سرورق مضمون

پارلیمنٹ الیکشن کا آغاز این سی ، کانگریس اور پی ڈی پی سربراہ میدان میں

ڈیسک رپورٹ
جموں میں این سی اور کانگریس کے انتخابی اتحاد کے بعد جموں اور اودھم پور کی نشستیں کانگریس کے لئے مخصوص کی گئی ہیں ۔ پی ڈی پی نے ان دو انتخابی نشستوں سے کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ سیکولر ووٹ تقسیم ہونے کا خطرہ تھا ۔ اسی لئے ان دو نشستوں سے امیدوار کھڑے نہیں کئے گئے ۔ این سی نے الزام لگایا ہے کہ پی ڈی پی نے جموں میں بی جے پی کو مدد کرنے کے لئے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بی جے پی کو مدد ملنے کا امکان ہے۔ ادھر وادی میں تین پارٹیوں کے سربراہ میدان میں اتر رہے ہیں ۔ سرینگر سے این سی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پہلے ہی نامزدگی فارم داخل کیا ہے ۔ اننت ناگ حلقے سے پی ڈی پی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ایک بار پھر الیکشن لڑنے کے لئے میدان میں آرہی ہیں ۔ ان کے مقابلے میں این سی کے حسنین مسعودی کے علاوہ کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر بھی میدان میں موجود ہونگے ۔ بارہمولہ سے کانگریس نے پہلے سیف الدین سوز کے بیٹے کو منڈیٹ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ بعد میں فیصلہ بدل دیا گیا اور ان کی جگہ دوسرا شخص میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ۔ یہاں سے پی ڈی پی اور پیوپلز پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں ہونگے ۔ این سی نے بارہمولہ سے اکبر لون کو منڈیٹ دیا ہے ۔ اکبر لون نے پہلے ہی قدم پر ایک متنازع بیان دے کر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ۔ لون نے بی جے پی پر وار کرتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف کچھ ناشائستہ الفاظ استعمال کئے ۔ اس کے علاوہ اسمبلی میں اپنی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے لون کے خلاف کاروائی کرنے کی مانگ کی ہے ۔ بی جے پی کے مرکزی لیڈر رام مادھو جموں میںایک جلسے سے خطاب کرنے کے لئے آئے تھے ۔ مادھو نے مانگ کی کہ الیکشن کمیشن اکبر لون کے خلاف کاروائی کرے ۔ اگرچہ تاحال کسی طرح کی کاروائی کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ تاہم لون کے اس بیان سے سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔
ریاست میں اپریل میں ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہوگا ۔ علاحدگی پسندوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ تاہم سیاسی جماعتوں کی طرف سے کئی درجن امیدواروں نے میدان میں آکر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے ۔اس حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ سابق آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل کی طرف سے بنائی گئی پارٹی نے پارلیمنٹ الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ لیا ہے ۔ پارٹی صدر کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ پارلیمنٹ انتخابات لڑنے کے بجائے ان کی پارٹی جموں کشمیر پیوپلز مومنٹ اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی ۔ پیوپلز مومنٹ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ سابق ایم ایل اے اور وزیر جاوید مصطفیٰ نے پی ڈی پی چھوڑ کر پیوپلز مومنٹ میں شامل ہونے کا فیصلہ لیا ہے ۔ اس سے پارٹی کارکنوں کو کافی حوصلہ ملا ہے ۔ تاہم ابھی تک شمالی کشمیر سے باہر پارٹی کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے ۔ سرینگر میں پارٹی کی طرف سے ایک کنونشن منعقد کیا گیا۔ اس میں بھی کہا جاتا ہے کہ بیشتر لوگ شمالی کشمیر سے لائے گئے تھے ۔ پارٹی ان الزامات سے انکار کررہی ہے۔ جنوبی کشمیر میں سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ منظر نامہ ابھی تک واضح نہیں ہے ۔ اس حلقے سے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے غلام احمد میر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ پی ڈی پی کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح ان کی لیڈر ایک بار پھر عوام کو اپنی طرف لانے میں کامیاب ہوگی ۔ جو پارٹی لیڈر میدان میں ہیں کسی کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ ان میں سے کون پارلیمنٹ کی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا ابھی کچھ کہنا مشکل ہے ۔ مرکز میں بھی الیکشن منظر نامہ واضح نہیں ہے۔ وزیراعظم مودی پچھلے انتخاب کی طرح عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں ۔ مودی ویو نظر نہیں آرہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یوپی ۔ کرناٹک ، تامل ناڑو اور بہار میں بی جے پی کو مشکلات ہیں ۔ اس وجہ سے اس کے لئے مطلوبہ حمایت حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ بی جے پی اپنی اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ چلارہی ہے ۔ اس کے برعکس کانگریس نے کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کیا ہے۔ کانگریس نے یوپی میں اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور امیدوار میدان میں اتارے ۔ اس پارٹی نے وہاں کی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے صاف انکار کیا ۔ پارٹی کی طرف سے پہلی بار پرینکا گاندھی کو الیکشن مہم کا انچارج بنایا گیا ۔ اس کے ہاتھوں پارٹی وہاں کامیابی کی امید کررہی ہے ۔ دوسری طرف ریاست کی دو بڑی پارٹیوں نے الیکشن اتحاد کا اعلان کیا ہے ۔ اس وجہ سے کانگریس کے علاوہ علاقائی پارٹیوں کو نقصان ہونے کا خطرہ ہے ۔ جس کا صاف فائدہ بی جے پی کو ملے گا ۔ ریاست میں پہلے ہی بی جے پی کی حکومت قائم ہے ۔ اس حکومت کی طرف سے اقلیتوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی انتہا پسند گروپوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ۔ ان کی حمایت سے الیکشن جیتنے کا اعلان کیا جارہاہے ۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ یوپی میں پہلے سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی۔ دوسری طرف اکھلیش نے اعلان کیا ہے کہ بی جے پی ریاست میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کرے گی ۔ اسی طرح کرناٹک اور بنگال میں بی جے پی کو مزاحمت کا سامنا ہے ۔ دہلی میں کیجریوال کوشش کررہے ہیں کہ بی جے پی کو کسی بھی طرح اقتدار سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے کئی گروہوں کے ساتھ اتحاد کرکے بی جے پی کو شکست دینے کی اپنی کوششوں میں سرعت لائی ہے ۔ بی جے پی کو مرکز میں شکست ہوجائے تو ریاستوں میں اس کا اقتدار قائم رکھنا بہت دشوار نظر آرہاہے ۔ اسی دوران بی جے پی کی کوشش ہے کہ پاکستان اور دوسرے علاحدگی پسند گروپوں کے خلاف نفرت کو بھڑکاکر الیکشن میں جیت حاصل کی جائے ۔ نریندر مودی نے جموں میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ان کے الیکشن ہارنے کی دعائیں مانگی جارہی ہیں ۔ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ الیکشن ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں کہاکہ نئی حکومت بننے تک ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے کی امید نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی طرف سے بات چیت کی دعوت کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا ۔ ان کا خیال ہے کہ الیکشن کے بعد پیش رفت کا امکان ہے۔ ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق جموں میں وزیراعظم نے این سی اور پی ڈی پی کے علاوہ کانگریس پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں جاری ملی ٹنسی کے لئے یہی جماعتیں ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ریاست میں عسکریت کے خاتمہ کے لئے بی جے پی کو ووٹ دیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان جماعتوں نے سیاست میں خاندانی راج قائم کرنے کا رواج ڈالا اور تینوں جماعتوں کو صرف اپنے خاندان آگے بڑھانے کے ساتھ دلچسپی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی حفاظت کی انہیں کوئی فکر نہیں ۔ مودی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان جماعتوں نے ملک کو ہمیشہ کمزور کیا اور سیکورٹی ضروریات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔اس طرح سے ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں الیکشن سرگرمیاں آگے بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ جموں میں بی جے پی کے کئی اہم لیڈر پارٹی سے الگ ہوکر الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اس کے علاوہ کانگریس اور این سی نے یہاں متحد ہوکر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ۔ جموں کی دو نشستیں کانگریس کے لئے مخصوص کی گئیں ۔ پی ڈی پی نے کوئی امیدوار میدان میں اتارنے سے انکار کیا ۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے بھاجپا کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس کی باوجود الیکشن میں حصہ لینے والی تمام پارٹیاں کامیابی کا دعویٰ کرتی ہیں ۔