سرورق مضمون

پردے کے پیچھے کھچڑی پک رہی ہے ؟

ڈیسک رپورٹ
بدھ وار کو مرکزی وزیرداخلہ اور قومی سیکورٹی کے مشیر سرینگر پہنچ گئے ۔ائر پورٹ پرانہیں گورنر کے مشیروں کی طرف سے استقبال کیا گیا ۔ اس موقعے پر بڈگام کی ڈپٹی کمشنر کے علاوہ کئی دوسرے حکام بھی وہاں موجود تھے۔ ان کا یہ دوروزہ دورہ بڑا ہی اہم سمجھا جارہاہے ۔ ریاست پر گورنر راج نافذ ہونے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ کا یہ پہلا کشمیر دورہ ہے ۔ انہوں نے سرینگر پہنچتے ہی گورنر کے ساتھ ملاقات کی اور ایک اہم میٹنگ میں شرکت کی۔ میٹنگ میں ریاست کی موجودہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ امرناتھ یاترا کے لئے کئے گئے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ یادرہے کہ ریاست پر پچھلے مہینے اس وقت گورنر راج لاگو کیا گیا جب بی جے پی نے اچانک مخلوط سرکار کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اسمبلی میں کسی بھی جماعت کے پاس حکومت بنانے کے لئے مطلوب ممبران کی تعداد نہیں رہی ہے ۔ اس وجہ سے ریاست پر گورنر راج نافذکیا گیا۔ ریاست پر 1947کے بعد آٹھویں بار گورنر راج لاگو کیاگیا ہے ۔
مرکزی وزیرداخلہ کے کشمیر دورے سے پہلے یہاں سیاسی سرگرمیاں عروج کو پہنچ گئی ہیں ۔نئی حکومت بنانے کے حوالے سے سرگرمیاں تیز کی گئی ہیں ۔ پی ڈی پی کو اندرونی اختلافات کا سامنا ہے ۔ پارٹی کے تین رہنمائوں نے اپنے سربراہ سے بغاوت کا اعلان کیا ہے ۔ سابق وزیرعمران رضا انصاری نے الزام لگایا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ اور پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے پی ڈی پی کو خاندانی پارٹی میں تبدیل کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی ممبروں کو پارٹی سربراہ سے ملنے کے لئے ان کے ماما اور چاچا کی سفارش حاصل کرنا پڑتی تھی۔ انصاری کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی نے اپنے بھائی تصدق مفتی کو کسی سے مشورہ کئے بغیر پارٹی میں لیا اور پھر انہیں کابینہ درجے کا وزیربنایا ۔ اس سے پہلے جیسا کی انصاری نے الزام لگایا نعیم اختر نے پارٹی کو تباہ کرکے رکھ دیا ۔ نعیم اختر پر رشوت کے الزامات لگاتے ہوئے اسے پی ڈی پی کو یرغمال بنانے کا الزام لگایا ۔ انہوں نے اپنے بیان میں سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی سعید نے اپنے دور میں پارٹی کے دیرینہ کارکنوں کو بڑی اہمیت دی تھی ۔ لیکن محبوبہ مفتی نے ایسا نہیں کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر کارکنوں کو سخت شرمندگیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ کسی بھی میٹنگ میں ان کی بات نہیں مانی جاتی تھی ۔ انصاری نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ چودہ اور اسمبلی ممبر ہیں جو محبوبہ مفتی سے بغاوت کے لئے تیار ہیں ۔ باغی ممبروں میں ان کے چاچا بھی شامل ہیں۔ جو دوسرے اسمبلی ارکان کہا جاتا ہے بغاوت کرکے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لئے تیار ہیں ان میں ٹنگمرگ کے اسمبلی ممبر کے علاوہ نورآباد حلقے کے اسمبلی رکن مجید پڈر کا نام بھی لیا جاتا ہے ۔ اسی طرح وچی کے ایم ایل اے کے بارے میں بھی افواہ اڑائی گئی ہے کہ پی ڈی پی کو چھوڑ کر باغی گروپ کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔ اسی طرح ایک اور ایم ایل اے عبدالرحیم راتھر کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ بغاوت پر آمادہ ہے ۔ اس سے پہلے وزیرخزانہ حسیب درابو کو وزارت سے نکالا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ درابو بی جے پی کی حمایت کرنے کو تیار ہے ۔ اگرچہ کسی حلقے نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم پٹن اورزڈی بل حلقوں کے اسمبلی ارکان نے کھل کر محبوبہ مفتی سے بغاوت کا اعلان کیا ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پیوپلز کانفرنس میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں ۔ اس طرح سے پی ڈی پی سے ایک بڑے گروپ کی علاحدگی کے بعد ایک نئی مخلوط سرکار بننے کا امکان ہے ۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اسے ریاست میں حکومت بنانے کی جلدی نہیں ہے ۔ پارٹی کی ساری توجہ امرناتھ یاترا پر لگی ہوئی ہے ۔ یاترا کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ نئی سرکار بنانے کے لئے سرگرمیاں تیز ہونگی ۔ پی ڈی پی سے بغاوت پر آمادہ گروپ بننے کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب مرکزی بی جے پی کے رہنما رام مادھو نے اچانک کشمیر کا دورہ کیا ۔ مادھو نے سرینگر میں پیوپلز کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیرسجاد لون کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔ اس میٹنگ میں مادھو کے ہمراہ بی جے پی کے کئی سابق وزرا بھی موجود تھے ۔ اس کے بعد کہا گیا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے کئی اسمبلی ارکان اپنی پارٹی سے باہر آکر بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ این سی نے ایسی کسی اطلاع کی تردید کی اور اسمبلی ارکان کے باغی ہونے کی اطلاع کو غلط قرار دیا ۔ اس دوران کہا گیا کہ کانگریس اور پی ڈی پی مل کر حکومت بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے دہلی میں کانگریس کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی صدارت میں ہوئی ۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی کے علاوہ امبیکا سونی اور چدامبرم نے بھی شرکت کی۔ اس میٹنگ میں سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد بھی موجود تھے ۔ بعد میں کانگریس لیڈروں کا ایک اہم اجلاس سرینگر میں بھی ہوا۔ کانگریس نے پی ڈی پی کے ساتھ حکومت بنانے کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا اور فیصلہ ہوا کہ فی الحال ایسی کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔ آزاد نے بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ کانگریس موجودہ مرحلے پر نہ آئندہ کبھی پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی ۔ انہوں نے ایسے کسی بھی امکان کو پوری طرح سے مسترد کیا ۔ اب کہا جاتا ہے کہ اسمبلی ممبران کی مطلوبہ حمایت آزاد ممبروں سے حاصل کی جارہی ہے ۔ اگرچہ ٹھوس اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں ۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ پی ڈی پی سخت قسم کے داخلی انتشار سے دوچار ہے ۔ اس پارٹی سے اس کے کئی سینئر رہنما الگ ہوکر حکومت بنانے میں دلچسپی ظاہر کررہے ہیں ۔ ان ممبران کا کہنا ہے کہ الیکشن میں وہ لوگوں کی حمایت حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی پارٹی سے مل کر حکومت بنانے کے لئے تیار ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلی کے ابھی ڈھائی سال باقی پڑے ہیں ۔ ان سالوں کو ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے ۔ وزیرداخلہ اور اجیت ڈوول کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جارہاہے ۔ ڈوول پہلی بار اتنے بڑے مشن پر سرینگر آگئے ہیں ۔ ان کی سرگرمیوں کو معنی خیز قراردیا جارہاہے ۔ اب اونٹ کون سی کروٹ لے گا یہ بہت جلد معلوم ہوگا ۔ نیا وزیراعلیٰ کون ہوگا ابھی کہنا بہت مشکل ہے ۔ اس حوالے سے ایک طرف حسیب درابو کا نام لیا جارہاہے دوسری طرف سجاد لون کے وزیراعلیٰ بننے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔ لون کو اس پوسٹ کے لئے مضبوط امیدوار قرار دیا جارہاہے ۔