نقطہ نظر

ٍٍکشمیر مسئلے پر مذاکرات کی بحالی کےلئے عمران کی پیشکش / یوم پاکستان پر نریندرمودی کی پاکستانی عوام کو مبارک بادی کا پیغام

مانیٹرنگ ڈیسک

جنگی صورتحال کے بیچ ہندوپاک کے درمیان سفارتی سطح پر اس وقت یخ ٹوٹ گئی جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یوم پاکستان کے موقعے پر پاکستانی قوم اور وزیراعظم کے نام مبارک بادی کا پیغام دیا اور مشترکہ طور پر جمہوری طور پر ترقی یافتہ خطہ بنانے کی تجویز پیش کی جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں جواباً کشمیر سمیت تمام مسائل پرجامع مذاکرات کی بحالی کی پھر پیش کش کر دی ،عمران خان نے کشمیر کو دونوں ممالک کے درمیان اہم مدعا قرار دیتے ہوئے کہاکہ یوم پاکستان کے موقعے پر پاکستانی عوام کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی حامی تھی ہے اور رہیگی ۔ اس دوران پاکستانی صدر عارف علوی نے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے اور پاکستان جمہوری ملک ہونے کے ناطے جنگ میں نہیں بات چیت میں یقین رکھتا ہے۔
یوم پاکستان کے موقعے پر پاکستان نے اپنی فوجی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا اوراس تقریب میں ملیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد مہمان خصوصی تھے جبکہ اس دوران فوجی پریڈ میں چینی جنگی طیاروں نے بھر پور کرتب کا مظاہرہ کیاا ورپاکستان نے فضائی کے ساتھ ساتھ زمینی طاقت کا بھی بھر پور مظاہرہ کیا ۔ اس دوران یوم پاکستان کے موقعے پر ہندوپاک کے درمیان فضائی حملے کے بعد پہلا سربراہی سطح کا رابط ہوا جس میں وزیراعظم مودی نے پاکستان کے نام اپنے پیغام میں پاکستانی عوام کو یوم پاکستان کے موقعے پر مبارک باد پیش کی ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ مشترکہ طور پر دونوں ممالک جمہوریت کو پروان چڑھانے اور خطے کو دہشت گردی سے پاک اور تعمیر وترقی کو یقینی بنانے کی کوششیں کرسکتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں بھارت کو ہر ممکن تعاون پیش کریگا
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں کہاکہ بھارت چاہتا ہے کہ دہشت گردی کا مشترکہ طور پر خاتمہ کیاجائے اور ایسے میں خطے میں تعمیر ترقی کو یقینی بنایا جائے اور جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے مشترکہ طور پر دونوں ممالک مل کر کام کریں ۔ چنانچہ فوری طور پر بھارتی وزیراعظم کے خیر سگالی جذبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے وزیراعظم نریندر مودی کو شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر انہیں پیشکش کی ہے کہ دونوں ممالک غربت کے خاتمے اور صحت سے جڑے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوشش کریں اور ایسے میں عمران خان نے وزیراعظم مودی کو پھر مذاکرات کی بحالی کی پیشکش کرتے ہوئے کہاکہ تمام تنازعات کا حل بشمول کشمیر مسئلے کا حل نکالنے کیلئے دونوں ممالک فوری طور پر مذاکرات بحال کریں اور یہ پیش کش کرتے ہوئے عمران خان نے کھل کر کشمیر مسئلے کو دونوں ممالک کے درمیان کور ایشو سے تعبیر کیا ہے۔عمران خان نے کہاکہ میں وزیراعظم مودی کے نیک خواہشات پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن ساتھ ہی یہ پیش کش کرتا ہوں کہ دونوں ممالک تمام تنازعات پر بات چیت شروع کریں تاکہ خطے میں امن وامان کی فضا کو بحال کیا جاسکے ۔ اس دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی رہتی ہے جس کا خمیازہ دونوں ممالک کے عام لوگوں اور فوجیوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے سیاستدان تو سیاست کرکے چلے جاتے لہٰذا کیا ہی اچھا ہوتاکہ دونوں ممالک آپسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں ۔ عمران خان نے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نے مجھے پاکستان پریڈ ڈے پر امن کا پیغام بھیجاہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم پاکستان پر امن کا پیغام دیا گیا ہے۔
پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب کو کشمیر پر پھر مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہاکہ اس سے مسائل حل ہونگے تاہم انہوں نے کہاکہ کشمیری تنہا نہیں ہیں اور پورا پاکستان ان کیساتھ ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کی صورت میں عوام کو اپنے حقوق اور مذہبی آزادی ملی، آج کا پاکستان ایک نیا پاکستان ہے جب کہ ہم پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک سے برابری کی سطح پر دوستانہ اور پر امن تعلقات کے خواہاں ہیں، ہماری خواہش ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہم سب مل کر غربت کا خاتمہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کی خاطر ہر قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر ہو چکا، ہمیں اپنی بہادر مسلح افواج پر فخر ہے۔
پاکستانی وزیراعظم نے کشمیر کے حوالے سے پیغام دیا کہ آج کے دن ہمیں اپنے ان کشمیری بھائیوں کو ہر گز نہیں بھولنا جو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے غیور عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہم حق خودارادیت کے حصول کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت دنیا کے ہر فورم پر جاری رکھیں گے۔اس دوران صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک حقیقت ہے اور بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا۔صدر مملکت نے کہا کہ ۲۳ مارچ پاکستان کے حصول کا سنگ میل ہے، قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت نے پاکستان کے حصول کو یقینی بنایااللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرتے ہیں اس نے آزادی جیسی نعمت عطاکی، آج آزادی کا حصول قربانی کا متقاضی ہے، پوری قوم تجدید عہد کے ساتھ یوم پاکستان منارہی ہے۔ آج پاکستان ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہے۔ صدر پاکستان نے کہا کہ جب پاکستان ہماری پہچان بنا تو ہمیں لامحدود چیلنجز کا سامنا تھا، ہماری زندگیوں میں بہت سے نشیب و فراز آئے اور ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، ہمیں حالیہ تاریخ میں اپنی قومی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس نے اتنی لمبی لڑائی لڑی جانی و مالی قربانی دی مگر بے پناہ حوصلے سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے اور ہم زندہ و تابندہ ازاد قوم ہیں، بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا، ہمیں نظریات اور تصورات کی عینک سے دیکھنا بھارتی قیادت کی تنگ نظری ہوگی، یہ خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے، خطے کو امن کی ضرورت ہے، ہمیں جنگ کے بجائے تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے، ہماری اصل جنگ غربت اور بے روزگاری کے خلاف ہے۔ تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں ہم لڑائی پر یقین نہیں رکھتے، ہم مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، بھارت بھی حقائق کوتسلیم کرے، ہم نے بہترین حکمت عملی سے بھارت کو جواب دیا، ہم پْر امن قوم ہیں لیکن اپنے دفاع سے ہرگز غافل نہیں ۔ اس طرح سے ہندوپاک سربراہی سطح پر پہلا رابطہ ہونے کیساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان یخ ٹوٹ گیا۔