نقطہ نظر

ڈاکٹر فاروق نے بھی آخر زباں کھول دی

ڈاکٹر فاروق نے بھی آخر زباں کھول دی

اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں ایک چھوٹی سی ، مختصر سی، کشمیری شودوں (چرسیوں) کی کہانی ذہن کے پردوں پر رقص کرنے لگی ہے سو چا کہ آپ کو بھی اس کہانی سے لطف اندوز کردوں ،،  لیکن مشکل یہ ہے کہ اس فوک کہانی جو کہ کشمیری زباں میں بار بار دہرائی جاتی ہے ، کا اُردو یا کسی اور زباں میں وہ مزا نہیں،  بہر حال ،، مجبوری ہے۔ کوشش ہی کرسکتا ہوں ، اس لئے عرض ہے کہ آپ کہانی کی روح تک پہنچنے کی خود ہی کوشش کریں ۔ کہتے ہیں کہ کبھی دس پندرہ شودوں نے مل کر سوچا کہ بھیڑ کے سری پا ، پکائے جائیں ، ہمارے شودوں کے بارے میں یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ من کے اجلے ، مست مولا ، اور دنیاوی فریبوں سے دور اپنی ہی الگ دنیا بسائے ہوتے ہیں جہاں کے یہ خود بادشاہ اور شہنشاہ ہوتے ہیں ، تو ایسے ہی مست مولاؤںکی ٹولی کو خواہش ہوئی ، کیا کیا جائے خوا ہش ہی ہے کہ دھوم سے سری پائے پکائے جائیں اور مزے مزے سے دوچار چلمیں پھونکنے کے بعد کھائے جائیں ،  بس چندہ جمع ہوا اور دیگ بھی چولہے پر چڑھائی گئی ، بڑی دیر کے بعد جب دیگ میں سری پائے تیار ہونے ہی والے تھے ،ایک شودے، کو خیال آیا کہ سری پا میں سارے مصالحے تو ڈالےہیں لیکن مرچ رہ گئی ہے ، اب سارے ہی شودے دیگ کے ارد گرد بس آخری انتظار کے لمحات گذار رہے تھے ، اپنی چلم بھی پہلے پہلے ہی تمام کر دی تھی اس لئے سبھی مست ، دنیا و مافہیاسے بے خبر آرام فرما ہوچکے تھے ۔ اس لئے کسی بھی شودے نے مرچ لانے کی حامی نہیں بھری ، اور نہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی زحمت ہی گوارا فرمائی ، سو بڑے شودے نے بڑی عقلمندی سے فیصلہ سنا دیا کہ جو شودہ بات کرے گا مرچ اسی پر واجب ہوگی اور اس سے ہر قیمت پر مرچ لانا پڑے گی ،، بس اپنی ہی دنیا کے لوگ  ہیں جو من میں سمائی کر ڈالی ، ایک دم سبھوں نے اپنی زبانوں پر تالے چڑھائے ، آہستہ آہستہ چولہا سرد ہوپڑا ، دوچار کتے بھی کہیں ادھر اُدھر سے آگئے ، جب انہیں کسی نے بھگانے کی کوشش ہی نہیں کی تو وہ بھی یہی سمجھے کہ مفت کا مال ہے ، ہڑپ کیا جائے ، محتاط انداز میں دیگ کی طر ف بڑھے ،  دائیں ،بائیں سے کوئی حرکت اور ڈنڈا نہیں اٹھا تو آرام سے دیگ پر ہلہ بولا۔ دیگ الٹ دی ، شودے (چرسی )تماشہ دیکھتے رہے کیونکہ ان کے ذہن میں تو بس ایک بات نقش ہو چکی تھی کہ ( زباں کھولی تومرچ واجب ہوگی )، کسی نے حرکت نہیں کی ، کتوں نے دیگ الٹ دی ،  ’’سری پا‘‘ آرام سے چٹ کر گئے ، لیکن شودے یہی خیال کرتے رہے کہ جس نے زباں کھولی اس کو مرچ لا نا پڑے گی، اتفاقاً اس رات بادشاہ کے ہاں  چوری ہوئی ، صبح سویرے شاہی محل میں تلاطم پیدا ہوا ، چوری وہ بھی بادشاہ سلامت کے محل میں؟ ، تو سارے کوتوالوں کی سانس پھول گئی ، گلی کوچوں میں ناکے لگائے گئے اور اسی دوران کسی نے خبر یہ پہنچائی کہ ایک جگہ نکڑ پر پانچ سات آدمیوں کی ٹولی دھونی رما کے بیٹھی ہے شاید چوری کا مال تقسیم کرکے خاموش بیٹھے ہیں ، تو کوتوال صاحب آگئے کچھ پوچھ تاچھ کرنا چاہی لیکن کسی نے زباں کھولی نہیں ، سمجھے کہ یہی چور ہوسکتے ہیں ، بادشاہ کے روبرو پیش ہوئے ، سوال اور جرح ہوئے لیکن زباں کھولنے کی پاداش میں ان پر مرچ واجب ہوجاتی ، اگر چہ اب نہ وہ دیگ تھی نہ وہ سری پائے تھے جس کے لئے مرچ کے پاپڑ بیلنے کی ضرورت تھی ،، جب کوئی جواب نہیں آیا تو سیدھا پھانسی کا حکم ہوا ، سارے شہر میں منادی کردی گئی کہ شاہی چور پکڑے گئے ہیں اور انہیں پھانسی دی جائے گی ،،، لوگ ہجوم در ہجوم تماشہ دیکھنے آگئے ، ایک چرسی  کے گلے میں جب پھانسی کا پھندا بھی پہنایا گیا اور پھانسی لگنے میں لمحات کی دیر تھی تو جناب  (شودے)چرسی کو احساس ہوا کہ اب خاتمہ ہی ہونے والا ہے تو اچانک چیخ پڑا ، میں چور نہیں ،، میں چور نہیں ،، اس کی زباں کھلنی تھی کہ نیچے سے باقی تمام شودے چیخ اٹھے ،  مرچ لاؤ ، مرچ لاؤ،، تم نے زباں کھول دی ہے ،،یہ شور و غوغا سن کر بادشاہ سلامت کے ساتھ تمام درباری اور لوگ حیران و ششدر کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیوں اب اچانک زباں کھولی ہے ، بادشاہ نے شودے کے گلے سے پھانسی کا پھند انکالنے کا حکم دیا اور ماجرا پوچھا ،، تو شودے نے باادب سارا ماجرا بیان کیا کہ یہ ایک شرط تھی سو میں نے زباں کھول کر یہ شرط ہاری ہے اور اب مرچ مجھ پر واجب ہوگئی ،،، درباری اور بادشاہ سلامت ششدر ، صم بکم ، ، کسی وزیر نے پوچھا کہ بھائی وہ سری پائے جو پک رہے تھے ہیں کہاں؟ ، شودے نے بیساختہ معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ کتے پہلے ہی چٹ کر گئے ہیں ، تو اب مرچ کی کیا ضرورت ہے ؟  یہ سوال آج تک اس کشمیری کہانی میں اسی طرح موجود ہے جس طرح شودوں کے زمانے میں تھا ، اور ہم ابھی تک خود بھی اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ پائے ہیںاور شاید آگے بھی نہ ڈھونڈ پائیں ، یہ کہانی کسی پارٹی یا کسی خاص شخص کی طرف منسوب نہیں، بس میرے ذہن پر رقصاں ہوئی اور آپ تک پہنچائی ۔۔ کشمیر کا پولیٹیکل سینیریو جو بھی ہے اور جو بھی رہا ہے وہاں اس کہانی کے خدوخال کہیں ہیں کہ نہیں لیکن میں نے جب بھی اپنے سیاسی پس منظر پر غور کیا ہے مجھے بار بار یہی لگا ہے کہ میں خود بھی اس کہانی کا ایک کردار یعنی  (شودہ ) ہوں،، بہر حال اس بات کا شکر ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد ہمارے بہت ہی نامور ، کئی بار رہے چیف منسٹر نے ۱۵گست کے بعد اپنی زباں کھولی ہے اور ایک انٹرویو میں بہت ساری باتیں کی ہیں ، جو اگر چہ عوام کو معلوم ہی ہیں لیکن کچھ باتیں ان کی اپنی ہیں ، یا یوں کہا جائے کہ ان کے اپنے احساسات ہیں ،،، دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵ اے کو ختم کرنے اور کشمیر کو یو ٹی کی فہرست میں شامل کرنے پرجو کچھ بھی مودی سرکار کو کہنا تھا کہہ چکی ہے اور اس کے رد عمل میں بھی ڈھیر ساری باتیں پہلے ہی کہی جاچکی ہیں جن کا اب ایسا لگتا ہے کہ کوئی معنی ہی نہیں لیکن دو تین باتیں ایسی ہیں جن کا تجزیہ لازمی ہوجاتا ہے ،، مودی سرکا ر بقول فاروق عبداللہ بہت سارا نہیں  بلکہ ڈھیر سارا جھوٹ بولتی ہے ،  میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جھوٹ پر ہی اس کی بنیادیں مستحکم اور مظبوط لگ رہی ہیں ، بلکہ  جھوٹ بولنا اس طرح کی ڈیمو کریسیوں کی شان اور طرہء امتیاز ہے ،، یہ سب کچھ چانکیائی سیاست کا حصہ ہیں ، لیکن ایک بات بی جے پی  نے بڑی سچ بولی تھی کہ (دفعہ ۳۷۰ ) میں رہا کیا تھا جو ختم کردیا گیا ہے ،، ہم اس کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں ، اس دفعہ کو ۷۰ برس کے دوران کشمیر کے مینسٹریم نے اپنے اپنے عہد میں آہستہ آہستہ لگ بھگ ختم ہی کردیا تھا اور اس کی اہمیت و افادیت محض کاغذ کے ڈھیروں میں دفن ہوچکی تھی ،، پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ کنہوں نے اور کب کیا تھا ؟ مختصر جواب یہی ہوگا کہ تمام کشمیر کے چیف منسٹروں نے اس روٹی سے تھوڑا تھوڑا ٹکرا کاٹ کر خالی پلیٹ شو کے لئے سامنے رکھ دی تھی ، لوگ احتجاج کے لئے نہیں نکلے ،، فاروق صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی تاکید کی تھی ، اس بات کی کوئی اہمیت نہیں لیکن عوام  نے ۵ اگست سے پہلے ہی اس بات کا درست اندازہ لگا لیا تھا کہ کچھ بڑ ا ہونے والا ہے ایسا کچھ کہ مرکزی سرکار نے من بنالیا ہے کہ وسیع پیمانے پر قتل عام کی گنجائش ہے اور اس بات کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے م دوئم یہ کہ اوپر کہانی کے شودوں سے عوام کا برتاو تھوڑا سا ہٹ کے تھا کہ جب انہیں یہ لگا کہ نہ وہ دیگ بچی ہے ، نہ اس میں سرپائے ہیں اور نہ اب مرچی کی ضرورت ہے ،، اس لئے چوری کے الزام میں پھانسی پر چڑھنا اگلے زمانوں کے شودوں کی مطابقت ہوگی ، تو کم سے کم اتنے زمانے گذرنے کے بعد اتنی سی عقل اور سوچ سمجھ کا کا آنا اور ہونا ،کشمیری عوام کا حق تو بنتا ہے ، اس لئے عوام ابھی تک خاموش ہیں ،ہاں یہ حصہ سابقہ چیف منسٹر کا بالکل درست ہے کہ’’ عوام جانتے ہیں کہ ہم یعنی مینسٹریم ہر دور میں قوم (ہندوستان ) کے ساتھ رہے ہیں ،،،اہم سوال کے جواب میں کہ اب ان کا لائحہ عمل اور آگے کا سیاسی راستہ کیا ہوگا ؟ اس سوال کے جواب میں فاروق صاحب نے یہی کہا کہ ابھی ہم اپنی تنظیم کے ٹاپ براس میں یہ طئے کریں گے ،،، ، یہاں اس پولٹیکل سینریو میں ہم نے اپنے پچھلے آرٹیکل میں ان باتوں کا تجزیہ  پہلے ہی پیش کیا تھا ہم اسی تجزئے پر قائم ہیں تھوڑا سا وقت چاہئے سبھی مینسٹریم انتخابات میں بغیر شرط کے حصہ لیں گے ، رہی یہ بات کہ گپکار اعلامئے میں ایک کاز کے لئے تمام مینسٹریم  کے یکجا ہونے کی بات اہم بھی اور قابل غور بھی  ہے اور یہی ایک بات ساری انٹرویو میں نئی ہے ،، سارے  مینسٹریم پچھلے ستر برس کے دوران اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے سے بر سر پیکار رہے ہیں اور ہر پارٹی نے’’ کشمیر کے مال ‘‘کو اقتدار کی خاطر بے دریغ بیچ کھایا ہے ، اب کچھ بچا ہی کہاں ہے کہ اس پر سودا بازی کی جائے اس لئے یہ سیاسی منظر مینسٹریم کے لئے بالکل نیا اور انوکھا ہے ،، کیا دیا جائے جب کہ مرکز کو کچھ دینے کے لئے مینسٹریم کے پاس کچھ ہے ہی نہیں کیونکہ وہ سب مودی سرکا ر یکبارگی ہی لے چکی ہے ،، اس لئے یقینی طور پر تمام مینسٹریموں کا یکجا ہونا ایک مجبوری ہے ، کیونکہ ان کے پاس اب نہ سیاسی میدان ہے اور نہ کوئی اور سپیس ، اس لئے کوئی نیا میدان جو موجود نہیں اس سے پیدا کرنا پڑے گا تاکہ کھلاڑی میدان میں کم سے کم فرنڈلی میچ کھیلنے کے قابل رہیں ،اور ہماری سوچ کے مطابق اب یہی ایک میدان پیدا کیا جاسکتا ہے کہ سٹیٹ ہڈ کی مانگ تیز تر کی جائے جو سٹیٹ ہڈ قطعی طور پر بی جے پی جموں میں اسمبلی حد بندی کے بعد تحفے میں کسی بھی پارٹی کو دینے کے موڑ میں پہلے ہی سے ہے ،،، شاید اسی لئے فاروق اور عمر دونوں ہی سٹیٹ ہڈ کی جب بات کرتے ہیں تو ۳۷۰ اور ۳۵ اے پر دبی دبی سی زباں استعمال کرتے ہیں ،، کھل کر نہیں بولتے کہ ہم تب تک الیکشنوں میں حصہ نہیں لیتے جب تک سٹیٹ ہڈ اور ۳۷۰ معہ ۵۳ اے واپس لاگو نہیں کی جاتی ،، کیا یہ دم مینسٹریم میں ہے ؟  اگر نہیں تو پھر وہ کس  بات کی کشمکش اور جدوجہد کی بات کرتے ہیں ؟،، بی جے پی نے جو فیصلے لئے ہیں اور کشمیر پر جو قوانین لاگو کئے ہیں ، بظاہر اب انہیں پھر ایک بار لپیٹنے کا معاملہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ کشمیر ہی بی جے پی کا اصل سیاسی میدان ہے جہاں وہ کھل کے کھیل رہی ہے اور اور سب ٹیموں پر بھاری پڑ رہی ہے ،،اس لئے تمام مینسٹریم کے لئے یہ لازمی اور ناگزیر ہے کہ وہ (پری ۵۳ کی بات کریں ، ) ملے یا نا ملے لیکن اسی کے تحت ہندوستان کے ساتھ الحاق بھی ہوا  ہے اور یہی ایک حکمت عملی ہوگی جہاں وہ دیش دروہی بھی نہیں بنتے ، اور اوپر کی کہانی کے ’’ شودے ‘‘بھی نظر نہیں ائیں گے ،   rashid.parveen48@gmail.com