خبریں

پنچایت ایکٹ میں ترمیم نا قابل قبول

پنچایت ایکٹ میں ترمیم نا قابل قبول

نیشنل کانفرنس نے اس بات کا عزم دہرایا ہے کہ ریاست کے آئین اور پنچایت ایکٹ میں کسی بھی ترمیم یا ردوبدل کرنے کی اجاز ت نہیں دی جائے گی کیونکہ ریاست کے اپنے آئین کو مرتب کرنے میں ریاستی عوام خصوصاً شہداء وطن اور ملک کشمیر کے جانثاروں نے عظیم مالی جانی قربانیاں پیش کرکے طویل شخصی راج کی غلامی اور ظلم وستم جبرو استبداد کے ناقابل فراموش دور سے نجات حاصل کی اور ریاست میں اپنا آئین ، اپنا صدر ریاست ، اپنا وزیر عظم اپنا ہل والا جھنڈا اپنے عدلیہ اپنا الیکشن کمشنر حتیٰ کہ لکھن پور سے لداخ تک پاسپورٹ جیسے آئینی اور قانونی مد درج ہے اور نیا کشمیر اس کا واحد قیمتی اور تاریخی نادر نسخہ موجود ہیں ۔شیر کشمیر بھون میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس اور اس کی عظیم قیادت مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے جب ریاست میں عوامی راج کی باگ ڈور بحیثیت وزیر اعظم جموں وکشمیر سنبھالا اور اس کے ساتھ ساتھ ہی ریاست میں پنچایت راج کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس جمہوری نظام ( پنچایت راج ) کے بارے میں بھی آئین مرتب کیا گیا حالانکہ پورے ہندوستان میں پنچایت راج کا وہم گمان ہی نہیں تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست کے لوگوں کو صرف 18سال کی عمر میں ووٹ پرچی کاحق حاصل ہوا تھا اور ہندوستان میں اس کے برعکس 22سال تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج جو قوم کے سودا گر ، بے ضمیر سیاست دان ،وطن فروش اور قوم فروش پنچایت ایکٹ میں درپردہ ترمیم کرنے اور من پسند وارڈ بندی کرنے میں مصروف ہیں ،اصل میں وہ اہل کشمیر کے سب سے بڑے دشمن ثابت ہوئے کیونکہ ان ہی لوگوں نے ہندوستان کی سب سے بڑے فرقہ پرست جماعت اور مسلمانوں کے ازلی دشمنوں آر ایس والوں ، شیو سینا ، بجرنگ دھل کے ساتھ اقتدار کے خاطر اپنا ضمیر بیج کر ہاتھ ملایالیکن بدقسمتی سے یہ وقت کے شاطر اور وقت وقت پر دھل بدلوں افراد نہ تو تاریخ کشمیر سے واقف ہے اور نہ ہی تحریک کشمیر سے ان کا کوئی لین دین رہا ہے ۔ڈاکٹر کمال کے مطابق انہی لوگوں نے چار بار ریاست میں منتخب جمہوری سرکاریں گرا دیں اور ریاست میں گورنر راج اور صدر راج بھی قائم کروایا ، انہی لوگوں نے مرحوم صادق جیسے دہلی کٹھ پتلی سرکار کے دور حکومت میں یہاں کے آئین کو تہس نہس کروایا جس حکومت میں مرحوم مفتی بھی شامل تھا اور ریاست کو صدر ریاست کی بجائے گورنر ، وزیر اعظم کے بجائے ، وزیر اعلیٰ اور دیگر آئینی اور جمہوری مراعات جو ریاست کے لوگوں کو دفعہ 370 کے تحت حاصل ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاست کو 1952 اور دہلی ایگریمنٹ کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل ہوئی تھی اور بدقسمتی 9 اگست 1953 کے بعد ریاست پر کالے قوانین لگوائے گئے ، ریاست میں انہی کٹھ پتلی سرکاروں نے فوجی دستوں کا اضافہ کروایااور جگہ جگہ پر فوجی بارکوں اور فوجی کیمپوں کا وجود بھی انہی کٹھ پتلی سرکاروں کی دین ہے ۔ ڈاکٹر کمال نے مرکزی سرکار کو خبر دار کیا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر ریاست میں موجودہ کشمیر دشمن سرکار کی حوصلہ افزائی سے گریز کریں کیونکہ اس کشمیر دشمن سرکارنے اپنی اعتباریت اور اعتماد پہلے ہی کھو چکا ہے اور یہ حکومت شری مودی جی اور راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ساتھ شری امت شاہ کے رحم کرم پر کھڑی ہے ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ اہل کشمیر موجودہ بی جے پی پی ڈی پی سرکار کو اس ظلم ستم اور جبرو استداد کو کبھی معاف نہیں کرے گا جو اس سرکار نے اہل کشمیر پر گزشتہ ساڑھے پانچ مہینوں میں ٹھوسیں اور ہزاروں کو اپاہچ بنایا ، سینکڑوں ملت کی بیٹوں اور بیٹیوںکو آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دیا ، ہزاروں ہمارے نوجوان پود پر بلا جواز پی ایس اے لگا کر ان کو مختلف جیلوں میں مقید کیاہے اور وہ نہایت پریشانی اور بے بسی میں ایام اسری گزار رہے ہیں

ڈاکٹر کمال نے کہا کہ کسی قوم کو طاقت کے بل بوتے پر زیادہ دیر دبا نہیں جاسکتا اور ہمیشہ سچ کی فتح ہو تی ہے اور باطل کو شکست و فاش کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے ریاستی سرکار کو خبر دار کیا کہ وہ پنچایت راج کے ایکٹ میں کسی قسم کی ترمیم یا من پسند وارڈ بندی سے بعض رہے انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر بشمول خطہ چناب میں برابر فوجی جماؤ اور دہشت جاری ہے اور حکومت خود بخود حالات بگاڑنے کے در پہ ہے لوگ عدم تحفظ برابر محسوس کررہے ہیں دوسری طرف اہل کشمیر اقتصادی بدحالی سیاسی ، معاشی اور سیاسی انتشار کے شکار ہے حکومت لوگوں کو راحت پہچانے میں سرے سے ہی ناکام ہو چکی ہے اوریہ سرکار صرف اور صرف ناگپو ر کے ایجنڈا پر گامزن ہے ۔انہوں نے حکومت ہندوستان سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان سے بات چیت شروع کریں تاکہ جنوبی ایشاءبرصغیر خصوص ریاست کے لوگوں امن وسکون کی زندگی میسر ہو، مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں جس قدر طول دیا جائے اُس قدر ہندوستان اور پاکستان کا عوام خصوصاً ریاست کے لوگ پریشانیوں اور مصائب کے شکار رہے گے ، اس لئے وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان اور کشمیری رہنماؤں کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے جس کا وعدہ تحریر ی طور پر ہندپاک کے رہنماؤں نے یو این او اور کشمیر کے صف اول رہنماؤں کے ساتھ کیا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہا رکیا ہے کہ ریاست اور مرکز کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کے دستاویزی الحاق کو بھی مرکزی سرکار آج تک پورا کرنے میں ناکام رہا اور دفعہ 370 کو بھی کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے کمزور بنانے میں کوشاں رہا اور اہل کشمیر کو طاقت کے بل بوتے پر ہمیشہ پس پا کرتا رہا لیکن حق صداقت کی آواز کبھی دب نہیں سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو خصوصی پوزیشن آٹانامی چین لی گئی اس کو فوری طور پر بحال کرنے سے مسئلہ کشمیر کے حل میں آسانیاں پیدا ہو سکتی ہے اور ریاست پر جو کالے قوانین آج تک لگائے گئے ہیں فوری طور پر واپس لیے جائے ،مرحوم مفتی سعید کالگایا ہوا بدترین افسپا ہٹایا جائے اور ریاست میں مخلوط سرکار خصوصا ً موجودہ ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ نے جو لاکھوں افواج اپنی حکومت کی بچاؤ کے لئے طلب کئے انہیں فوری طور پر واپس بلایا جائے ، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان اور تمام تعلق داروں سے بات چیت شروع کی جائے اور تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔