اداریہ

چوٹیاں کاٹنے کی خوفناک لہر

وادی میں تاحال چوٹیاں کاٹنے کا عمل جاری ہے ۔ سرینگر ، بارہمولہ اور بانڈی پوری سمیت جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور کئی درجن عورتوں کے بال کاٹ دئے گئے۔بال کاٹنے کا یہ عمل انتہائی مشکوک ہے اور تاحال کسی بھی مجرم کا پتہ نہیں چل سکا ۔ پولیس بھی اس طرح کے کیسوں کی تہہ تک پہنچنے میںتاحال ناکام دکھ رہی ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عمل میں سیکورٹی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے،کئی حلقوں کی رائے ہے کہ جنگجووں کو لوگوں سے دور کرنے اور ان کے لئے جائے پناہ تلاش کرنے میں مشکلات پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو مختلف حربوں سے خوفزدہ کیا جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چوٹیاں کاٹنے کے بیشترواقعات جنوبی کشمیر کے ان علاقوں میں پیش آئے جہاں ملی ٹنٹ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی ملوث افراد کو لوگوں نے تحویل میں لیا اور اصل حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی مگر پولیس کی مداخلت سے ایسے افراد کو چھڑا لیا گیا اور گھر والوں کے حوالے کیا گیا ، بتایاجاتا ہے کہ پکڑے جارہے افراد کی کوئی نہ پوچھ تا چھ کی جاتی نہ صحیح صورتحال معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں ۔ اس طرح سے لڑکیوں کے بال کاٹنے کی وجہ سے پوری وادی میں افراتفری پائی جاتی ہے ۔ لوگ خوفزدہ ہیں اور حیران ہیں کہ تاحال کسی کی نشاندہی نہیں کی جاسکی ۔ اس وجہ سے مسئلہ انتہائی پراسرار بنا ہوا ہے ۔ عورتیں خاص کر تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طالبات سخت خوفزدہ ہیں ۔ ان کے لئے حفاظت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے ۔ دفتر جانے والی خواتین کے لئے اس طرح کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر اپنے تشویش کا اظہار کیا ۔ علاحدگی پسندوں کی مشترکہ قیادت نے اگر چہ یواین چلو کا پروگرام رکھا تھا تاہم شہر میں بندشیں لگنے اور حریت لیڈروں کو گھروں میں نظربند کرنے کی وجہ سے یہ پروگرام بھی کامیاب نہیں بن سکا ۔ البتہ کئی مقامات پر کئی چوٹیاں کاٹنے کے خلاف احتجا ج کرنے کی کوشش کی گئی جو پولیس نےناکام بنائے ، ادھرحکومت اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہیرہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سے محرکات ہیں۔