خبریں

وادی میں پیش آرہے واقعات پر اقوام متحدہ کو تشویش

وادی میں پیش آرہے واقعات پر اقوام متحدہ کو تشویش

وادی کشمیر میں پیش آرہے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیریس کسی علاقے کا دورہ کئے بغیر بھی وہاں کے مسائل سے آگاہ رہتے ہیں اور صورتحال کے بارے میں پل پل کی خبر رکھتے ہیں۔عالمی ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت ہند نے جموں کشمیر میں کنٹرول لائن کی نگرانی پر مامور اقوام متحدہ فوجی مبصرین کو کبھی بھی رپورٹ پیش کرنے سے نہیں روکا۔ اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرہان حق نے پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی کی طرف سے پوچھے گئے اس سوال کو نکار دیا کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں تعینات اقوام متحدہ فوجی مبصرین کا گروپ (UNMOGIP) اپنی مرحلہ وار رپورٹیں پیش نہیں کررہا ہے کیونکہ حکومت ہند اس کی اجازت نہیں دی رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس مشن کو ایک الگ منڈیٹ حاصل ہے اور اسے عالمی ادارے کے دیگر مشنوں کی طرز پر رپورٹیں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس ضمن میں نائب ترجمان کا کہنا تھا’’مختلف امن مشن مختلف منڈیٹ رکھتے ہیں جس میں رپورٹنگ سے متعلق مختلف منڈیٹ بھی شامل ہیں‘‘۔اسی سے جڑے ایک سوال کے جواب میںفرہان حق نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں تعیناتUNMOGIPاور اقوام متحدہ میں ہی جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے ادارے UNTSO الگ الگ وقت میں تشکیل دئے گئے ہیں اور ان کی رپورٹنگ کی ضروریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے کچھ شعبے تین سے چھ ماہ کے درمیان رپورٹیں پیش کرتے ہیں جبکہ دیگر ادارے مختلف موضوعات سے نمٹنے کیلئے ہیں۔ UNMOGIPکا قیام1948میں یونائٹیڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان(UNCIP)کے نام سے عمل میں لایا گیا تھا اور اسے سلامتی کونسل کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی نگرانی کا کام سونپا گیا تھا۔بھارت کا کہنا ہے کہ UNMOGIPکی افادیت اب ختم ہوچکی ہے کیونکہ1972کے شملہ سمجھوتے کے تحت ہندوپاک تمام معاملات سے دو طرفہ طور نمٹنے پر متفق ہوئے ہیں۔تاہم حکومت ہند نے اس گروپ کو اپنا کام کرنے سے کبھی نہیں روکا ہے جس کی اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرہان حق نے بھی تصدیق کی۔فی الوقت سویڈن سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل پرگستاف لوڈن UNMOGIPکی سربراہی کررہے ہیں اور گروپ کے ساتھ کل38فوجی اہلکار وابستہ ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں فرہان حق نے کہا کہ سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیریس کشمیر کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہاں پیش آرہے واقعات پر متفکر ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اینٹونیو گوٹیریس کا وادی کا دورہ کرنے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ جس طرح سیکریٹری جنرل نے عراق کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے خود وہاں کا دورہ کیا، اسی طرح وہ کشمیر کی صورتحال کا از خود مشاہدہ کرنے کیلئے وادی کا دورہ کیوں نہیں کررہے؟فرہان حق نے کہا’’ضروری نہیں کہ وہ دورہ کریں ، وہ وہاں کی طرف پھر بھی توجہ دے سکتے ہیں‘‘۔نائب ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’’اگر وہ کسی ملک کا دورہ بھی نہیں کرتے ، تب بھی وہ وہاں کی پل پل کی صورتحال سے واقف اور مسائل سے آگاہ رہتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ ہمارے مختلف ممالک میں اہلکار تعینات ہوتے ہیں جن میں ملکی سطح کے اہلکار بھی شامل ہیں جو وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے معاملات سے نمٹنے کیلئے ہوتے ہیں‘‘۔فرہان حق نے کہا’’بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ہمیں کشمیر کی صورتحال کے بارے میں تشویش ہے ، ہم حالات کی قریبی نگرانی کرتے ہیں اور ہم مختلف سطحوں پر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں‘‘۔