خبریں

وزیر اعظم عمران خان کی ہند پاک دوستی کی پہل کا مثبت جواب دیں/محبوبہ مفتی

وزیر اعظم عمران خان کی ہند پاک دوستی کی پہل کا مثبت جواب دیں/محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کی صدر اور ریاست کی سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پارٹی کے یوم تاسیس کے موقعہ پر بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پڑوسی ملک پاکستان کے نئے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دوستی کی پیش کش کا مثبت انداز میں جواب دیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر رشتوں کو مضبوط بنانے اور خطہ میں ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ پڑوسی ملک پاکستان کے نئے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی حالیہ دوستی کی پیش کش کا مثبت جواب دیں۔
محبوبہ مفتی نے اپنی تقریر میں کہا ہمسایہ ملک پاکستان میں نئی حکومت تشکیل پانے جارہی ہے جہاں نیا وزیر اعظم ہوگا۔ اس لئے دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں سدھار لانے کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا میں وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرنا چاہتی ہوں کہ وہ پڑوسی ملک کی طرف سے دوستی کی پیش کش کا مثبت انداز میں جواب دیں۔ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہادونوں ممالک کے درمیان رشتوں کی مضبوطی ہی کامیابی کی ضمانت ہے جس کے لیے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کو سنجیدہ اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔ ریاست جموںوکشمیر میں صدیوں سے خون خرابے کا بازار گرم ہے ، لوگوں کی تجارت، تعلیم ، معیشت وغیرہ انتہائی درجے تک متاثر ہوچکی ہے۔ اس سب کو ایڈرس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہندوپاک کی سیاسی قیادت کو سنجیدہ اقدامات اُٹھانے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک میں رہ رہے عوام کو امن و سکون کی زندگی میسر ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں سدھار آنے سے خطے میں بھی غیر یقینی کے بادل چھٹ جائیں گے اور ہر سو امن، سکون اور خوشحالی کا ماحول قائم ہوگا۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ملک میں آنے والے انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ تھامنے میں مانع نہیں بننے چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، آپ سے پہلے بھی ملک کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ انہوں نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپائی نے بھی سال 2004سے پہلے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جس کے بعد سرحدوں پر جنگ بندی کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو فراخ دل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں ہورہے انتخابات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور اس طرح ایک بہت بڑا فیصلہ لیا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے عوام نے راحت کی سانس لی۔پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ ایک قدآور لیڈر انتخابات کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ اسے لوگوں کی فکر لاحق ہوتی ہے۔
پی ڈی پی صدر نے اپنی تقریر کے دوران کہا پنڈت جواہر لعل نہرو ، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ، آئی کے گجرال، اٹل بہاری واجپائی ہوں یا نریندر مودی، ریاست جموں وکشمیرہمیشہ ملک کے وزرائے اعظم کے سامنے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے نریندر مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک کا جو بھی وزیر اعظم جموں وکشمیر کے مسئلے کو انسانی دائرے کے اندر حل کرنے ، خون خرابے کو رکوانے اور پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی پہل کرے گا اُس کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو موقعہ کو غنیمت جان کر پاکستان کے نئے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی پیش کش کا مثبت جواب دے دینا چاہیے۔ریاست میں آج تک ہوئے انتخابات کے حوالے سے پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ ریاست کے لوگوں میں یہ گمان رہا ہے کہ یہاں ہمیشہ نئی دہلی کی اپنی پسندیدہ سرکاریں اقتدار میں لاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چاہے 1984ہو یا 1987کے انتخابات ہوں، لوگوں کے اندر یہ تصور تھا کہ یہاں نئی دہلی ہی سرکاریں منتخب کرواتی ہے جس کے بعد یہاں ریاستی عوام کا جمہوریت کے تئیں اعتبار کم ہوتا گیا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا پی ڈی پی کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے سامنے کی جنہوں نے مرحوم مفتی سعید کو یقین دلایا کہ ریاست میں آنے والے انتخابات شفاف طریقے پر منعقد کرائیں جائیں گے۔ انہوں نے بتایاپی ڈی پی نے اقتدار میں آنے سے قبل لوگوں کے ساتھ مختلف وعدے کئے جن میں پوٹا اور ٹاسک فورس کو ختم کرانا، پاکستان اور حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا شامل تھا، نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اُن وعدوں پر عمل کرکے دکھایا جو پی ڈی پی کے اختیار میں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات چونکہ پی ڈی پی کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا تاہم ہم نے ہمیشہ ہندوپاک کے درمیان رشتوں میں سدھار لانے کے لیے بات چیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپائی کے دورا اقتدار میں نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں 2بار بات چیت ہوئی جن میں حریت کانفرنس سے وابستہ لیڈران نے حصہ لیا جن میں میرواعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک اور پروفیسر عبدالغنی بٹ شامل تھے۔
محبوبہ مفتی نے کہا ریاست میں غیر یقینی صورتحال اور خون خرابے کے بیچ یہاں یتیموں، بیوائیوں کی ایک بڑی فوج جمع ہوئی جبکہ اس دوران یہاں قبرستانوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے یہاں کے لوگوں کو امن کی زندگی فراہم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو مضبوطی عطا کرنے کے لیے ہمیشہ بات چیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی کا بنیادی نظریہ یہی رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں سدھار آجائے جس کے لیے پی ڈی پی نے وجود میں آنے کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی خواہش ظاہر کی ۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے اقتدار میں رہ کر بھی اور اقتدار سے باہر بھی ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر رشتوں کی بحالی پر زور دیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ 2014کے سیلاب کے بعد ریاست میں تعمیری ڈھانچہ مکمل طور پر تہس نہس ہوا تھا اور لوگ سخت مشکلات سے دوچار تھے لیکن پی ڈی پی نے ریاست کے مجموعی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ اُس وقت بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا زہر کے پیالے کو پینے کے مترادف تھا لیکن ہم نے عوامی منڈیٹ کو قبول کرتے ہوئے اور ریاست کے مجموعی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بتایا کہ پی ڈی پی نے مخلوط حکومت میں رہ کر کبھی بھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ذاتی طور بحیثیت ریاستی وزیر اعلیٰ کے 2برسوں کے دوران کسی بھی معاملے پر مصلحت پسندی سے کام نہیں لیابلکہ ہر لمحہ ریاست کے تشخص اور یہاں کے عوام کے مجموعی مفاد کی ترجمانی کی۔
محبوبہ مفتی نے جلسہ کے دوران ریاست کی سبھی سیاسی جماعتوں کو آرٹیکل 35Aکے تحفظ کی خاطر یک جٹ ہوجانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموںوکشمیر کو خصوصی تشخص فراہم کرنے والی آئینی شق آرٹیکل 35Aکا سبھی سیاسی جماعتوں کو تنظیمی مفادات سے بالاتر ہوکر اس کا دفاع کرنا ہوگا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو ریاست کے تشخص کے تحفظ کے حوالے سے آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خود غرض عناصر سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے درمیان دوریاں بڑھانے کی کوششیں کررہے ہیں جس کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت آرٹیکل 35Aکا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا ریاست کی سبھی سیاسی جماعتوں کو تنظیمی مفادات سے بالاتر ہوکر ریاست کے تحفظ کی خاظر یک جٹ ہوکر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ میں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ کے 2برسوں کے دوران کسی بھی سطح پر ریاستی عوام کی خواہشات کا سودا نہیں کیا اور نہ ہی مصلحت پسندی سے کام لیا۔