خبریں

چوٹیاں کاٹنےکا سلسلہ رجاری

چوٹیاں کاٹنےکا سلسلہ رجاری

خواتین کے بال کاٹنے کےواقعات آئے روز رونما ہونے لگے، جنوبی کشمیر کے کولگام اور ننت ناگ کے بعدبڈگام اور بانڈی پورہ میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں،جہاں دو خواتین کی چوٹیاں نامعلوم افرادنے کاٹ ڈالیں گزشتہ روز بونہ دیالگام اننت ناگ اورترکہ وانگم شوپیاں میں دوخواتین کی چوٹیاں کاٹنے کی بھی کوشش کی ۔ضلع بانڈی پورہ کے ناتھ پورہ گاؤں میں ایک کمسن طالبہ کی چوٹی کاٹی گئی ، جس کے نتیجے میں پورے گاؤں میں سنسی پھیل گئی ہے یاد رہے جنوبی کشمیربالخصوص ضلع کولگام میں مختلف علاقوں میں حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران خواتین اوردوشیزاؤں کی چوٹیاں کاٹنے کے ایک درجن سے زیادہ واقعات رونماہوئے ،اوراس دوران یہاں ان شرانگیزواقعات کیخلاف ہڑتال بھی کی گئی اورکئی مقامات پرزورداراحتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔چوٹیاں کاٹنے کے پے درپے واقعات رونماہونے کے بعدریاستی پولیس نے ضلع کولگام میں ملوث مجرموں کوکیفر کردار تک پہنچنے کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی جبکہ اسکے ساتھ ساتھ ضلع میں تعینات متعدد افسروں،نمبرداروں اورعام لوگوں کوشبانہ ڈیوٹی کیلئے معمورکیاگیا،اوراُن کی مددکیلئے ضلع میں دوہزارپولیس اہلکاروں کوبھی تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دی گئی ۔
خبروں کے مطابق جنوبی کشمیربالخصوص ضلع کولگام میں حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران خواتین اورلڑکیوں کی چوٹیاں کاٹنے کے ایک درجن سے زیادہ واقعات رونماہونے اورایسے کچھ واقعات میں ملوث عناصر کومبینہ طورفوج کی جانب سے بچاکرپناہ دیئے جانے کیخلاف وادی بھرمیں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے جبکہ ایسے شرانگیزواقعات کیخلاف جنوبی کشمیرکے کئی متاثرہ علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، جن میں شامل لوگوں نے الزام لگایاکہ جب انہوں نے خواتین کی چوٹیاں کاٹنے میں ملوث افرادکودبوچنے کی کوشش کی تواُنھیں راہداری فراہم کرنے کیلئے فوجی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کرنے کے بعدکچھ ملوث افرادکواپنے کیمپوں میں پناہ بھی دی
کولگام میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے میں ملوث شرپسندافرادکی پکڑدھکڑ کیلئے پولیس وسیول حکام کی جانب سے اُٹھائے گئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کے بعد اسلام آبادکے بونہ دیالگام گاؤں میں ایک گھرمیں داخل ہوکرایک جواں سالہ خاتون کی چوٹی کاٹنے کی کوشش کی جبکہ اس دوران مذکورہ خاتون بے ہوش ہوگئی بتایا جاتا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد نثاراحمدنامی ایک مقامی شخص کے رہائشی مکان میں داخل ہوئےاورانہوں نے گھرمیں اکیلی موجودمذکورہ شخص کی اہلیہ کی چوٹی کاٹنے سے قبل بے ہوش کرنے والی کوئی شے پھینکی ۔لوگوں کے مطابق خاتون پر گشتی طوری ہوگئی تاہم حملہ آوراسکی چوٹی نہیں کاٹ سکے کیونکہ اسی دوران کچھ ہمسایہ خواتین اُن کے گھرپہنچیں ،اورحملہ آوربھاگ گئے ۔اس واقعہ کی خبرپھیلتے ہی بڑی تعدادمیں مردوزن جمع ہوئے اورانہوں نے احتجاج بلندکرناشروع کردیا
اُدھر شوپیان کے درازپورہ ترکہ وانگم گاؤں میں چوٹی کاٹنے کاواقعہ رونماہوا،جوپہاڑی ضلع شوپیان میں اپنی نوعیت کاپہلاایساواقعہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ نامعلوم افرادنے یہاں ایک جواں سال خاتون کی چوٹی کاٹنے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہیں ہوسکے کیونکہ خاتون نے مزاحمت کی ۔لوگوں کے مطابق حملہ آورفرارہونے میں کامیاب ہوئے لیکن خاتون بے ہوش ہوگئی اوراسکوفوری طوراسپتال منتقل کیاگیا۔اس واقعہ کیخلاف ترکہ وانگم شوپیان میں لوگوں نے زورداراحتجاج کیا۔
عورتوں کی چوٹیاں کاٹنے کی لہروسطی ضلع بڈگام تک پہنچ گئی کیونکہ یہاں ایک گاؤں میں دوخواتین کی چوٹیاں کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ بتایا جاتا ہے چاڈورہ کے ایک مضافاتی گاؤں ہانجی گنڈمیں نامعلوم افرادنے ایک گھرمیں گھس کریہاں اکیلی موجودایک ایک خاتون کی چوٹی کاٹنے کی کوشش کی ۔مقامی لوگوں کے مطابق جواں سال خاتو باورچی خانہ میں کام کررہی تھی کہ نامعلوم افرادگھرمیں داخل ہوئے اورانہوں نےکی چوٹی کاٹ ڈالی اورخودفرارہونے میں کامیاب ہوگئے ۔کچھ وقت بعدجب کچھ ہمسایہ اُنکے ہاں گئے توانہوں نے جواں سال خاتون کوگھرمیں بے ہوش پڑادیکھاجبکہ اُسکی چوٹی کاٹی گئی تھی۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ اس گاؤں میں اپنی نوعیت کادوسراایساواقعہ تھاکیونکہ اسے پہلے بھی اسی گاؤں میں کچھ نامعلوم افرادنے ایک بزرگ خاتون کی چوٹی بھی کاٹی تھی ۔مقامی آبادی میں چوٹیاں کاٹنے کے پے درپے واقعات کولیکرسخت تشویش پائی جاتی ہے ۔
دریں اثنا بانڈی پورہ کے ناتھ پورہ گاؤں میں ایک کمسن طالبہ کی چوٹی نامعلوم افراد نے کاٹ دی ، جس کے نتیجے میں پورے گاؤں میں سنسی پھیل گئی ہے ۔ معلوم ہوا کہ پانچویں جماعت کی طالبہ اسکول سے گھر لوٹ رہی تھی کہ راستے میں برقعہ پوش افراد نے اس کمسن طالبہ کو ایک سنسان جگہ پر روکا اور اس کی چوٹی کاٹ ڈالی ۔
یاد رہے اس طرح سے جنوبی کشمیربالخصوص کولگام میں مختلف علاقوں میں حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران خواتین اوردوشیزاؤں کی چوٹیاں کاٹنے کے ایک درجن سے زیادہ واقعات رونماہوئے ،اوراس دوران یہاں ان شرانگیزواقعات کیخلاف ہڑتال بھی کی گئی اورکئی مقامات پرزورداراحتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔چوٹیاں کاٹنے کے پے درپے واقعات رونماہونے کے بعدریاستی پولیس نے ضلع کولگام میں ملوث مجرموں کی دھرپکڑکیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی جبکہ اسکے ساتھ ساتھافسروں ،نمبرداروں اورعام لوگوں کوشبانہ ڈیوٹی کیلئے معمورکیاگیا،اوراُن کی مددکیلئے ضلع میں 2ہزارپولیس اہلکاروں کوبھی تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دی گئی ۔
یاد رہے گذشتہ دنوں ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈی جی پی کو ہدایت دی ہے کہ وہ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں تا کہ ضلع کولگام اور ریاست کے دیگر علاقوں میں بال کاٹنے کے پُر اسرار واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔محبوبہ مفتی نے ڈی جی پی سے کہا ہے کہ وہ ایسے معاملات کی جانچ کے عمل میں تیزی لائیں کیوں کہ ان سے نوجوان لڑکیوںا ور اُن کے والدین میں خوف پیدا ہوا ہے۔ڈی جی پی کی ہدایت پرکولگام پولیس نے چوٹی کاٹنے کے سلسلے میں اسپیشل تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے۔ ایس پی کولگام کی ہدایات پر ایڈیشنل ایس پی کی قیادت میں اسپیشل تفتیشی ٹیم تشکیل دی تاکہ ضلع میں چوٹی کاٹنے کے واردات میں ملوث افراد کو جلد از جلد سلاخو ں کے پیچھے دھکیل دیا جائے۔ ان کیسوں میں ملوث افراد کو جلدہی پکڑاجائے گا اور لوگوں سے استدعا کی گئی ہے کہ اگر انہیں بال کاٹنے کے سلسلے میں کوئی بھی جانکاری ملے، وہ پولیس کی مدد کریں۔