اِسلا میات

پیغام حسینی کی ابدی افادیت

 

سید شریف الحسن نقوی
ظہور اسلام سے قبل عرب میں موجد اعظم حضرت ابراہیم کاتعمیرکردہ خدا کا گھر عملاً بتوں کا گھر بن گیا تھا۔ مصر، یونان، روم، ایران اور ہندوستان جیسے قدیم ممالک کی طرح عرب میں خدا کے علاوہ تمام بارعب اور متاثر کن طاقت کی پرستش عام تھی۔ عرب جنگ جوئی اور خون خواری میں یقین رکھتے تھے۔ ان حالات میں نبی آخر الاماں حضرت محمدﷺ کا ورد ہوا۔ انہوں نے نہ صرف دین ابراہیم کی تجدید کی بلکہ اس کو حکم الٰہی کے مخالف عوام الناس میں قابل قبول بنا کر اعلیٰ اقدار کا حامل بنا دیا۔ اولامخفی طور پر محدود طبقے میں دعوت اسلام دی اور پھر بر سرعام اشاعت اسلام کا پرچم لہرایا۔ اسی نبی کریم ؐ نے اپنے بھائی اور داماد حضرت علی اور ان کے دونوں صاحبزادوں حسن اور حسین کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے وہ علی جو مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت اینٹ اور گار لاکر نبی اکرمؐ کی خدمت کر رہے تھے، مختلف جنگوں اور غذوات میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر کفار اور مشرکین سے نبرد آزما نظر آرہے تھے۔ بدر،خیبر اور خندق کی جنگیں ان کی سرفروشانہ خدمات کی ریشہ دوانیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے معاویہ سے صلح کی اور انہیں کے دوسرے صاحبزادے امام حسین ؑ نے کربلا کے ریگزار پر معاویہ کے بیٹے یزید کے خلاف 61ہجری میں شر اور بدی کے خلاف وہ جنگ کی جس کے نتیجے کے طور پر اسلام خوف و ہراس، ظلم و تشدد، آمریت اور بربریت سے عہدہ برآہو سکا۔
آ ج عالمی سطح پر لادینیت، شیطنیت اور شہنشائیت کا عمل دخل ہو رہا ہے۔ آج پھر حسین کے اعلیٰ اقدار، صبر، تحمل،جرأت، بے جگری، حق پرستی، حقیقت پسندی ، حق پروری، حق گوئی، استقلال، ہمدردی اور قربانی کی یاد ہر دل میں پید اہو رہی ہے۔ مشہور مورخ گبن کی اس پیشن گوئی کی حقیقت سامنے آرہی ہے۔
’’ وقت کی قیدو بند سے آزاد ہو کر ہر دور میں حسین کی عظیم الشان قربانی معمولی سے معمولی انسان کے دل میں عمل کی حرارت پیدا کرتی رہے گی۔ اسلام کو نہ ماننے والے بھی حسین کو مانتے رہیں گے۔
مفکرین اور دانشور متفق ہیں کہ زندگی کے اعلیٰ اقدار خوش حالی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ عزت نفس درنگی اور سفاکی سے زیادہ قیمتی ہے اور ضمیر کا سکون ذاتی عزت، شہرت اور عظمت سے بیش قیمت ہے۔عزت نفس درندگی اور سفاکی سے زیادہ قیمتی ہے اور ضمیر کا سکون ذاتی عزت، شہرت اور عظمت سے بیش قیمت ہے۔یہی خلاصہ ہے حسین کی اس لا ثانی قربانی کا انہوں نے ان اصولوں کی اہمیت افادیت اور ضرورت کا درس دیا اپنی اور اپنے 72 ساتھیوں کی قربانی دے کر سید الشہدا امام حسین ؑ نے اپنے طریقہ کار سے ہمیں بتایا کہ ضمیر کی آزادی حق و انصاف اور امن کے لئے بڑی قربانی پیش کر کے سماج کو شر سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تبھی تو علامہ اقبال نے حسین کے اس درس کا یوں اعتراف کیا ہے۔
خون و تفسیر ایں اسرار کرد
نہ ملت خوابیدہ را بیدار کرد
رنگ و نسل مذہب وعقائد کا لحاظ کئے بغیر صدیوں سے انسانیت حسین کے اعلیٰ کردار کے سامنے سرنگوں ہے۔ آج کرئہ ارض پر کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے۔ جہاں ان کا تذکرہ عزت و احترام سے نہ کیا جاتا ہو۔ حسین کو کلام پاک کا یہ پیغام راہ عمل دکھا رہا تھا۔
’’ اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے۔ دشمن کے ڈر سے بھوک پیاس سے مال و جان اور پھولوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجئے(155) جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں(156 البقرہ)
حسین ؑ اور ان کے 72 ساتھیوں(خواتین اور بچوں) نے’’ بھوک اور پیاس‘‘ دونوں کا امتحان دیا۔ انہوں نے’’ مال و جان‘‘ دونوں کی قربانی دی۔ حسین نے یہ سب صبر آزما کام اس لئے کئے کہ انہیں یقین تھا کہ’’ ہم خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم سب اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ حسین کا وہ معرکۃ الاآرا خطبہ تاریخ کا ایک ایسا نادر واقعہ ہے کہ جب حسین ؑ نے شب عاشور اپنے تمام اعوان و انصار اعزہ اور احباء جمع کر کے شمعیں گل کر کے یہ فرمایا کہ’’بزید کو میرے اور صرف میرے سر کی ضرورت ہے۔ میں سب کے اوپر سے اپنی بیعت اٹھا لیتا ہوں۔
رات کی تاریکی میں تم جدھر چاہو چلے جائو اور پھر جب شمعین دوبارہ روشن کی گئیں تو تمام رفقا اپنی اپنی جگہوں پر ویسے ہی اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے۔ سب نے بہ یک زبان کہا کہ کل صبح ہم آپ سے پہلے اس عظیم مقصد کیلئے اپنی جانیں نثار کریں گے۔ یہ تھی حسین کی مقناطیسی شخصیت جس پر سب دیوانہ وار نثار ہونے کے لئے تیار تھے اور کسی کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی۔
دنیا آج بھی متحیر ہے کہ رسول اکرم ؐ نے کس طرح صرف 23 سال کی مدت میں پوری عرب قوم کی ذہنیت ، عادات و طوار بدل دئے اور ان سب کو اسلام کے جادو پر عزو حوصلے کے ساتھ چلنے پر آمادہ کر دیا۔ لیکن جہاں یہ بات حیرت انگیز ہے، وہاں یہ اس سے بھی زیادہ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ محض 30 سال کی مدت میں انہوں نے وہ سب بھلا دیا جس کا درس انہیں ملا تھا۔ خلافت راشدہ کی 30 سالہ مدت بھی امن و سکون سے نہ گزر سکی۔ پہلے دو خلفاء کا دور یقینا اطمینان سے گزر گیا مگر خلیفہ سوم، حضرت عثمان کو جس وحشیانہ انداز سے شہید کیا گیا وہ یقینا قابل مذمت ہے، حضرت علی کو بھی ہر قدم پر مخالفتیں برداشت کرنی پڑیں۔ جمل اور جینن کی جنگوں نے لوگوں کے عزائم کا پردہ فاش کر دیا اور آکر کار جلد ہی وہ منحوس دن بھی آگیا کہ انہیں حالت نماز میں شہید کر دیا گیا ۔ معاویہ کا طرز عمل صاف نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ خلافت کو ملوکیت میں بدل کر اپنے خاندان کی حکومت کے قیام کا خواہاں تھا۔ امام حسن نے معاویہ کے تیوروں سے صاف انداز لگالیا تھا کہ اگر وہ صلح نہیں کرتے تو نتیجہ میں امت مسلمہ دوگروہوں میں تقسیم ہو جائے گی اور قتل و غارت کا بازار گرم ہو جائے گا۔ صلح کی شرائط میں خاص شرط یہ تھی کہ معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کے حق میں فضا ہموار کرنی شروع کر دی۔ امام حسن کی ایک زوجہ نے دشمنان اہل بیت کی ایما پر زہر دے کر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب معاوجہ نے اپنی مساعی میں شدت پیدا کر دی۔ معاویہ کے بعد یزد نے خلافت پر قبضہ کر کے اپنی بیعت کے لئے جابرانہ منصوبہ بنایا۔ مدینہ کے گورنر کو حکم دیا کہ یا تو حسین کی بیعت حاصل کر دیا ان کا سردربار میں پیش کرو۔ حسین نے یزد کی بیعت قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ حج کا زمانہ قریب تھا۔ حاجیوں کے لباس میں یزیدی فوج کے سپاہی حسین کو شہید کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ حسین اس مقدس زمین کو اپنے خون سے آلودہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے حج کو عمرہ سے بدلا اور کوفہ کی راہ اختیار کی جہاں سے انہیں برابر دعوت مل رہی تھی۔ لیکن مناسب سمجھا کہ حالات کا اندازہ لگانے کے لئے حضرت مسلم بن عقیل پہلے کوفہ پہنچ جائیں اور اطلاح دیں کہ وہاں کی فضا کیسی ہے۔
اولاً تو جناب مسلم کے ہاتھ پر لوگوں نے جوق در جوق بیعت کی مگر جلد ہی فوج یزید کے ڈرانے دھمکانے پر یہ سلسلہ نہ صرف بند ہو گیا بلکہ بے رحمی سے انہیںتہہ تیغ بھی کر دیا گیا۔ امام حسین کو راہ میں ہی یہ خبر مل گئی اور انہوں نے اپنا راستہ بدلنا مناسب سمجھا۔ فوج یزد کا ایک دستہ حرکی سرپرستی میں امام کے راستے میں حائل ہوا۔ جس وقت حرکا دستہ امام کے پاس پہنچا، اس کے سب سپاہی پیاس کی شدت سے جاں بہ لب تھے۔ حسین ؑ نے مشکیزوں کے دھانے کھول دئے اور نہ صرف فوجیوں بلکہ جانوروں تک کو سیراب کر دیا۔ یہی وہ حرتھا جو امام کو مجبور کر کے کربلا کے بے آبو گیاہ میدان میں لے آیا۔ اپنے اس عمل پر حرکو بعد میں انتہائی ندامت اور تاسف ہو اور ضمیر کی آواز پر اس نے عاشور کی صبح فوج یزیدی کو چھوڑ کر امام کی خدمت میں آکر معافی طلب کی اور سب سے پہلے اپنی جان نثار کر کے حق انسانیت ادا کر دیا۔ غرض یکم محرم کو امام حسین کر بلا پہنچے اور اپنے خیمے دریائے فرات کے کنارے نصب کر لئے مگر یکے بعد دیگرے یزدی فوج کی ٹکریاں آنے لگیں۔ ہتھیاروں سے لیس ان دوستوں کی آمد کا مطلب واضح تھا۔ امام کو مجبور کیا گیا کہ وہ نہرو کے کنارے سے اپنے خیمے ہٹا لیں۔ حضرت عباس اور دیگر انصار سمجھ گئے کہ اگلا قدم پانی پر پابندی لگانے کا ہوگا۔ اس لئے انہوں نے اس حکم کی شدت سے مخالفت کی مگر واہ رے حسین وہ اپنی سمت سے جنگ کی ابتدا کرنے کے لئے ہرگز تیار نہ تھے۔ انہوں نے اپنی بہن حضرت زینب کی مدد لے کر حضرت عباس کو خیمے ہٹانے پر رضا مند کر لیا۔
ادھر امام کے خیمے دریا کے کنارے سے ہتے، ادھر نہرپر پہرہ بیٹھا دیا گیا۔ سات محروم سے امام اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا گیا۔7محرم سے 10 محرم تک امام، ان کے رفقا، خواتین اور بچوں نے بھوک اور پیاس کی تکلیف اٹھائی۔ بچے العطش العطش، کے نعرے لگاتے تھے مگر فوج یزیدی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ دس محرم کو صبح سے نماز عصر تک امام حسین کے سب ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہو گئے۔ چھ ماہ کا بچہ علی اصغر بھی امام کے ہاتھوں پر حاملہ کا تیر کھا کر ابدی نیند سو گیا۔ اب امام یکتا و تنہا تھے سب مون و غم خوار اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ پھر امام نے از خود نہایت ضواں مروی سے شجاعت کا ثبوت دے کر خون کے سمندر میں فوطہ زن ہوئے اور اسلام کے سفینے کو المناک نتائج سے دوچار ہونے سے بچا لیا۔ یزد کی وقتی فتح ضرور ہو گئی مگر دنیا جاتنی ہے کہ عارضی و دنیاوی فتح اور ہے اور دائمی و روحانی فتح اور ہے۔ روحانی میں محض اخلاقی قوت کی یزید پہلی فتح حاصل کرتا ہے یعنی دنیاوی مگر اس کے بر خلاف امام حسین روحانی اور ابدی فتح پاتے ہیں۔ امام حسین کو وہ وقتی اور عارضی ناکامی منظور تھی جوابدی اور دائمی کامرانی کی ضامن ہو۔ امام کو معلوم تھا کہ انتہائی کرب، تکلیف اور مصیبت سے ایک ایسا عظیم جذبہ ابھرتا ہے جو عیش و عشرت میں خواب میں بھی نصیب نہیں ہو سکتا۔اگر ہم اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا چاہتے ہیں کہ آخر نتائج کا علم ہوتے ہوئے امام حسین نے بیعت سے کیوں انکار کیا اور انہوں نے خود اپنی اور اپنے ساتھیوں کی قربانی پیش کرنے کا عزم کیوں کیا تو اس کا جواب امام کی اس وصیت کے چند جملوں سے مکمل طور پر واضح ہو جائے گا جو انہوں نے اپنے بھائی امام خفیہ کے پاس چھوڑی تھی۔
’’ میں نے یہ قدم غرور و نخوت کی بنا پر ہرگز نہیں اٹھایا ہے اور نہ شر انگیزی اور نا انصافی کے لئے، میں نے یہ قدم محض اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے اٹھایا ہے۔ میں بھلائی کے لئے جان دوں گا اور بدی کو زیر کروں گا اور میں اس جادے پر گامزن ہوں گا جو میرے نانا اور میرے ابو( حضرت) علی ابن ابی طالب کا ہے۔‘‘
حالات حاضرہ کا ایک ہلکا سا جائزہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ آج پھر وہ حالات رونما ہو رہے ہیں جن میں حسینی اقدام کی ضرورت ہے۔ بدی سر بلند ہو رہی، عصبیت زور پکڑ رہی ہے۔ اخلاقی اقدار پس پشت ڈالے جا رہے ہیں۔ مغرب کے اخلاق سوز اعمال و اطوار پر مشرق کے نوجوان گامزن ہونے میں خوش اور فخر محسوس کر رہے ہیں۔ ان مخرب اخلاق عوامل کو شکست دینے کے لئے ہمیں ایک بار پھر امام حسین کی قربانی سے درس لینا ہوگا، جب ہم طے کر لیں گے کہ ہم امام حسین کی طرح زندہ رہیں گے اور انہیں کی طرح مریں گے توی یقینا انسانیت کی فتح ہو گی، ظلم و جبروت کی شکست ہو گی، ضرورت ہے کہ ہم اپنا تزکیہ نفس کریں اور دیکھیں کہ کیا ہم نے واقعی امام حسین کے پیغام کو سمجھ لیا ہے اور کیا ہم واقعی اس پر عمل کر رہے ہیں۔ اگر ہمارا جواب اثبات میں ہے توہ میں یہ سکون ہونا چاہئے کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے لال امام حسین کی قربانی سے ہم وہ درس لے رہے ہیں جو ان کو مقصود تھا۔