سرورق مضمون

کانگریس انتخابی منشور کشمیر کو مرکزی حیثیت حاصل!!

آل انڈیا کانگریس پارٹی نے منگلوار کو الیکشن 2019 کے لئے منشور جاری کیا ۔ منشور جاری کرنے کے موقعے پر پارٹی کے تمام لیڈر موجود تھے ۔ نہرو خاندان کے علاوہ سابقہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور غلام نبی آزاد اس جلسے میں موجود تھے ۔ منشور کو پورے زور وشور کے ساتھ شایع کیا گیا ۔ اس بات پر سیاسی حلقے حیران ہیں کہ کانگریس منشور میں کشمیر کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے ۔ جو بھی خاص مدعے اٹھائے گئے ہیں سب کشمیر کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ۔ کشمیر مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ افسپا ہٹانے اور کشمیر کے خصوصی درجے کو بحال رکھنے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ ان سب چیزوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کانگریس نے کشمیر کو اپنے منشور میں سب سے زیادہ اہمیت دی ہے ۔ کانگریس جموں کشمیر میں صرف دو پارلیمانی سیٹوں پر الیکشن جیتنے کی امید کرتی ہے ۔ اگرچہ اس نے یہاں کی ساتوں سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں ۔ لیکن اصل میں جموں اور اودھم پور سیٹ پر اس کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں ۔دونوں سیٹوں پر این سی اور پی ڈی پی نے امیدوار کھڑے نہیں کئے ۔ یہاں کانگریس اور بی جے پی کا براہ راست مقابلہ ہے ۔
کانگریس نے پرنیکا گاندھی کو الیکشن مہم چلانے کے لئے میدان میں اتارا ہے ۔ ادھر یوپی میں سماج وادھی پارٹی اور بی ایس پی نے گٹھ بندھن کیا ہے ۔ اس کے باوجود کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یوپی میں اسے کامیابی ملے گی ۔ اس سے پہلے کئی ریاستوں کے ضمنی چنائو میں کانگریس نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کامیابی کے بعد کانگریس کا حوصلہ بڑھا اور اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کے بجائے اکیلے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کی پوزیشن کمزور ہے ۔ اس کا براہ راست فائدہ کانگریس کو ملے گا ۔ تاہم دہلی اور بہار سے اس کے برعکس اطلاعات ہیں ۔ البتہ پنجاب سے نوجوت سنگھ سدھو کی وجہ سے کانگریس کافی مضبوط نظر آتی ہے۔ سدھو نے کرتار پور کاریڈور کھولنے میں پاکستان کے ساتھ کام کیا ۔ پاکستانی وزیراعظم نے کرتار پور راستہ کھول کر سکھوں کے ساتھ دوستی بنانے کی پہل کی ۔ اس وجہ سے پنجاب میں سدھو کو کافی سپورٹ مل رہا ہے ۔ ان تمام مدعوں کو اپنے الیکشن منشور میں اہمیت دینے کے بجائے کانگریس نے کشمیر ایشو کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا ہے ۔ ۔ اس طرح سے کشمیر کو لے کر بہت سے وعدے کئے گئے ہیں ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کا توڑ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بی جے پی ہمیشہ پاکستان اور کشمیر ملی ٹنسی کے مدعوں کو لے کر الیکشن میں جیت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ بی جے پی کوشش کرتی ہے کہ الیکشن کے دوران سارا زور دہشت گردی پر لگارہے ۔ اس کی یہ کوشش کئی بار کامیاب رہی ۔ تاہم اس سال ایسا زیادہ نظر نہیں آتا ہے ۔ اس الیکشن سے پہلے مودی کی کوشش تھی کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کا ماحول بنایا جائے۔ اس غرض سے پاکستان کے اندر جاکر بالا کوٹ میں بم گرائے گئے ۔ اس کے اگلے روز پاکستان نے جوابی حملہ کیا جو کامیاب رہا ۔ بی جے پی اس مسئلے پر زبان کھولنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہے ۔ اس کے بجائے کانگریس اور دوسری جماعتیں اس مسئلے کو لے کر سوالات اٹھارہی ہیں ۔ ان سوالات کا مودی سرکار کے پاس کوئی جواب نہیں ۔ پاکستان کے ساتھ مڈبھیڑ سے پہلے جموں کشمیر کے پلوامہ ضلعے میں سی آر پی کانوائے پر حملہ ہوا ۔ خیال تھا کہ اس کو بہانہ بناکر بی جے پی کافی شور مچائے گی ۔ لیکن کانگریس نے بی جے پی کو اس میں کامیاب نہیں ہونے دیا ۔ تازہ پیش رفت یہ سامنے آئی کہ کانگریس نے کشمیر کو لے کر کئی اہم مدعے اٹھائیے ۔ بات چیت کا ایشو اٹھایا گیا ۔ کانگریس نے وعدہ کیا ہے کہ کشمیر میں بات چیت کا راستہ کھولا جائے گا اور تمام لوگوں کے ساتھ غیر مشروط ڈائیلاگ کیا جائے گا ۔ ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ کسی طرح پس پشت چلا جائے تاکہ لوگ سرکار سے اپنی ضروریات طلب کریں ۔ ملک کے عوام کو پانی اور سڑکوں کا مسئلہ درپیش ہے ۔ اس کے علاوہ روزگار ایک اہم ایشو سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک میں پچھلے ستھر سالوں میں پہلی بار اس قدر بے روزگاری پائی جاتی ہے ۔ کانگریس الزام لگارہی ہے کہ مودی سرکار نے جان بوجھ کر لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کیا ۔ نوجوان طبقہ مایوس بتایا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سیکورٹی پر جتنا خرچہ آتا ہے اس سے کئی ہزار لوگوں کو روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے ۔ اس وجہ سے لوگ کشمیر مدعے پر بات چیت کی حمایت کرتے ہیں ۔ ان کی مانگ ہے کہ انہیں کشمیر کو لے کر بلیک میل نہ کیا جائے ۔ اسی طرح کانگریس نے ریاست پر لاگو AFSPA کا جائزہ لینے کی مانگ کی ہے ۔ کانگریس پہلے بھی کئی بار کہہ چکی ہے کہ ریاست میں بہت سے علاقے ملی ٹنسی سے خالی ہوگئے ہیں ۔ اس کے باوجود ان علاقوں میں فوج کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے ہیں ۔ کانگریسی لیڈروں کی مانگ ہے کہ ملی ٹنسی سے خالی علاقوں سے افسپا ہٹایا جائے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے ۔ اسی قسم کے بہت سے وعدے کرکے کشمیر ایشوجھیلنے کی بی جے پی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ وادی میں کانگریس کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ نہیں پایا جاتا ہے ۔ تاہم اس طرح کے وعدوں کی بنیاد پر کانگریس کو فائدہ ملنے کی امید ہے ۔کانگریس نے بغیر سوچے سمجھے کشمیر ایشو اپنے منشور کا مرکزی ایشو نہیں بنایا ہوگا ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے وعدے کرنے میں کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کا بڑا رول ہے ۔ یہ ممکن بھی ہے ۔ اس کے باوجود یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ دوسرے لیڈروں نے بلا سوچے سمجھے آزاد کی تجویز قبول نہیں کی ہوگی ۔ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر لیا گیا ہے ۔ وجہ کچھ بھی ہو لیکن یہ کانگریس کا ایک بہت بڑا دائو ہے ۔ کشمیر کارڈ کھیل کر بی جے پی میں کھلبلی پیدا کی گئی ہے ۔ بھاجپا لیڈروں نے کانگریس منشور میں کشمیر کی باتیں کرنے کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ ان کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ کانگریس کے ان خیالات سے سیکورٹی فورسز کا مورال ختم ہوگا ۔ ان کا الزام ہے کہ کانگریس کا انتخابی منشور علاحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مددگار ثابت ہوگا ۔ اس کے بجائے سیکورٹی حلقوں کو کافی مایوسی ہوگی ۔ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ کشمیر کا وزیراعلیٰ بن کر انہوں نے جنوبی کشمیر کو جنگجووں سے خالی علاقہ بنایا تھا ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی نے اس علاقے کو پھر سے عسکریت کے آگ میں جھونک دیا ۔ یاد رہے کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران جنوبی کشمیر میں جنگجووں کی صفوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگیا ۔ نئے جنگجو بھرتی ہوگئے اور کئی سو جنگجووں کے علاوہ بڑی تعداد میں عام لوگ مارے گئے ۔ اس وجہ سے بی جے پی اور پی ڈی پی کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ اب کانگریس کی طرف سے منشور میں حالات سازگار بنانے میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ کانگریس اگر اقتدار میں آگئی تو کشمیر میں حالات بہتر بنانے کا وعدہ کیا گیا ۔ جنوبی کشمیر میں اس وقت بھی حالات انتہائی ناسازگار ہیں ۔ یاد رہے کہ بی جے پی ، پی ڈی پی مخلوط سرکار کے دور میں یہاں پارلیمانی ضمنی چنائو ہونے والے تھے ۔ لیکن لوگوں کی مزاحمت کے بعد یہ انتخابات منسوخ کئے گئے ۔ اس کے بعد بی جے پی نے سرکار سے الگ ہونے کا اعلان کیا ۔ اس وقت سے لے کر ریاست پر گورنر راج نافذ ہے ۔