعصب کے شکار افراد نے فوج کی طرف سے ایسی کارروائیوں کو جاری رکھنے کی حمایت کی۔ ریاست کے ایک وزیر نے اس طرح کی کارروائی کا دفاع کیا تاہم کئی ایک پارٹیوں نے ان کے اس بیان کے زبردست مذمت کی ہے۔ اس سے پہلے ہی اگر چہ وادی کے مختلف جگہوں پر صورتحال میں ابتری دیکھنے کو مل رہی تھی جب سرینگر پارلیمانی نشست کے چنائو کے دوران حالات بگڑنے کے بعد پلوامہ میں ڈگری کالج کے اندر فوج کے گھسنے کا غصہ طالب علموں نے سڑکوں پر آکر مظاہرے کی صورت میں نکلانے کی کوشش کی۔فوجی کارروائی اور طالب علموں کے ردعمل کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ پلوامہ نے کالج کو تدریسی کام کاج کے لئے دو دن کے لئے بند کیا تھا تاہم اگلے روز وادی کے متعدد جگہوں پر پلوامہ ڈگری کالج میں فوج کی زیادتی پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں جس دوران کئی ایک طالب علم زخمی ہوئے جن میں کئی طالبات بھی شامل تھے۔ آناً فاناً چاروں طرف یہ خبر پھیلتے ہی تقریباً وادی کے ہر ضلع میں طالب علموں کا حتجاج ہوا، پورے دن طلبہ کے احتجاج اور وردی میں ملبوس طلبا کے پیچھے وردی والے فورسز پڑنے کے بعد سرکار نے تمام ہائیر سیکنڈری سکول، کالج اور یونیورسٹیاں درس و تدریس کے لئے بندکی تھی۔ اس دوران طالب علموںیعنی(وردی والوں)کااحتجاج جاری رہا اور آئے روز کہیں نہ کہیں پر کسی نہ کسی طالب علم کے زخمی ہونے کی خبر موصول ہوتی رہیں۔ حکومت نے اس دوران براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس کے بغیر تمام قسم کی انٹرنیٹ سہولیات بھی معطل کر رکھی ہے اور اس طرح سے سوموار یعنی 17اپریل سے وادی میں انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی اور تا حال کالجوں میںتدریسی کام کاج بھی بند کر دی گئی، اس طرح سے وردی والوں نے یعنی طالب علموں نے سڑکوں پر آکر ایک زبردست مظاہرہ کیا جس کے چلتے حکومت کو ایک ایک روز بڑھا کر کالج تاہم حال بند رکھنے پڑے۔ وردی والوں کا احتجاج اپنی جگہ تاہم وردی والوں کو بھی وردی والوں نے سبق سکھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
اس دوران ادھر تشددکے شکارطلاب کیساتھ اظہاریکجہتی کیلئے وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں برآمدہوئیں جبکہ کچھ مقامات پرمشتعل نوجوانوں کی سنگباری کے جواب میں پولیس وفورسزنے ٹیرگیس وپاؤاشلنگ کی جبکہ تشددسے متاثرہ علاقوں میں معمول کی عوامی اورکاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکررہ گئیں ۔ ادھر وادی میں جمعہ کے روز کالج اورہائراسکینڈری اسکول مکمل طوربندرہنے کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں مفلوج رہیں اور جمعہ کی شام کو حکومت نے سنیچر کےلئے بھی کالج میں درس و تدریس کے کام کاج کو معطل رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔
کالج اورہائراسکینڈری اسکول سرکاری احکامات پربندرہنے کے باوجودطلبہ پرتشددکیخلاف مسلسل پانچویں روزبھی طلاب کی احتجاجی لہرجاری رہی جبکہ اس دوران کئی مقامات پرکمسن طلبہ نے سڑکوں پرنکل کراحتجاجی جلوس نکالے اورنعرے بازی کی۔شمالی قصبہ بانڈی پورہ میں نمازجمعہ سے قبل اسوقت ہڑتال کاسماں پیداہوگیاجبکہ قصبہ کے باغ علاقہ میں قائم ایک سرکاری ہائی اسکول میں زیرتعلیم چھوٹے طالب علموں نے پلوامہ اوردیگرکئی مقامات پرحالیہ کچھ ایام کے دوران طلباء وطالبات کیخلاف فورسزاورپولیس کی جانب سے عمل میں لائی گئیں کارروائی کیخلاف احتجاجی جلوس نکالا۔اسکولی بچوں نے قصبہ بانڈی پورہ کے مین بازارسے مارچ کرتے ہوئے فورسزکیخلاف نعرے بلندکئے ۔اس دوران دکانداروں نے اپنی دکانات کے شٹرگرادئیے جبکہ گاڑیوں کی آواجاہی میں بھی کافی کمی واقعہ ہوئی ۔اس دوران ضلع بانڈی پورہ کے اجس اورکلوسہ علاقوں میں قائم کئی ہائی اورمڈل اسکولوں میں زیرتعلیم کمسن طلاب نے بھی فورسززیادتیوں کیخلاف احتجاجی جلوس برآمدکئے۔ضلع بانڈی پورہ کے سمبل قصبہ میں بھی اسکولی بچوں نے احتجاجی جلوس نکالا
اس دوران شہرخاص،مائسمہ اورسوپورقصبہ میں مزاحمتی قیادت کی اپیل پرطلاب کیساتھ اظہاریکجہتی کیلئے نمازجمعہ کے بعدجلوس نکالے گئے تاہم ان سبھی مقامات پراحتجاجی مظاہروں کے بعدمشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزکے درمیان ٹکراؤ کے واقعات پیش آئے ۔تاریخی جامع مسجدسرینگرمیں نمازجمعہ کے بعدایک جلوس برآمدہوا، جس میں حریت(ع) رہنماؤں اور کارکنوں بشمول غلام نبی زکی ، مشتاق احمد صوفی ، فاروق احمد سوداگر، غلام نبی نجار، جعفر کشمیری، ایڈوکیٹ یاسر دلال ، عبدالرشید اونتو، عبدالمجید وانی، پیر غلام نبی، محمد صدیق ہزار ،وغیرہ شامل تھے کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی
جلوس کے بعدشہرخاص میں کچھ مقامات پرمشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزکے درمیان سنگباری ،ٹیرگیس اورپاؤاشلنگ کاتبادلہ ہوا۔نوہٹہ چوک،گوجوارہ اوردیگرکچھ مقامات پرمشتعل نوجوانوں اورسیکورٹی اہلکاروں کے درمیان ٹکراؤکی صورتحال جاری رہنے کے باعث شہرخاص میں بعددوپہرمعمول کی عوامی اورکاروباری سرگرمیاں مفلوج ہوکررہ گئیں۔اس دوران متحدہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پر لبریشن فرنٹ کے قائدین و راکین نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ بڈشاہ چول لال چوک کے نزدیک ایک احتجاجی ریلی اور دھرنے کا اہتمام کیا ۔ موصولہ بیان کے مطابق کشمیری طلاب کے خلاف حکومتی جبر و ظلم کے خلاف منعقد ہونے والا یہ احتجاجی مظاہرہ مدینہ چوک سے شروع ہوا اور اس میں شامل لوگ طلباء و طالبات کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے اور ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھائے بڈشاہ چوک کی جانب روانہ ہوئے جہاں انہوں نے اس حوالے سے ایک پرامن دھرنا دیا۔احتجاج میں لبریشن فرنٹ قائدین شوکت احمد بخشی، نور محمد کلوال، شیخ عبدالرشید، محمد یاسین بٹ، سراج الدین میر، محمد صدیق شاہ، مشتاق احمد خان ،پروفیسر جاوید وغیرہ بھی شامل تھے۔احتجاجی جلوس کے بعدمشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزکے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیداہوئی ،جسکے باعث سیول لائنزمیں کچھ وقت کیلئے سخت کشیدگی اورتناؤکی صورتحال پیداہوئی۔تاہم پولیس وفورسزنے احتجاجی نوجوانوں کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کے کچھ گولے داغےجسکے بعدحالات پُرامن رہے۔اس دوران مشترکہ آزادی پسند قیادت کی طرف سے دئے گئے احتجاجی پروگرام کے تحت تحریک حریت کے مرکزی راہنما عبدالحمید ماگرے کی قیادت میں حیدپورہ میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ ایک بیان کے مطابق اس موقع پر عبدالحمید ماگرے نے شرکاء احتجاج سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے جاری ریاستی دہشت گردی ہر دن کے ساتھ طول پکڑتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے تعلیمی ادارے بھی ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت میدانِ جنگ میں تبدیل کردئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکمرانوں کی طرف سے آئے روز غیر انسانی اور غیر اخلاقی بیانات یہاں کی قابض فورسز کے لیے لائسنس کا کام کررہی ہے اور وہ جسے چاہیں اور جہاں چاہیں قتل کرسکتی ہے۔انہوں نے مقامی ہندنوازوں کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ بھارت کے ریاستی ظلم وجبر کے شریک کار ہیں اور ان کی طرف سے دئے جانے والے بیانات دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ اس احتجاج میں ظہور الحق گیلانی، نثار احمد، ارشد احمد، مشتاق احمد، ظہور احمد و دیگر کارکنان نے بھی شرکت کی۔ ادھرشمالی قصبہ سوپور میں بھی نمازجمعہ کے بعدایک احتجاجی جلوس نکالاگیا،جس میں شامل لوگوں نے آزادی کے حق میں اورزیادتیوں کیخلاف نعرے بازی کی بتایا جاتا ہے کہ تاریخی جامع مسجدسوپورسے برآمدہوئے جلوس میں شامل لوگوں کومنتشرکرنے کیلئے پولیس کارروائی کے بعدنوجوان مشتعل ہوئے اورانہوں نے سنگباری شروع کردی ۔پولیس وفورسزنے خشت باری کرنے والوں کومنتشرکرنے کیلئے ٹیرگیس اورپاؤاشلنگ کی۔تاہم کچھ وقت بعدسوپورقصبہ میں بھی صورتحال بہترہوئی ۔ اس طرح سے طلبہ کا یہ احتجاج کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔