مضامین

پی ڈی پی نے جنوبی کشمیر کو دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا

مرکزی سرکار کشمیر میں بحران کو سیکورٹی زاوئے سے دیکھنے کی غلطی بار بار دہرا رہی ہے ، کبھی حوالہ رقم حالات کی خرابی کی وجہ بتائی جاتی ہے اور کبھی کہاجاتا ہے کہ نوجوانوں کو پتھراؤ کرنے کیلئے پیسے فراہم کئے جاتے ہیں اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ریاست کی وزیر اعلیٰ اپنا اقتدار بچانے کیلئے خاموش تماشائی بن بیٹھی ہیں۔ موصوفہ مرکز کے سامنے کشمیر کے زمینی حالات اور لوگوں کے حقیقی مطالبات رکھنے کی بھی جرأت نہیں رکھتی۔
ان باتوں کا اظہار گذشتہ روز سابق وزیراعلیٰ ، نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے کھنہ بل میں نیشنل کانفرنس ضلع کولگام اور اننت ناگ کے ڈیلی گیٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا عمر عبداللہ نے کہا کہ اننت ناگ میں آپ سے مخاطب ہوں، اننت ناگ جنوبی کشمیر کا مرکز رہا ہے اور جنوبی کشمیر میں گذشتہ5ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اُس وقت سب سے بڑا دھوکہ ہوا جب پی ڈی پی نے اُن کے منڈیٹ کے عین برعکس بھاجپا کے ساتھ گلے مل کر اقتدار سنبھالا اور آر ایس ایس کو یہاں حکمرانی کرنے کا موقع فراہم کیا، جس کیلئے یہاں کے لوگوں نے پی ڈی پی کو قطعی ووٹ نہیں دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر سمیت وادی میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں کے لوگوں کو مظالم کے پہاڑ نہ سہنے پڑے۔ فصلوں کو نذر آتش کیا گیا، میوہ باغات کو نقصان پہنچایا گیا، ٹرانسفامر تباہ کئے گئے، مکانوں اور ملاک کی توڑ پھوڑ کی گئی، بلا لحاظ مرد و زن عمر و جنس لوگوں کا زد و کوب کیا گیا، ہزاروں کو زخمی کیا گیا، ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور سب سے بڑا نقصان قریباً 100معصوموں کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ پی ڈی پی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ان مظالم کے بارے میں ایک بار بھی لب کشائی نہیں کی بلکہ اس کے بجائے یہ کہا کہ مارے کئے معصوم بچے بنکروں میں ٹافی یا دودھ لینے نہیں جارہے تھے۔ گذشتہ5ماہ کے دوران گرفتار کئے گئے نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ زخمیوں کو بہتر سے بہتر علاج و معالجہ فراہمی کیلئے امداد کا اعلان کیا جانا چاہئے، پیلٹ متاثرین کی بازآبادکاری عمل میں لائی جانی چاہئے اور جن لوگوں کے گھروں، فصلوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا اُنہیں بھی معاوضہ دیا جانا چاہئے۔عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو کے اُس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں موصوف نے کہا ہے کہ پتھراؤ کیلئے پیسے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کے ایسے بیانات سے اُن والدین پر کیا بیت رہی ہوگی جن کے بچے موجودہ حالات میں جاں بحق ہوئے ۔ مرکز کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ کشمیری پیسوں کیلئے نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق کیلئے برسراحتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کی طرف سے ایسے بیانات اس لئے آرہے ہیں کیونکہ یہاں کی وزیر اعلیٰ نے انہیں زمینی حقائق اور لوگوں کے مطالبات اور مسئلہ کشمیر کی سیاسی ہیت کے بارے میں قائل کرنے کی ایک بار بھی کوشش نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو اس بات کا ڈر ہے کہ اگر وہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت شروع کرنے کیلئے مرکز پر دباؤ ڈالیں گی تو بھاجپا اُسے اقتدار سے محروم کردیگی۔ انہوں نے کہا کہ 2010میں محبوبہ مفتی گھر گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہاتی تھی اور نیشنل کانفرنس کیخلاف زہر افشائی کرتی تھی اور مجھے خراب حالات کیلئے ذمہ دار ٹھہراتی تھی، اپنے والد مرحوم کے ساتھ مل کر نئی دلی کے ایوانوں میں میری سرکار کو برخواست کرنے کی صورت میں حالات سدھر جانے کی باتیں کرتیں تھیں، لیکن 2016میں جو کچھ ہورہاہے اس کے بارے میں موصوفہ کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ 2010والی محبوبہ مفتی اصلی ہیں یا پھر 2016والی محبوبہ مفتی اصلی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی وکالت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے تئیں نیشنل کانفرنس کا موقف اٹل ہے اور ہم نے اقتدار میں رہ کر اور اقتدار سے باہر بھی اس مسئلہ کے سیاسی حل کی وکالت کی اور آج بھی کرتے ہیں، ہم نے پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ایوان میں بھی مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا اور تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کو لازمی قرار دیا۔ اجلاس سے پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، جنوبی زون صدر سکینہ ایتوار نے بھی خطاب کیا۔