خبریں

پلٹ بندوقوں پر ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ/ بینائی سے محروم88 کیسوں کی نشاندہی

پلٹ بندوقوں پر ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ/ بینائی سے محروم88 کیسوں کی نشاندہی

گزشتہ دنوں بین الااقوامی سطح کی حقوق انسانی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیراہتمام سرینگرکے ایک نجی ہوٹل میں ایک تقریب منعقدہوئی ،جس میں حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والے کارکنوں،سیول سوسائٹی سے وابستہ رضاکارافراداورپیلٹط گن ودیگرہتھیاروں سے متاثرہوئے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ عوامی اوراحتجاجی مظاہروں کے دوران اپنی عزیزوں کوکھونے والے مردوزن کی ایک بڑی تعدادبھی موجودتھی۔اس دوران یہاں کشمیرمیں مظاہرین کیخلاف پیلٹ بندوق کے استعمال اوراس دوران ہونے والی اموات ،مضروبیات اورمظاہرین کے آنکھوں وبینائی سے محروم ہونے کے واقعات پرمبنی ایک رپورٹ بعنوان’لوزنگ سائٹ اِن کشمیر۔پیلٹ فائرنگ شارٹ گن کے اثرات‘جاری کی گئی ۔اس موقعہ پرایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹربرائے بھارت آکارپٹیل نے کہا کہ کشمیر میں جو سینکڑوں لوگ اندھے پن اور جسمانی چوٹ کے علاوہ زندگیوں سے محروم ہوئے ہیں ، اس کیلئے پیلٹ گن وجہ ہے ، جس پر فوری طور پابندی لگائی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر وادی میں سال 2014 سے 2017 کے درمیان 88عام شہری آنکھوں اور بینائی سے محروم ہوئے جبکہ اس دوران ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا انتہائی غلط اور اضافی استعمال کیا ۔ ایمنسٹی کے علاقائی ذمہ دار کا کہناتھا کہ بھارت کے یوم آزادی کے موقعہ پر وزیر اعظم ہند نریندرا مودی نے کہا تھا کہ کشمیر میں تبدیلی گولیوں یا گالیوں سے نہیں آئیگی ۔ آکار پٹیل کا کہنا تھا کہ مودی کے الفاظ تھے نہ گولی ، نہ گالی بلکہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے ہی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے لیکن بقول ایمنسٹی ذمہ دار کشمیر وادی میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ یہاں عام شہریوں کے خلاف پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیار کا استعمال عام طور پر کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے، اندھے پن کے شکار ہوئے اور شدید زخمی بھی ہوئے ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیر اہتمام اس تقریب میں مقامی سیول سوسائٹی یعنی کولیشن آف سیول سوسائٹی کے سربراہ ایڈوکیٹ پرویز امروز ، سی سی ایس کے کارڈی نیٹر کھرم پرویز ، اے پی ڈی پی کے ایک دھڑے کی سربراہ پروینہ آہنگر، مقامی حقوق انسانی فورم وؤئس آف وکٹمز کے ایگزیکٹیو ڈوئریکٹر عبدالقدیر ، کارڈی نیٹر عبدالروف خان اور انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چےئرمین محمد احسن انتو سمیت بڑی تعداد میں حقوق انسانی کارکنان اور متاثرین بھی موجود تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے ہند آکار پٹیل نے ایمنسٹی کی مرتب کردہ رپورٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم نے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ثبوت و شواہد بھی اکٹھا کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالیہ کچھ برسوں کے دوران پیلٹ گن جیسا ظالم ہتھیار بے تحاشہ انداز میں استعمال کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ موتیں بھی ہوئیں اور بڑی تعداد میں لوگ بینائی سے بھی محروم ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ پیلٹ گن کوئی غیر مہلک ہتھیار نہیں ہے بلکہ یہ ایک خطرناک قسم کا مہلک ہتھیار ہے جس کا نشانہ بننے والے افراد جانیں بھی گنوا بیٹھتے ہیں ، شدید زخمی بھی ہوتے ہیں اور بینائی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کے پاس اس ہتھیار کے صحیح استعمال کی کوئی جانکاری نہیں ہے اور اسی وجہ سے جانی نقصانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ذمہ دار آکار پٹیل نے مزید کہا کہ ایسے ہتھیاروں کے استعمال سے جب اموات ہوتی ہیں تو مقامی آبادی نفسیاتی صدمے سے دوچار ہوجاتی ہے، جس کے اثرات کشمیری سماج میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے سماج کے مختلف طبقوں بشمول اسکول اور یونیورسٹیوں تک زیر تعلیم طلاب کے ساتھ کئی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کشمیر میں کسی کی جان چلی جاتی ہے ، کوئی شدید زخمی ہوتا ہے یا کوئی اپنی بینائی سے محروم ہوجاتا ہے تو اس کے رشتہ دار ذہنی تناؤ اور نفسیاتی صدمے میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالیہ کچھ برسوں کے دوران بہت سے ایسے نوجوان مارے گئے یا بیائی کھو بیٹھے ، جو اپنے کنبوں کے اکلوتے سہارے تھے اور اب یہ نوجوان اپنے گھر والوں پر بھوج بنے ہوئے ہیں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سینئر مہم کار ظہور وانی نے اس موقع پر کہا کہ کچھ معاملات میں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد آنکھوں سے محروم ہوئے اور ابھی بھی بے شمار ایسے زخمی کی کھوپڑیوں میں پیلٹ فائر موجود ہیں اور ڈاکٹروں کو اندیشہ ہے کہ اگر یہ پیلٹ فائر نکالے گئے تو ایسے افراد مر بھی سکتے ہیں ، بینائی بھی کھو سکتے ہیں یا ان کی یاداشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پیلٹ گن پر پابندی کے بارے میں اب تک سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور نہ ریاستی سرکار نے اس سلسلے میں کوئی موقف اختیار کیا ہے ۔ ظہور وانی کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی ایجی ٹیشنوں میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پولیس اور فورسز اہلکار بھی زخمی ہوئے اور ان میں سرحدی ضلع کپوارہ میں 16 ایسے اہلکار پیلٹ فائر لگنے سے مضروب ہوئے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ذمہ داروں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر وادی میں پیلٹ گن کی وجہ سے ہوئی اموات ، بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی یا نابینا ہونے کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ زیادتیوں اور ہتھیاروں کے غلط استعمال کے مرتکب سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف سیویلین عدالتوں میں قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے ۔