مضامین

وزیر داخلہ کا دورہ ریاست

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اپنی وزارت کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم کے ہمراہ ریاست کے چاروزہ دورے پر سرینگر وارد ہوئے اور اپنے دورے کا آغاز وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ وَن ٹو وَن ملاقات سے کیا۔وزیر داخلہ دن بھر زندگی کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے متعددوفود کے ساتھ بھی ملاقی ہوئے اور شام دیر گئے ریاست کے گورنر این این ووہرا کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔راجناتھ سنگھ نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران وزیراعظم کے اقتصادی پیکیج پر عمل آوری کا بھی جائزہ لیا۔
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سنیچر کی صبح سرینگر پہنچے اور ہوائی اڈے پر ان کا استقبال ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ سمیت دیگر کئی وزراء اور پولیس و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے کیا۔وزیر داخلہ کے ہمراہ داخلہ سیکریٹری راجیو گوبا کے علاوہ وزارت داخلہ کے سینئر افسران پر مشتمل ایک ٹیم بھی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ راجناتھ سنگھ نے اپنے چارروزہ دورے کا باضابطہ آغا ر سرینگر کے نہرو گیسٹ ہائوس میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ وَن ٹو وَن ملاقات سے کیا۔دونوں لیڈران نے ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال اور تعمیر و ترقی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس دوران پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے ایجنڈا آف الائنس پر عمل آوری کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔بعد میں وزیر داخلہ کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم کے 80ہزار کروڑ روپے کے اُس اقتصادی پیکیج پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا جس کا اعلان نریندر مودی نے سال2015میں ریاست کے دورے کے دوران کیا تھا۔اس میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ ، ریاست کے چیف سیکریٹری بی بی ویاس اور مرکزی وزارت داخلہ کے افسران کے علاوہ مختلف محکموں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔راجناتھ سنگھ نے میٹنگ کے شرکاء کو بتایا کہ مرکزی سرکار نے پہلے ہی62599کروڑ روپے واگزارکئے ہیں جو وزیر اعظم کے اقتصادی پیکیج کا قریب78فیصد حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پیکیج میں سال2014کے قیامت خیزسیلاب کی زد میں آکر مکمل یا جزوی طور تباہ ہوئے رہائشی مکانات کے مالکان کیلئے مالی معاونت بھی شامل ہے اور1200کروڑ روپے پر مشتمل یہ پروجیکٹ مکمل کیا گیا ہے۔وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ قومی شاہراہ کے چنانی ناشری حصے کی فورلیننگ کا کام781کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ پیکیج کے تحت دیگر پروجیکٹوں پر عمل آوری کے کام میں سرعت لائیں جس سے ریاست کے لوگوں کیلئے روزگار کے وسائل پیدا ہونگے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے سرینگر میں قیام کے دوران دن بھر سول سوسائٹی ممبران، تجارتی انجمنوں کے نمائندوں اور کالج طلباء سمیت زندگی کے مختلف طبقہ ہائے فکرسے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں انہوں نے متعدد وفود کے ساتھ ملاقات کی۔ راجناتھ سنگھ نے دیر گئے ریاست کے گورنر این این ووہرا کے ساتھ بھی ملاقات کی اور گورنر نے ان کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام بھی کیا۔اس ملاقات کے دوران سیکورٹی کے اعتبار سے ریاست کی تازہ ترین صورتحال پر خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔وزیر داخلہ اتوار کو پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کی جانکاری حاصل کریں گے۔اس کے علاوہ وہ پولیس، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کے افسران اور اہلکاروں سے بھی ملیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ جموں روانہ ہونے سے قبل راجناتھ سنگھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ان کا جموں میں زندگی کے مختلف طبقوں سے وابستہ وفود سے ملاقاتوں کا پروگرام ہے جن میں سیاسی پارٹیوں کے علاوہ سول سوسائٹی ممبران، تاجر، مائیگرنٹ پنڈت نمائندے، گوجر اور بکروال بھی شامل ہیں۔جموں میں قیام کے دوران وزیر داخلہ راجوری میں ایک بی ایس ایف کیمپ کا دورہ بھی کریں گے۔
دورہ ریاست سے پہلے ہی مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کشمیر میں تمام گروپوں کومذاکرات کیلئے دعوت عام دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ کھلے ذہن کیساتھ مسئلہ کشمیر کو لیکر ہر کسی کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں اورجو کوئی بھی ان کیساتھ بات کرنا چاہتا ہے اس کیلئے بات چیت کا دروازہ کھلا ہے ۔انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ مرکزی حکومت کشمیر مسئلے کے حل کو لیکر پرُعزم ہے لہٰذا سبھی کو بات چیت کیلئے آگے آنا ہوگا ۔
اپنے چار روزہ دورہ جموں وکشمیر کی شروعات سے قبل مرکزی وزیرداخلہ نے ریاست جموں وکشمیر میں بات چیت شروع کرنے کا بگل بجادیا ۔ نئی دلی میں نامہ نگاروں کیساتھ بات چیت کے دوران مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دورہ کشمیر کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں کھلے ذہن کیساتھ کشمیر جارہاہوں اور ہر کسی کیساتھ کشمیر معاملے کو لیکر بات چیت کیلئے تیارہوں ‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’ذاتی طور پر میں ہر کسی سے بات چیت کرنے کو ترجیح دونگا کیونکہ کشمیر مسئلے کو لیکر مرکز حل کا عزم رکھتی ہے اور سبھی معاملات کا حل چاہتی ہے لہٰذا کشمیر میں سبھی گروپوں کیلئے مذاکرات کے حوالے سے دعوت عام ہے ‘‘۔انہوں نے علیحدگی پسندوں کا نام نہ لیتے ہوئے کہاکہ سرکار کشمیر ایشو کو سلجھانے کیلئے سنجیدہ ہے لہٰذا سبھی کو آگے آنا ہوگا اور کوئی بھی فریق ہو اس کو مذاکرات کی خواہش ہو تو اس کےلئے مذاکرات کے لئے راہ ہموار کیا جاسکتا ہے
مرکزی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میں کھلے ذہن کیساتھ کشمیرکا دورہ کررہاں ہوں اور ایسے میں مسائل کو حل کرنے کیلئے سبھی لوگ آگے آئیں گے تو مسائل کا حل نکل آئیگا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ریاست جموں وکشمیر کے سبھی خطوں میں جائیں گے اور وہاں مختلف الخیال رکھنے والے لوگوں کیساتھ کھلے ذہن سے بات کریں گے اور ان کی شکایات اور مشکلات کا احاطہ کریں گے ۔ اپنے چار روزہ دورے کے حوالے سے راجناتھ سنگھ سرینگر ، اننت ناگ ،جموں راجوری میں سول سوسائٹی کے لوگوں سے بھی بات کریں گے جبکہ مختلف کالجوں کے طلباء کیساتھ براہ راست انٹریکشن بھی ہوگی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے دورہ سے قبل کہا تھا کہ وہ تاجر برداری ، طلباء اور دیگر سیاسی اور سماجی طبقوں کے لیڈران کیساتھ بھی بات کریں گے ۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ان کے دورے کا مقصد حالات کو بہتر بنانا ہے اور ماحول کو سازگاربنانا ہے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ بحال کیا جاسکے ۔ اس موقعے پر انہوں نے علیحدگی پسندوں کا نام نہ لیتے ہوئے کہاکہ مذاکرات سبھی کیساتھ ہوسکتے ہیں اور ایسے میں کسی کو بھی آگے آنا ہوگا یا کوئی بھی ان کے پاس مذاکرات کیلئے آئے گا اس کے لئے دروازہ بند نہیں ہوگا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سبھی سٹیک ہولڈروں یعنی فریقوں کیساتھ بات چیت ناگزیر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی طرح سے مسائل کاحل تلاش کرنے کیلئے نکلے ہیں لہٰذا ہمیں سبھی سے آگے آنے کی امید ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ کا چارروزہ دورہ حقیقی معنوں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ سرینگر کے کالج طلباء کیساتھ بھی کشمیر کو لیکر بات کریں گے اور ان سے تجاویز حاصل کریں گے ۔اس کے علاوہ ان کا سول سوسائٹی کیساتھ سے وابستہ افراد کیساتھ بھی ان کی ملاقاتیں طے ہیں جس کے دوران سیاسی لیڈران جن میں اپوزیشن کے لیڈران کیساتھ بھی ان کی ملاقاتیں طے ہیں
وزیر داخلہ نے سرینگرپہنچتے ہی وزیراعلی محبوبہ مفتی کے ساتھ میٹنگ کی اور رات دیر گئے گورنر این این ووہرا کیساتھ بھی ون ٹو ون میٹنگ کیا، جس میں ریاست کی تازہ ترین سیاسی اور سیکورٹی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم پیکیج کے تحت خرچ رقومات کا بھی جائزہ لیا گیا اور مرکزی معاونت والی اسکیموں کی عمل آوری پر بھی بات چیت کی گئی ۔
مرکزی وزرات داخلہ کی جانب سے دورے سے قبل جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ ریاست میں تازہ ترین سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے یونیفائیڈ کمانڈ کی اہم ترین میٹنگ کی صدارت کریں گے جس میں ریاستی وزیراعلیٰ اور دیگر فوجی اور سیکورٹی افسران بھی موجود ہونگے ۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزیرداخلہ ریاست میں جنگجو مخالف کاروائیوں سے متعلق بھی اسی میٹنگ میں جانکاری حاصل کریں گے۔اس دوران بی ایس ایف کے جوانوں کیساتھ بھی وزیر داخلہ کی ملاقات طے کی گئی ہے اور جموں میں بھی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کیساتھ وزیر داخلہ بات چیت کریں گے ۔ وہ بی ایس ایف راجوری کے کیمپ کا بھی دورہ کریں گے جبکہ جموں میں بھی وزیر داخلہ مہاجر کشمیری پنڈتوں کی وفود ،مہاجریں، تاجروں اور گوجر بکرول طبقے سے وابستہ لوگوں کیساتھ بھی ملاقات کریں گے ۔ملی ٹینسی مخالف کاروائیوں سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کیلئے وزیر داخلہ اننت ناگ میں سیکورٹی کے افسران کیساتھ بھی بات کریں گے ۔ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے ہمراہ وزرات داخلہ کی افسران کی ایک بڑی ٹیم بھی موجود ہو ہے، وزیراعظم پیکیج سے متعلق جانکاری حاصل کیا گیا اور اسی ہزار کروڑ کے پیکیج کی عمل آوری سے متعلق مختلف اسکیموں کاجائزہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیا گیا ۔اس کے علاوہ ریاست میں تعمیر وترقی کی رفتار کا بھی جائزہ گیا اور مرکزی معاونت سے چلائی جارہی اسکیموں سے متعلق بھی جانکاری حاصل گئی ۔ واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ کی آمد پر علیحدگی پسندوں نے 10ستمبر یعنی اتوار کو مکمل ہڑتال کی کال دی تھی ۔