مضامین

وادی کے ہسپتالوں میں عملے کی کمی تشویشناک

پرویز احمد
وادی میں قائم غیرں اور ادویات کی دکانوں کے خلاف کاروائی عمل میں لاتے ہوئے محکمہ صحت نے مختلف اضلاع میں چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران 151نجی کلنکوں ، اسپتالوں اور ادویات کی دکانوں کو سیل کردیا ہے اور یہ عوام کی شکایتوں کو صحیح ثابت کرتے ہوئے غیر قانونی اسپتالوںیا ۔ محکمہ صحت کی جانب سے شروع کی گئی اس خصوصی مہم سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دیہی علاقوں میں غیر قانونی کلنکوں اور ادویات کی دکانوں کا کاروبار تیزی سے جاری ہے ۔ ماہرین صحت کا مانا ہے کہ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کے فقدان اور ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے غیر قانونی طبی ادارے قائم کرنے کا چلن زور پکڑ رہا ہے۔ وادی میں آبادی کے اعتبار سے نہ صرف طبی ادارے کم ہے بلکہ مریضوں اور ڈاکٹروں کی شرح میں بھی کافی فرق ہے جس کا اعتراف ریاستی سرکار نے جنوری 2018میں اسمبلی میں پیش کئے گئے اکنامک سروے رپوٹ میں بھی کیا ہے۔
گذرے برس کے 14اگست کو شمالی کشمیر کے پٹن علاقے میں سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے 16اساتذہ کی طرف سے غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے نجی کلنکوں اور اسپتالوں کی نشاندہی کے بعد انہیں سیل کرنے کی کاروائی سے یہ بات صاف واضح ہوگئی ہے کہ وادی میں کوئی بھی اپنی مرضی سے کلنک کھول کر لوگوں کی جانوں سے کھلواڑ کرسکتا ہے ۔ پٹن میں اساتذہ کی جانب سے نجی کلنک چلائے جاننے کے انکشاف کے بعد ڈیوژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان کی ہدایت پر غیر قانونی نجی کلنکوں کے خلاف ایک مہم چلائی گئی جس میں یکم ستمبر2018 تک 151اسپتالوں اور کلنکوں کو سیل کیا گیا ہے۔ غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے نجی اسپتال اور کلنک کی سب سے زیادہ تعداد شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں ہے جہاں کل 69نجی کلنکوں اور ادویات کی دکانوں کو سیل کردیا گیا ہے جن میںبارہمولہ میں 66اورکپوارہ 3غیر قانونی اداروں سیل کردیا گیا۔ غیر قانونی طور پر اسپتال اور ادویات کی دکانیں قائم کرنے کا چلن وسطی کشمیرمیں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور محکمہ صحت کی موجود مہم کے دوران بڈگام میں 37، سرینگر میں 3اورگاندربل میں 6غیر قانونی طبی اداروں کو ضبط کیا گیا ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں، اننت ناگ، کلگام اور پلوامہ میں صرف36غیر قانونی کلنکوں کو سیل کردیا گیا ہے جن میں اننت ناگ میں 9، شوپیاں میں 9، کلگام میں13اور پلوامہ میں 5کلنکوں کو سیل کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر کلنک چلانے میں ملوث افراد مختلف سرکاری محکمہ جات میں بطور ملازم کام کرتے ہیں جبکہ بیچ میں تعلیم چھوڑنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پر کلنک چلا رہی ہے۔ محکمہ کے ذرائع نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں طبی اداروں کی کمی اور سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگ کسی پر بھی بھروسہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے کئی دفعہ انکی جانب پر بھی بن آتی ہے۔دیہی علاقوں میں غیر قانونی طبی اداروں کی سب سے بڑی وجہ دیہی علاقوں میں طبی اداروں اور عملہ کی کمی ہے۔ وسطی کشمیر کے بڈگام علاقے سے تعلق رکھنے والے شفاعت احمد نامی نوجوان نے بتایا ’’ ضلعے میں اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو کئی دنوں تک انتظار کرنا پڑ تا ہے جسکی وجہ سے وہ نجی کلنکوں اور اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اور بیشتر یہ نجی کلنک یا تو تاجر یا پھردیگر لوگ چلاتے ہیں۔ شفاعت احمد کہتے ہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں بعد دوپہر مشکل سے کوئی ڈاکٹر نظر آتا ہے اور یہی صورتحال دیہی علاقوں میں لوگوں کو نیم حکیم کے پاس جاننے پر مجبور کرتی ہے مگر یہ نیم حکیم کبھی کبھار جانلیوہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملہ کی قیمت غریب مریضوں کو نجی اسپتالوں اور کلنکوں پر چکانی پڑ رہی ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں عملہ کی قلت
اپریل 2018میں افرادی قوت سے متعلق بنائی گئی آڈٹ رپوٹ میں بھی جموں و کشمیر میں طبی اداروں کی کمی کا اعتراف کیا گیا ہے۔ انڈین ہیلتھ پبلک سسٹم کے قوائد و ضوائبط کے مطابق شہری علاقوں میں ایک لاکھ 20ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کیلئے ایک ضلع اسپتال کا قیام لازمی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 80ہزار افراد پر مشتمل آبادی کیلئے ایک ضلع اسپتال کا قیام عمل میں لانا ہوتا ہے۔ آڈٹ رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی کے اعتبار سے جموں و کشمیر میں 159ضلع اسپتالوں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت صرف 88ضلع اسپتال موجود ہے اور ریاست 69ضلع اسپتالوں کی کمی سے جوج رہی ہے ۔ سال 2018کے میں پاور آڈٹ رپوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں ہر 30ا ہزارفراد کیلئے ایک پرائمری ہیتھ سینٹر قائم کرنا لازمی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 20ہزار آباد پر مشتمل لوگوں کیلئے پرائمری ہیلتھ سینٹر کا قیام عمل میں لانا ہوتا ہے ۔ رپوٹ کے مطابق ریاست جموں و کشمیر میں 628پرئمری ہیلتھ سینٹروں کی ضرورت ہے جبکہ406پرائمری ہیلتھ سینٹر موجود ہے اور 220پرئمری ہیلتھ سینٹروں کو کمی ہے۔ ریاستی سرکار کے اس آڈٹ رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں شہری علاقوں میں ہر 5ہزار اور یہی علاقوں میں ہر 3ہزار آباد ی کیلئے سب سینٹرل کا قیام لازمی ہے ۔ رپوٹ کے مطابق ریاست جموں و کشمیر میں 4183سب سینٹر درکار ہے مگر اسوقت صرف 2847موجود ہے جبکہ 1336مز ید سب سینٹر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ تازہ آڈٹ رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں 4970چھوٹے بڑے طبی اداروں کی ضرورت ہے جبکہ اسوقت صرف 3341طبی ادارے موجود ہے جبکہ آبادی کے حساب سے ابھی بھی 1625سرکاری اسپتالوں اور طبی مراکز کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
جنوری 2018میںریاستی سرکار نے اسمبلی میں پیش کی گئی اکنامک سروے رپوٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے ریاست جموں و کشمیر ڈاکٹروں کی قلت سے جوج رہا ہے۔سروے رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں ابھی بھی 1658مریضوں کی ایک ہی ڈاکٹر(1;1658) دستیاب ہے جو عالمی ادارہ سطح کی طرف سے مقرر کئے گئے معیاری شرح (1:1000)سے کافی کم ہے۔ ریاستی سرکاری کی طرف سے پیش کئے گئے اکنامک سروے رپوٹ میں کیا گیا ہے کہ ریاست میں ڈاکٹروں کی منظور شدہ اسامیاں 39892ہیں جن میں سے 2455اسامیاں سست بھرتی عمل کی وجہ سے ابھی بھی خالی پڑیں ہے۔اکنامک سروے رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ ریاست کو نیشنل ہیلتھ میشن کے تحت 7014ڈاکٹروں کی اسامیاں بھی موجود ہے جن میں 38ماہرین کی اسامیاں، 557ایم بی بی ایس ڈاکٹرز، 872آیوش ڈاکٹرز ، 16ڈینٹل سرجن اور 5531طبی عملی کی اضافی اسامیاں بھی موجود ہے۔ اکنامک سروے رپوٹ میں کیا گیا ہے کہ سال 2017کے دوران بچوں کی اموات میں 8فیصد کمی آئی ہے اور یہ اب 34سے کم ہوکر 26/1000رہ گئی ہے۔ ادھر نیشنل ہیلتھ سروے میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ژچہ بچہ کو فراہم ہونے والی طبی سہولیات میں بہتری آئی ہے تاہم اپریل 2018میں محکمہ صحت میں افرادی و طبی تعلیم اور سماجی بہبود میں افرادی قوت میں کمی کا پتہ لگانے کیلئے بنائی گئی آڈٹ رپوٹ میں بھی ڈاکٹروں کی کمی کی نشاندہی ہورہی ہے۔
محکمہ طبی تعلیم میں عملہ کی کمی
افرادی قوت کی کمی کیلئے اپریل مہینے میں منظر عام پر لائی گئی آڈٹ رپوٹ کے مطابق جموں اور سرینگر میڈیکل کالج میں تدریسی عملہ کی بیشتر اسامیاں خالی پڑیں ہیں۔ رپوٹ کے مطابق جی ایم سی جموں میں طبی عملی کی 191اسامیوں میں سے صرف 142پہلے سے ہی پر ‘ ہے جبکہ تدریسی عملہ کی 49اسامیاں خالی پڑیں ہیں۔ رپوٹ کے مطابق جموں میڈیکل کالج میں پروفیسروں کی منظورشدہ 60اسامیوں میں سے 53پہلے سے ہی کام کررہے ہیں جبکہ 7اسامیاں خالی پڑیں ہے جبکہ ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی 62اسامیوں میں سے 16خالی پڑیں ہیں۔ رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ایم سی جموں میں اسسٹنٹ پروفیسروں کی 69اسامیوں میں سے 26خالی پڑیں ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں تدریسی عملہ کی 256اسامیوں میں سے بھرتی عمل کی سستی کی وجہ سے 98اسامیاں ابھی بھی خالی پڑیں ہے۔
سپر سپیلٹی اسپتالوں میں عملی کی کمی
جموں اورسرینگر میں قائم کئے گئے سپرسپیشلٹی اسپتالوں کیلئے اگر چہ بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا ہے مگر ریاست کے دونوں صوبوں میں قائم سپر سیپلٹی اسپتالوں میں طبی اور تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے اور ریاستی سرکار نے دونوں اسپتالوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا ہے اور دونوں اسپتالوں میں عملہ کی قلت کی وجہ سے کروڑوں روپے کی مشینری زنگ آلودہ ہورہی ہے۔ سپر سپیشلٹی اسپتال جموں میں پروفیسروں کی 15منظور شدہ اسامیوں میں سے 14اسامیاں خالی پڑیں ہیں جبکہ ایک پہلے سے ہی پر کی گئی ہے جبکہ اسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی 17اسامیوں میں سے 16خالی پڑیں ہیں اور ایک پہلے سے ہی پر کی گئی ہے۔ مین پاور آڈٹ رپوٹ میں لکھا گیا ہے کہ لیکچرروں کی 21اسامیوں میں سے 15خالی پڑیں ہے جبکہ 6پر کی گئی ہیں۔ سپر سپیشلٹی اسپتال سرینگر کی حالت کچھ بہتر نہیں ہے اور سپر سپیشلٹی اسپتال شیرین باغ میں بھی پروفیسروں کی منطور شدہ 14اسامیوں میں سے ایک پر کی گئی ہے جبکہ 13اسامیاں خالی پڑیں ہیں۔ رپوٹ کے مطابق سپر سپیشپلتی اسپتال شرین باغ میں ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی 16اسامیوں میں سے 16خالی پڑیں ہے جبکہ اسسٹنٹ پروفیسروں کی 26اسامیوں میں سے 20اسامیاں خالی پڑیں ہے۔ سپر سپیشلٹی اسپتال شرین باغ میں لیکچروں کی 50 اسامیوں میں سے 15بھر لیں گئیں ہیں جبکہ 45اسامیاں خالی پڑیں ہیں۔ رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ طبی تعلیم کے تحت کام کرنے والے میڈیکل کالجوں اور سپر سپیشلٹی اسپتالوں کیلئے سال 2008-07میں 303اسامیوں کو بھرتی کیلئے پبلک سروس کمیشن کو بھیجاگیا تھا جن میں 184کی بھرتی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ 119ڈاکٹروں کی بھرتی کا عمل سست رفتاری کا شکار ہے جسکی وجہ سے مریضوں و طلبہ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ طبی تعلیم کے تحت آنے والے اسپتالوں اور سپر سپیشلٹی اسپتالوں میں نہ صرف ڈاکٹروں کی سخت قلت محسوس کی جارہی ہے بلکہ محکمہ طبی تعلیم کے اسپتالوں اور طبی اداروں کیلئے منظور شدہ نان گذٹیڈ ملازمین کی منظورشدہ اسامیوں کی تعداد 17841ہے مگر اس میں 14330اسامیاں بھر لی گئی ہیں جبکہ 3511اسامیاں ابھی بھی خالی پڑیں ہے۔ محکمہ خالی پڑیں 3511اسامیوں میں سے درجہ چہارم کی 1220اسامیاں موجود ہے جن میں جموں کی 773اور کشمیر صوبے کیلئے 447اسامیاں موجود ہے۔ پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر سامیہ رشید نے بتایا ’’ اعلیٰ عہدوں کیلئے ہمیں درخواستیں معصول نہیں ہوئی اور باقی اسامیوں کو ہم نے ایس اور او 384کے تحت اڈہاک بنیادوں پر پر کیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر سامیہ رشید نے کہا ’’کچھ اسامیوں کو ہم نے مئی مہینے میں پرُ کیا ہے مگر کچھ اسامیاں رہ گئی ہے۔ انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسروں اور ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی اسامیوں کیلئے کسی نے درخواست نہیں دی اور اسلئے اب ہمیں موموجودہ عملہ کو ہی ترقی دیکر پروفیسروں اور اسسٹنٹ پروفیسروں کی اسامیوں کو پر کرنا ہوگا۔
محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سلیم الرحمن نے بتایا ’’ محکمہ صحت میں مین پاور آڈٹ رپوٹ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار بنا ہے اوریہ سیکریٹر ی ہیلتھ نے تیار کرایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس رپوٹ میں ہر بات کو باریک بینی سے لکھا گیا ہے تاہم میں یہ رپوٹ ابھی نہیں پڑی ہے اور اسلئے میں اس پر کوئی بھی بات کرنے سے قاصر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ رپوٹ کو پڑھنے میں وقت درکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مین پاور آڈٹ رپوٹ اور اکنامک سروے رپوٹ پر میں پڑھنے کے بعد ہی بات کرسکتا ہوں۔