نقطہ نظر

کشمیر ،نئے سیاسی راستوں کی تلاش ناگزیر

کشمیر ،نئے سیاسی راستوں کی تلاش ناگزیر

’اپنی پارٹی ‘‘کے صد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ کشمیر نے جو کھویا ہے ، اس سے کوئی اعلامیہ واپس نہیں لاسکتا صرف سپریم کورٹ یا خود مرکزی سرکار ہی اس سے واپس بخش سکتی ہے ، ہمارا ایجنڈا یہی ہے کہ اس کی واپسی ہو ، ہماری ترجیحات میں بیروز گاری اور نوجوانوں کا مستقبل ہے اور یہ کہ ہم جموں و کشمیر کے عوام کو بھی قریب لانا چاہتے ہیں جن کے درمیان واضح دوریاں پیدا ہوچکی ہیں ،پچھلے بہتھر برسوں کے دوران جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے کی سیاست چلی ہے اور اب یہ سیاست آگے نہیں بڑھے گی ، اپنی پارٹی اس سے کیسے روکے گی ،یہ واضح نہیں ۔ اور جو کھویا ہے اس سے واپس کیسے لائے گی یہ بھی واضح نہیں ، اس معاملے میں دونوں پارٹیوں کا انحصار سپریم کورٹ پر ہی ہے ، ظاہر ہے کہ یہ اب خوابوں کی باتیں ہیں جن کی کوئی تعبیر نہیں ، آپ کو یاد ہوگا کہ کہ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے گپکار اعلامیہ آیا تھا جس میں چھ مین سٹریم پارٹیوں نے مل کر اور ایک ہوکر یہی بات کہی تھی،مجھے دونوں اعلامیوں میں کوئی فرق نہیں لگا کیونکہ دونوں نے سٹیٹ ہڈ کو سپریم کورٹ کی بال قرار دے کرکہا ہے کہ وہی اس بال کو ہمارے گول میں پھینک سکتی ہے ، سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک اٹانومی اور سیلف رول جن کا کئی دہائیوں تک شور رہا اب قصہ پارینہ ہوکر رہ چکے ہیں اور سبھی مین سٹریم پارٹیوں کا یقین ہے کہ اب ان تلوں میں تیل باقی بچا ہی نہیں ہے ۔ مرکزی سرکار سے دونوں فریقوں کو اس بات کی کوئی توقع نہیں کہ وہ اپنے کسی فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر آمادہ ہو ۵؍ اگست ۲۰۱۹؁ء کو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ ہوا تھا ریاست کے دو حصے بنادئے گئے تھے ، کشمیر کو یو ٹی کا درجہ دیا گیا تھا ۳۷۰ اور ۳۵اے کا بھی خاتمہ ہوا تھا ، اور تب سے اب تک یہاں کے لمبے لاک ڈاون کے پیچھے اس کے سائے کہیں نہ کہیں واضح ہیں ،مین سٹریم پارٹیوں اور ان کے لیڈراں کا کریک ڈاون ہوا تھا اور انہیں بھی مختلف ایکٹوں کے تحت قید کیا گیا باقی جو ان کے ساتھ نہیں یعنی مین سٹریم نہیںوہ مسلسل قیدوں اور جیل خانوں میں زندگیاں گذار رہے ہیں ، لیکن مینسٹریم میں ابھی تک پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی جیل کی صعوبتیں اٹھا رہی ہیں ۔ فاروق عبداللہ و عمر عبداللہ لگ بھگ آٹھ مہینوں کے بعد چھوٹ چکے ہیں اور اب کئی مہینوں کے بعد ہلکی پھلکی سیاسی ورزشیں کرنے کی طرف مائل ہوچکے ہیں گپکار اعلامیہ اسی ورزش کا نتیجہ تھا ، عمر اپنے لب و لہجے سے سخت ناراض ہیں اور بار بار اس بات کا شکوہ کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں اس برتاؤ کے مستحق نہیں تھے جو ان کے ساتھ روا رکھا گیا ہے ، ان کے اپنے پس منظر میں یہ بات انتہائی درست اور صحیح ہے کہ ان کے تصور میں بھی کبھی یہ نہیں رہا ہوگا کہ انہیں پابند سلاسل کیا جائے گا کیونکہ لاکھ اختلاف کے باوجود مرکزی سرکاروں کو مر حوم شیخ کی ہند نوازی پر کبھی کوئی شک نہیں رہاہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ الحاق ہند شیخ کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے ، اور ان کے بعد فاروق عبداللہ اپنی ساری زندگی جس طرح کی سیاست کرتے رہے اس کا صلہ قیدو بند ،نظر بندی ،نفرت ، عزت ریزی اور الزام تراشیاں نہیں ہوسکتی تھیں لیکن ایسا ہوا ہے ،اور اس کی بھی اپنی بہت ساری وجوہات ہیں جو اس مضمون کا موضوع نہیں ،، دوسری طرف الطاف بخاری پی ڈی پی کی ہی پیداوار بھی ہیں اور اسی حکومت میں منسٹری پدوں پر بھی رہے ہیں ، مفتی سعید اور محبوبہ مفتی دونوں کے بہت ہی قریبی بھی رہے ہیں لیکن شاید ان سے زیادہ قریبی تعلقات ان کے مرکز میں کہیں ضرور رہے ہیں جن کی بنیادوں پر ایک بار وہ چیف منسٹری سے بس ایک دو قدم پیچھے رہ گئے ، محبوبہ نے مفتی سعید کی وفات کے بعد جو کیبنٹ بنائی تھی پہلے مر حلے میں ا لطاف صاحب کو ڈراپ کیا تھا ۔ لیکن بعد میں ان کے لئے ایجوکیشن کی وزارت خالی کروالی گئی تھی ، اب جب کہ دہائیوں کے مین سٹریم خاندان بھی ایک ایسے سیاسی موڑ پر کھڑے ہوچکے ہیں جہاں آگے اورپیچھے ابھی تک کچھ نظر نہیں آرہا ، منزل تو ان سب کی اقتدار ہی تک محدود رہتی ہے لیکن اب در اصل اس منزل تک کا راستہ بہت ہی دشوار گزار اور ابھی حالات کے مطابق ناقابل حصول ہے کیونکہ موجودہ سرکار کا ایجنڈا اور روڈ میپ پہلی مرکزی سرکاروں سے قطعی مختلف ہے ، کانگریس اور دوسری مرکزی سرکاروں کی ترجیح اقتدارکی ڈولی کے لئے کشمیری کہاروں کی رہا کرتی تھی یا ان کا احساس تھا کہ بندوق کشمیری کندھوں پر رکھ کر بہتر طور چلائی جاسکتی ہے لیکن اب وہ زمانے بیت چکے ہیں ، موجودہ سرکار کو نہ ان کندھوں کی ضرورت ہے اور نہ ان چہروں کی بلکہ ان کے پاس اپنے کندھے بھی ہیں اور بند وقیں بھی ، پھر انہیں چلانے میں کیا قباحت آسکتی ہے ،؟ اس لئے شاید اب نئے منظر میں کشمیری سیاست کار بالکل ہی غیر منسلک کئے گئے ہیں یا سمجھے جاتے ہیں ، اگر چہ نئے حالات اور نئے سینیریو کے ساتھ مطابقت بنانے کے لئے بخاری صاحب نے نہ صرف پہل کی بلکہ جو ہوا سو ہوا۔ کے مصداق اپنی ذہنی ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے نئے سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ اور مقام کی تلاش میں ایک نئی پارٹی’’ اپنی پارٹی ‘‘کے نام سے لانچ کی ، کشمیر کے سیاسی آسمانوں میں جو بجلیاں کوندی ہیں اور ان بجلیوں سے جو آشیانے جلے ہیں ان پر کسی نے اشک شوئی بھی نہیں کی اور اس کا کسی کو غم بھی نہیں ۔غم ہے تو اس بات کا کہ وہ مینسٹریم ، اور ہند نواز ہونے کے باوجود معتوب ٹہھرے ،،، بہرحال یہ نئی جماعت نئے حالات میں ہم آہنگی کے لئے کوشاں ہے اس نئی جماعت ’’اپنی پارٹی ‘‘ کے ساتھ بھی وہی لوگ ہیں جو پچھلی دہائیوں سے اس سیاسی میدان میں کبھی کھیلتے تو کبھی یونیفارم پہن کر ویٹنگ میں نظر آتے رہے ہیں ، اس طرح کی اقتداری سیاست کو این سی نے ہی فروغ دے کر یہاں تمام دوسری پارٹیوں کے لئے ہمیشہ کے لئے اقتداری راہیں کھول دی تھیں ، کانگریس تو شروعات سے ہی کشمیری زمین میں بویا ہوا باہری پودا تھا اور صر ف اس وجہ سے یہاں کی حکمراں رہی کہ مرکز ایسا چاہتا تھا، یہی وجہ ہے کہ سات دہائیوں کے دوران ہر نیا ا چیف منسٹر اپنے پچھلے سے زیادہ کمزور ،ناتواں اور اقتدار کی محرومی سے سہما سہما سا رہا ،اور جب یہ تناور درخت زمین بوس ہوا تو سبھی لوگ و لیڈراں اس درخت کی چھاؤں سے بیک وقت محروم ہوئے۔ این سی کے پاس اٹانومی کا چراغ تھا تو ۔ پی ڈی پی نے سیلف رول اور ایجنڈا آف الائنس کاچوغہ زیب تن ضرور کیا لیکن وہ کسی بھی صورت میں این سی سے مختلف ثابت نہیں ہوئی اور اس نے بھی اپنی سرکار کو محظ کرسی کی حفاظت اور نگہبانی تک ہی محدود ر کھا ۔لیکن کرسی نہیں بچا پائی ، اب مرکزی سرکار نے ان دونوں پارٹیوں کو بالکل غیر فعال اور حاشئے پر رکھنے کا پختہ من بنالیا ہے ،وہ ان دونوں مینسٹریم پارٹیوں کی خدمات اور بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر کے الحاق کو مستحکم اور مظبوط بنانے میں ان کے رول کو بھی قطعی نظر انداز کئے ہوئے ہے ابھی مرکز کے عملی اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ ان ہند نواز پارٹیوں سے اوب چکی ہے اور ان کے لئے کوئی بھی سپیس چھوڑنا نہیں چاہتی جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ مرکز فی الحال کشمیرنشین سیاسی پارٹیوں کوحاشئے پر رکھ کر کچھ نیا اور بالکل غیر متوقع سٹیج کے تشکیل میں اپنے نظرئے اور روڈ میپ پر سختی سے کاربند ہے ، ایسے حالات میں یہ فطری اور قدرتی بات ہے کہ کشمیر نشین پارٹیاں شاید یہ سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کا رول کیا ہوگا اور کہاں سے اپنے سفر کی نئی شروعات کرسکتے ہیں؟ ، سوال یہ کہ کیا واقعی یہ سب لوگ سپریم کورٹ ہی کے فیصلے کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے ہیں ؟ یا انہیں نئے حالات کا ادراک نہیں ، سیاسی کھلاڑیوں کو اس بات کا ادراک یقینی ہوگا ،بس یہ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو والا معاملہ ہی دکھتا ہے ، شاید ابھی تک یہ کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچے ہیںجہاں ایک جگہ جمع ہوکر کوئی حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے کوشاں ہوں ۔ یہ حکمت عملی کیا ہوگی جہاں کم سے کم ان لوگوں کا رول بھی کہیں نہ کہیں سے نکل آئے، اس بات کے دہرانے سے اب کوئی فائدہ نہیں کہ مرکز سے یہ لوگ مل کر بھی کچھ منوانے کی پوزیشن میں نہیں آئیں گے کیونکہ بی جے پی نے پورا پورا اندازہ کرلیا ہے اور سمجھ لیا ہے کہ اس سے اپنے ایجنڈے کو عملانے میں کوئی زیادہ مشکلات نہیں ، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ساری دنیا میں جس تیزی کے ساتھ سیاسی میدان اور ترجیحات بدل رہی ہیں اور کوڈ کی وجہ سے جو تمام ملکوں پر اقتصادی مار پڑ رہی ہے اس انتشار اور غیر یقینی صورتحال میں کشمیر کا مسئلہ پس منظر میں پڑ چکا ہے اور یہاں اندرون خانہ جو بھی چل رہا ہے اس پر کوئی نگاہ فوکس نہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ یوں بھی مسلم آبادی کی وجہ سے بڑے بڑے ممالک کے اپنے وہ تحفظات ہیں جو ان کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھرے جا چکے ہیں ،،فاروق گپکار میں اپنے قریبی ساتھیوں سے مل چکے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اعلامیہ آیا تھا اور محبوبہ چونکہ ابھی پابند سلاسل ہے اس لئے ان کی طرف کا رحجان ابھی پس پردہ ہے ، لیکن جہاں تک ان دونوں کی کیمسٹری کا تعلق ہے وہ کوئی زیادہ مختلف نہیںاور دونوں کی آخری منزل اقتدار ہی ہے ، لیکن جیسا کہ ظاہر ہے کہ اب یہ حصولیابی بہت مشکل ہوچکی ہے اور اگر ایک لمحے کے لئے یہ مان بھی لیا جائے کہ بی جے پی نے بھی یہ فیصلہ کر ہی دیا کہ مردے کو جب شمشان کی طرف کریاکرم کرنے کے لئے روانہ ہی کرنا ہے تو یہ بوجھ اپنے کندھوں پر کیوں اٹھا یا جائے ،، کیوں نہ مین سٹریم کے کندھوں پر سوار کرکے شمشان تک بڑھا چلا جائے ؟ تو اس اقتداری۔ارتھی کی صورت و شکل کیا ہوگی ،، یہ ایک بہت بڑا معمہ ہے ؟ ہر پہلو پہ غور کرنے کے بعد یہی نتائج اخذ ہوجاتے ہیں کہ کشمیر نشین سیاسی پارٹیوں کو بھی زندہ رہنے کے لئے نئی راہیں تلاش کرنا ہوں گی ،، اور سوال یہ ہے کہ اس سیاسی فضا میں وہ راہیں کیا ہوں گی؟ ، شاید اب شاٹ کٹ اور اقتداری سیاست کی منزل سے لانگ ٹرم منصوبوں پر آنا ناگزیر ہوگا،کیونکہ فی الحال کوئی بھی شاٹ ٹرم سیاسی راستہ اقتدار کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دیتا، کیا اس پس منظر میں کوئی اور راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے ،؟ میرے خیال میں ایک آپشن پر سوچا جاسکتا ہے وہ یہ کہ سٹیٹ ہڈ ، ۳۷۰ ، ۳۵ ۱ے یہ سب ایک مستحکم درخت کی نازک شاخیں تھیں ،، کیا اس پورے درخت کی نئے سرے سے آبیاری اور مطالبہ، جو آئینی حیثیت رکھتا ہے ، جہاں یہ لوگ آئین ہند کے تحت سزاوار بھی نہیں بنتے ،تمام مین سٹریم پارٹیوں کے لئے آکسیجن فراہم نہیں کرسکتا ، اس کے باوجود کہ گھڑی کی سوئیوں کو واپس گھمانے کی سکت ان میں نہیں ، یا دوسرے الفاظ میں یہ ناقابل حصول سی بات ہے تو سوال یہ ہے کہ قابل حصول بھی کیا ہے ؟