خبریں

پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط سرکار اچانک برخاست

پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط سرکار اچانک برخاست

ڈیسک رپورٹ
بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے رواں ماہ کی 17 تاریخ یعنی اتوار کوجموں کشمیر سرکار میں پارٹی سے وابستہ تمام وزرا کو دہلی پہنچنے کی ہدایات دیں ۔ سوموار کو یہ وزرا دہلی روانہ ہوئے تو کئی طرح کی چہ مے گوئیاں کی جانے لگیں۔ کئی لوگوں نے اندازے لگانے شروع کئے اور دال میں کچھ کالا ہونے کی سرگوشیاں کی جانے لگیں ۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بی جے پی ریاست کی مخلوط سرکار سے اپنی حمایت واپس لے گی ۔ سوموار کو ریاست کے سیکریٹریٹ میں معمول کا کام ہورہاتھا ۔ پی ڈی پی کے وزرا کے علاوہ ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی دفتر میں ہدایات جاری کرنے میں مصروف تھی کہ گورنر نے انہیںاطلاع دی کی ریاست کی سرکار دھڑام سے گرادی گئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ انہیں بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے پر کسی قسم کی حیرانگی نہیں ہوئی ہے ۔ اس طرح سے ریاست کی مخلوط سرکار برخاست ہوئی اور آٹھویں بار گورنر راج نافذ ہوگیا ۔ گورنر این این ووہر ابھی اگلے ہفتے اپنی معیاد پورا کرکے رخصت ہونے والے تھے۔ اب ان کے مقررہ معیاد میں مزید تین مہینوں کا اضافہ کیا گیا اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے کے لئے کہا گیا ۔ مرکز کے پاس اس وقت امرناتھ یاترا پر امن ماحول میں انجام دینے کا سخت مرحلہ درپیش ہے ۔ اس لئے گورنر تبدیل کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس حوالے سے کئی طرح کے اندازے لگائے جارہے ہیں اور گورنر کے عہدے کے لئے کئی نام سامنے لائے جارہے ہیں ۔ لیکن حتمی نام تاحال سامنے نہیں آیا ہے ۔ مرکز نے ریاستی اسمبلی کو توڑنے کے بجائے اسے معطل رکھا ہے ۔ کئی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ پردے کے پیچھے جوڑ توڑ کی کوششیں جاری ہیں تاکہ بی جے پی سرکار بنانے میں کامیاب ہوجائے ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ نے اپنے پہلےبیان میں خدشہ ظاہر کیا کہ اسمبلی کو معطل رکھ کر ہارس ٹریڈنگ کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی کو برخاست کرکے نئے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں ۔ اس سے پہلے انہوں نے کئی بار مطالبہ کیا کہ ریاست کی سرکار کو ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا جائے ۔
ادھر نیشنل کانفرنس کے علاوہ پی ڈی پی نے اپنے ممبران کی بغاوت کے امکان کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کا کوئی بھی ممبر باغی بننے کے لئے تیار نہیں ۔ اس کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اس موقعے کو ضایع کرنا نہیں چاہتی ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پیوپلز کانفرنس کے سجاد لون کو میدان میں اتارکر بیس کے قریب اسمبلی ممبران کو خریدنے اور نئی حکومت بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں ۔ تاہم اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بجائے معطل رکھنا بلاوجہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ کئی حلقوں نے مشورہ دیا ہے کہ پی ڈی پی اور این سی متحد ہوکر نئی حکومت بنائے ۔ این سی نے پہلے ہی اس مشورے کو مسترد کیا ہے
ادھر کانگریس کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی پی ڈی پی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد کرنا خارج از امکان قرار دیا ہے ۔ اس طرح سے بہت جلد کوئی سیاسی سرکار بننے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے ۔ تاہم لوگوں کی نظریں مرکز پر لگی ہیں ۔
ریاست کی مخلوط سرکار سے حمایت واپس لینے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں ۔ مرکز نے اتنی اچانک اور جلدی میں یہ فیصلہ کیوں کیا اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔ ابتدائی مرحلے پر کہا گیا کہ ریاست مین امن وامان کی بگڑتی صورتحال سے مایوس ہوکر حکومت کو برخاست کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ یہ فیصلہ بڑی رازداری سے لیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ مرکزی وزیرداخلہ اور مرکز کی طرف سے مقرر کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما کو بھی اعلان ہونے تک اس حوالے سے کوئی اطلاع نہ تھی ۔ ریاست کی وزیراعلیٰ کو اس کی خبر گورنر نے سنائی ۔ جبکہ وزیرداخلہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ باقی لوگوں کی طرح انہیں بھی اخباری میڈیا کے ذریعے بریکنگ نیوز موصول ہوئی ۔ وزیرداخلہ پچھلے تین سال سے کشمیر معاملات کے انچارج رہے ہیں ۔ اس دوران ان کے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ نزدیکی تعلقات رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ کسی بھی مشکل صورتحال میں وزیرداخلہ کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کرتی تھی ۔ آج دونوں کو آخری مرحلے تک ایک اہم فیصلے سے بے خبر رکھا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے سلامتی کے مشیر نے بی جے پی صدر امیت شاہ سے مشورہ کرکے ریاستی سرکار سے اپنی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے علاوہ کسی کو اس کی بھنک تک پڑنے نہیں دی گئی ۔ اس طرح سے ریاستی سرکار کو برخاست کرکے ریاست پر گورنر راج نافذ کرنے کی صدر رام ناتھ کووندنے منظوری دی ہے ۔ کئی لوگوں کی رائے ہے کہ مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ آئندہ سال ملک میں پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر کیا ۔ بی جے پی نہیں چاہتی ہے کہ ریاست کی ناکام سرکار کا حصہ بنے رہے اور کانگریس کو تنقید کا موقعہ دے ۔ ریاست کی مخلوط سرکار کے خلاف لوگوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ یہ سرکار لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مبینہ طور پوری طرح سے ناکام رہی ۔ تین سال کی مدت میں کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو دکھ درد اور تکلیف پہنچانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا گیا ۔ اعداد وشمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔ دوڈھائی ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ایک لاکھ کے قریب مکانات کی توڑ پھوڑ کی گئی ۔ ایک ہزار سے زیادہ لوگوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ تین ہزار لوگ اب بھی جیلوں میں بند پڑے ہیں ۔ اس کے علاوہ تین ہزار افراد کو زخمی کیا گیا جن میں سے ایک ہزار کے لگ بھگ آنکھوں کی بینائی سے محروم کئے گئے ۔ آپریشن آل آوٹ کے تحت تین سو جنگجو مارے گئے اور دوسو پینتیس عام شہریوں کو موت کی گھاٹ اتارا گیا ۔ اس وجہ سے مخلوط سرکار کو اب تک کی سب سے ناکام سرکار مانا جاتا ہے ۔ برخاست کی گئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے دفعہ 370 کا تحفظ یقینی بنانے میں اہم رول ادا کیا اور بی جے پی کی اس حوالے سے تمام کوششوں کو ناکام کیا گیا ۔ اسی طرح لوگوں اور ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ اب نئے انتخابات کب ہونگے ۔ ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے ۔ لوگ واچ اینڈ ویٹ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔ سیاسی سرگرمیوں کے بہت جلد شروع ہونے کے ابھی کوئی اندازے لگانا بہت مشکل ہے ۔