نقطہ نظر

پاک بھارت تعلقات اور عدم اعتمادکی فضا

کلدیپ نائر
ایک کیڑا جس نے بھارت اور پاکستان دونوں کو کاٹ رکھا ہے بلکہ اب تو بنگلہ دیش بھی شامل ہوگیا ہے وہ کیڑا ہے عدم اعتماد کا کیڑا۔ ان تینوں ملکوں میں سے کوئی بھی اپنے پڑوسی ملک میں جائے تو اس کو جاسوس سمجھ لیا جاتا ہے تاآنکہ وہ خود کو بیگناہ ثابت نہ کر دے۔ ویسے تو اس کا انحصار وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ پر ہے کہ آیا مذکورہ شخص کو چھوڑ دیا جائے یانہیں۔ بالفاظ دیگر اصل کلیدی حیثیت پولیس فورس کی ہے۔
یہ کہنے کی تو ضرورت نہیں کہ ان لوگوں کو دی جانے والی سزا یا عمر قید ہوتی ہے یا سزائے موت۔ معمول کے مطابق تو فیصلے کا اختیار عدالت کو ہوتا ہے لیکن اختیارات اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں۔ کلبھوشن یادیو کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایجنٹ ہے جب کہ وہ بھارتی بحریہ کا کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو عرف حسین مبارک پٹیل ہے جس کو 3 مارچ 2016ء کے دن انٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے بلوچستان کے علاقے مساشکیل سے گرفتار کیا گیا۔ اس پر پاکستان میں جاسوسی کے ذریعے تخریبی کارروائیاں کرنے کا الزام ہے۔
جس کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے ایک بار کہا تھا کہ اس پر شواہد بہت کم تھے لیکن دیگر چیزوں نے یادیو کا ملوث ہونا ثابت کر دیا۔ بہرحال سرتاج عزیز کے الفاظ کافی ہیں۔ چونکہ پاکستان نے اس معاملے میں تمام ثبوت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پیش کر دیے ہیں لہٰذا انھیں یقین ہے کہ فیصلہ پاکستان کے حق میں ہو گا۔
یہ یقینا ایک حقیقت ہے کہ پڑوسی ملک میں جانے والوں کے لیے وہاں جو صورت حال پیش آتی ہے وہ جہنم سے کم نہیں ہوتی ہے۔ وہ شخص جہاں بھی جائے انٹیلی جنس ایجنسیاںاس کے پیچھے لگی ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان دکانداروں سے بھی پوچھ گچھ کی جاتی ہے جن سے وہ کچھ سودا سلف خریدتا ہے۔
بھارتی حکومت نے پاکستان سے 14 مرتبہ درخواست کی تھی کہ یادیو کے لیے قونصلر کی رسائی دی جائے جو کہ نہیں دی گئی۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے سینیٹ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر اس سزا پر عمل کیا گیا تو اس کے مضمرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔
بھارت اور پاکستان دونوں کو میز پر بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کشمیر کے مسئلے کو دیگر معاملات سے الگ کر دیا جائے جن پر کسی علیحدہ کمیٹی میں غور کیا جا سکتا ہے۔ اس بات میں کوئی وجہ نہیں کہ آخر دونوں ملک تجارت کیوں نہیں کر سکتے اور مشترکہ منصوبے کیوں شروع نہیں ہو سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ابتدا میں سیاحوں کے لیے صرف ویزا کی پابندیاں ہی نرم کر دی جائیں تو اس کا بھی بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ غیر قانونی تجارت تو اب بھی سرحدوں پر ہو رہی ہے جس میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کو دبئی کے ذریعے تجارت میں خاصا خرچہ اٹھانا پڑتا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان دوستوں کی طرح سے کیوں نہیں رہ سکتے۔ تقسیم کو 70 سال ہو چکے ہیں لیکن اس موقع پر دونوں کو جو زخم سہنا پڑے وہ ابھی تک تکلیف دے رہے ہیں۔ دس لاکھ لوگ مارے گئے یا زبردستی بے دخل کیے گئے۔ تین سے چار کروڑ لوگوں کو نئے ٹھکانے تلاش کرنے پڑے کیونکہ وہ جہاں رہ رہے تھے اب ان کے لیے وہ جگہ محفوظ نہیں رہی تھی۔ یادیو آخری شخص نہیں جس کو سزائے موت سنائی گئی ہے لیکن اس سے نئی مثالیں قائم ہوں گی۔ بظاہر سیاسی پارٹیاں خوش نہیں۔یہ معاملہ کچھ روز قبل پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا جس کی جمہوری اور آزاد خیال پارٹیوں کی طرف سے مخالفت بھی کی گئی۔پاکستان کو سارک ممالک کی تنظیم میں کافی اہمیت حاصل ہے۔
لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس خطے کے لیے مشترکہ منڈی کے قیام کی کوشش کریں۔ بے شک انھیں تجارت اور بزنس کے لیے غیر سرکاری طریقے کیوں نہ اختیار کرنا پڑیں۔ فی الوقت دبئی کے راستے کاروبار ہو رہا ہے لیکن یہ بہت مہنگا پڑتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کشمیر سلگتا ہوا مسئلہ ہے لیکن پتھراؤ کے ذریعے اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو دیگر ذرایع استعمال کیے جانے چاہئیں۔ یادیو کو دی جانے والی سزا سے دونوں ملکوں کے لیے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ اب ایسی کوشش کرنی چاہیے جس کے ذریعے خطے میں قیام امن کے امکانات روشن ہو سکیں۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)