خبریں

پلوامہ پولیس لائینز پر فدائین حملہ

پلوامہ پولیس لائینز پر فدائین حملہ

کشمیر میڈیا نیٹ ورک
جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فدائین جنگجوئوں نے ہفتے کی صبح یعنی سنیچر وار کو ہائی سیکورٹی زون میں واقع ضلع پولیس لائنز پلوامہ پر دھاوا بول دیا جس کے بعد فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان دن بھرجاری رہنے والی شدید گولی باری میں پولیس اور سی آر پی ایف کے3اہلکار ہلاک اورنصف درجن زخمی ہوگئے جبکہ2 لاپتہ ایس پی اوز ممکنہ طور جنگجوئوں کی تحویل میںہیں یا انہیں ہلاک کردیا گیا ہے۔ جوابی کارروائی میںآخری اطلاع ملنے تک ایک حملہ آور بھی مارا گیا ، تاہم اسکے دو ساتھی بدستور پولیس لائنز کے اندرمورچہ زن تھے۔حملے کے دوران کئی سماعت شکن دھماکے بھی ہوئے جبکہ پولیس لائنز کی دو عمارات جل کرخاکستر ہوئیں اور دیگر کئی عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔جنگجوئوں کے خلاف جوابی کارروائی کے دوران ڈرون جاسوسی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے گئے۔ جیش محمد نامی جنگجو تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فورسز کو بھاری جانی نقصان سے دوچار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سلسلے میںکشمیر میڈیا نیٹ ورک نمائندے نے پلوامہ سے جو تفصیلات فراہم کی ہیں، ان کے مطابق فوجی وردی میں ملبوس، خودکار او بھاری ہتھیاروں سے لیس3 فدائین جنگجوئوں پر مشتمل ایک دستے نے سنیچر علی الصبح3بجکر40منٹ پر ڈسٹرکٹ پولیس لائنز پلوامہ پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے پے در پے گرینیڈ داغنے شروع کئے۔ضلع پولیس لائنز قریب دو کلومیٹر کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کے چاروں طرف قریب15فٹ اونچی کنکریٹ دیوار کے ساتھ خاردار تار اور کیمپ کے گردونواح پر نظر رکھنے کیلئے اونچائی پرکئی چوکیاں بھی موجود ہیں۔یہاں پولیس کے علاوہ سپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف182و183بٹالین کے کیمپ بھی قائم ہیں جبکہ اس کے متصل فوج کی55آر آر کا ایک کیمپ بھی ہے اوراس اعتبار سے یہ پورا علاقہ انتہائی ہائی سیکورٹی زون میں واقع ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ فدائین جنگجواندھیرے کی آڑ میں پولیس لائنز کے عقبی حصے سے ممکنہ طور خاردار تار کاٹنے کے بعد اونچی دیوار پھلانگ کر اندرداخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں موجود اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھندگولیاں چلائیں ، جس کے نتیجے میں آس پاس کے تمام علاقے گولیوں اور دھماکوں کی گھن گرج سے لرزاٹھے۔جس وقت یہ حملہ کیا گیا ، اُس وقت وہاں موجود بیشتر اہلکار گہری نیند سورہے تھے اور اچانک گولی باری نے پولیس لائنز کے پورے علاقے میں افراتفری مچادی ۔ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک منصوبہ بند طریقے پر عمل میں لایا گیا ، حملہ آئوروں نے اندر داخل ہونے کے بعد ایس او جی کیمپ کے نزدیک سی بلاک کی عمارت میں پناہ لیکر شدید گولی باری کا سلسلہ جاری رکھا۔جنگجوئوں نے گولیوں کے ساتھ ساتھ یو بی جی ایل لانچروں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے گرینیڈ شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں نیند میں محو اہلکاروں میں اتھل پتھل مچ گئی، انہوںنے بھی مختلف عمارات میں پوزیشن سنبھالی اور طرفین کے درمیان گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس لائنز کے اندر پولیس افسران اور اہلکاروں کے اہل خانہ بھی رہائش پذیر ہیں اور حملے کے فوراً بعد جوابی کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں ہی ان تمام لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرکے انہیں یرغمال بنائے جانے جیسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی گئی۔حملے کے فوراً بعد پولیس، فوج اورسی آر پی ایف کی مزید کمک جائے واردات پر پہنچ گئی اورپولیس لائنزکو چاروں طرف سے محاصرے میں لیکر حملہ آئوروں کے خلاف کارروائی شروع کی۔اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اورفوجی اہلکاروں کی اضافی کمک نے آس پاس کے علاقوں کی سخت ناکہ بندی جاری رکھی تاکہ جنگجوئوں کو فرار ہونے کا موقعہ نہ مل سکے۔ذرائع نے کے ا یم این کو بتایا کہ جنگجوئوں کے ابتدائی حملے میں ہی پولیس اور سی آر پی ایف کے9اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا جہاںپولیس کا ایک اور سی آر پی ایف کے دو اہلکارزخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ زخمیوں میں پولیس کے دو اور سی آر پی ایف کے4 اہلکارشامل ہیں جنہیں مزید علاج و معالجہ کیلئے بادامی باغ سرینگر میں قائم فوج کے92بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔حملے میںمارے گئے جموں کشمیر پولیس کے اہلکارکی شناخت کانسٹیبل امتیاز احمد شیخ ساکن چرٹ قاضی گنڈ کے بطور ہوئی ہے جو اے ایس پی پلوامہ کے اسکارٹ سے وابستہ تھا۔اس کے علاوہ حملے میں سی آر پی ایف183بٹالین سے وابستہ ہیڈ کانسٹیبل دھنواڑے رویندرا ببن ساکن مہاراشٹرا اور کانسٹیبل جسونت سنگھ ساکن ہریانہ بھی ہلاک ہوئے۔ زخمی اہلکاروں میں بعض کے نام جموں کشمیر پولیس کے کانسٹیبل محمد یعقود جورااور سی آر پی ایف182بٹالین کے پمی کمار،کانسٹیبل ایس بی رائے سدھا کر اور پربھونارائن کے بطور ہوئی ہے۔کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔پولیس لائنز کے اندر جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان دن بھر جاری رہنے والی شدید نوعیت کی گولی باری کے دوران فورسز کی طرف سے مارٹر شیلنگ کی گئی اور وہاںدرجنوں زوردار دھماکے بھی سنے گئے۔اسی اثناء میں بی اور سی بلاک کی 4منزلہ دو عمارات سے آگ نمودار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں عمارات خاکستر ہوگئیں ۔ حالانکہ آگ پر قابو پانے کیلئے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور اہلکار بھی طلب کئے گئے تھے لیکن فائرنگ کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے وہ کوئی کارروائی عمل میں نہیں لاسکے۔گولی باری میں دیگر کئی عمارات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔حملہ آور چونکہ عمارت کے اندر سے فائرنگ کررہے تھے، اس لئے ان کو نشانہ بنانے کیلئے ڈرون جاسوسی طیاروں کے ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل کی گئی۔حملے کے دوران کئی بغیر پائلٹ جاسوسی طیارے اورفوج کے کئی ہیلی کاپٹر فضائوں میں گشت کرتے نظر آئے ۔ سہ پہر کے قریب پولیس لائنز میں مورچہ زن ایک جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا جس کی لاش بی اور سی بلاک کے درمیان پڑی رہی اور اسکی شناخت بھی نہیں کی گئی۔تاہم اس کے دو دیگرساتھیوں نے گولی باری کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔پولیس ذرائع نے کے ایم ا ین کو مزید بتایا کہ پولیس لائنز کے اندر موجود دو ایس پی اوزمحمد یوسف اور محمد رفیق لاپتہ ہیں اور ان کا کوئی سراغ نہیں مل پارہا ہے۔نئی دلی میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد داخلہ سیکریٹری راجیو مہریشی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پولیس لائنز کے اندر دو سپیشل پولیس آفیسر لاپتہ ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میںکوئی بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔ایک اطلاع کے مطابق پولیس لائنز میں مورچہ زن جنگجوئوں نے ایس پی اوز کو ڈھال بناکر سی بلاک سے اے بلاک کی عمارت میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے اور دنوں وہاں سے فائرنگ کررہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں ایس پی اوزکو بھی ہلاک کردیا گیا ہے۔پولیس لائنزکے اندر حملہ آئوروں اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپ شام دیر گئے تک جاری تھی ۔ اس دوران فوج کے خصوصی تربیت یافتہ کمانڈوز کوپولیس لائنز کے گردونواح میں مامور کیا گیا ۔ حملے کے پیش نظرپورے جنوبی کشمیر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔دریں اثناء جیش محمد نامی جنگجو تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔تنظیم کے ترجمان حسن شاہ نےذرائع ابلاغ کوبتایا کہ حملے میں فورسز کو بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا گیا۔
ادھر ضلع پولیس لائنز پلوامہ پر فدائین حملے کے بعد مکمل ہڑتال کے بیچ کئی جگہوں پر مظاہرین اور پولیس کے مابین پر تشدد جھڑپیں ہوئیں اور اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زوردارٹیر گیس و پاوا شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔حملہ شروع ہوتے ہی پورے پلوامہ ضلع میں موبائیل انٹر نیٹ سہولیات منقطع کردی گئیں سنیچر علی الصبح ڈسٹرکٹ پولیس لائنز پر فدائین جنگجوئوں کی یلغار کے کچھ گھنٹے بعد ہی پلوامہ قصبے میں پر تشدد احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا۔قصبہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ہر طرح کی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔کشیدہ صورتحال کے پیش نظرپلوامہ ، کاکہ پورہ اوردیگرحساس علاقوں میں امن و قانون کو برقرار رکھنے کیلئے امتناعی احکامات کا نفاذ عمل میں لاکر بھاری تعداد میں فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے اگرچہ دفعہ144کے نفاذ کا حکمنامہ جاری کیا گیا، تاہم بعض مقامات پر کرفیو جیسی سخت بندشیں عائد کرکے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی۔اس مقصد کیلئے جگہ جگہ پولیس اور فورسز کی بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی نظر آئیں اور پلوامہ شوپیان شاہراہ پر بھی فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی۔تاہم صبح8بجے نوجوانوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں گلی کوچوں سے نمودار ہوکر سڑکوں پر آئیں اور انہوں نے اسلام ، آزادی اور جنگجوئوں کے حق میں نعرے بازی شروع کی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جب پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے مشتعل ہوکر فورسز پر پتھرائو شروع کیا۔نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے پولیس اسٹیشن پلوامہ کو گھیرے میں لیکر چاروں طرف سے پتھر برسائے جس کے جواب میں ان پر ٹیر گیس اور پاوا شیل برسائے گئے۔ جب مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کیا اور سنگباری میں شدت پیدا ہوئی تو پولیس کو فوج طلب کرنا پڑی اور فوج کی ٹکڑیوں نے مورچہ سنبھال کر تشدد پر آمادہ مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ہوا میں گولیوں کے درجنوں رائونڈ فائر کئے جس کی وجہ سے وہاں خوف و ہراس پھیل گیا۔فوجی کارروائی کے نتیجے میں اگر چہ پولیس اسٹیشن پر پتھرائو کررہے مظاہرین وہاں سے بھاگ گئے تاہم اس دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد ضلع اسپتال کے نزدیک جمع رہی جہاں ان کی پولیس وفورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، حالانکہ مظاہرین کو وہاں سے بھگانے کی کافی کوششیں کی گئیں جو ناکام ثابت ہوئیں۔بعد میں جھڑپوں کا سلسلہ مرن چوک، راجپورہ چوک اور کورٹ روڑ تک بھی پھیل گیا۔ جھڑپوں کے نتیجے میں ٹیر گیس اور پاوا شیلوں کی گھن گرج سے پورا دن افراتفری کا ماحول رہا۔