سرورق مضمون

کشمیر : افراتفری عروج پر / فدائی حملے ، ہلاکتیں اورپراسرار بال کٹائی

ڈیسک رپورٹ
پلوامہ پولیس لائن کے بعد ائرپورٹ کے قریب بی ایس ایف کیمپ پر عسکریت پسندوں نے فدائین حملہ کیا ۔ تینوں فدائین مارے گئے۔اطلاعات کے مطابق ایک حملہ آور شروع میں ہی مارا گیا جبکہ اس کے دو ساتھیوں نے مورچہ سنبھال کر کئی گھنٹوں تک فائرنگ کی ۔ فائرنگ میں ایک درجن کے قریب بی ایس ایف اہلکار زخمی ہوگئے ۔اس وجہ سے ائرپورٹ پر جہازوں کی آواجائی روک دی گئی۔اس وجہ سے مسافروں کو کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا ۔ تاہم کوئی بڑا حادثہ ہونے سے روک دیا گیا ۔ بی ایس ایف کے کشمیر چیف نے اس حملہ کی تفصیل دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ فدائی حملوں کو روکنا بہت مشکل ہے ۔ البتہ ہلاکتوں کو روکا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے لئے تیار کی گئی سٹریٹجی کی وجہ سے ہی نقصان کو بہت حد تک کم کیا گیا ۔ پولیس نے اپنے بیان میں اس حملے کے لئے جیش محمد کو ذمہ دار قرار دیا اورتینوں ملی نٹوں کا تعلق اسی تنظیم سے بتایا ہے ۔ اس حملے کے بعد جنوبی کشمیر میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک پنج کو مشتبہ افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا ۔ ہلاکت کا ایک اہم واقعہ پدگام پورہ اونتی پورہ میں پیش آیا ۔ یہاں شادی کی ایک تقریب کے دوران اونتی پورہ پولیس اسٹیشن کے ہیڈکانسٹیبل جو کہ منشی کا کام کرتا تھا عسکریت پسندوں نے اغوا کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن پولیس اہلکار کی مزاحمت کی وجہ سے اسے اغوا نہیں کیا جاسکا جس کے بعد عسکریت پسندوں نے مذکورہ اہلکار کو گولیوں سے بھون ڈالا اور وہ موقعے پر ہی ہلاک ہوگیا ۔ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار تھانے میں تعینات ٹاسک فورس کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتا تھا اور ملی ٹنٹوں کے خلاف کاروائیوں میں پیش پیش رہتا تھا ۔ اس وجہ سے ملی ٹنٹوں کی ہٹ لسٹ میں شامل تھا۔ پولیس نے اس ہلاکت کے لئے حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ریاض نائیک اور اس کے دوسرے دو ساتھیوں کو ملوث قراردیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ملی ٹنٹ کھلے چہرے سے گھر کے اندر داخل ہوئے اور پولیس اہلکار کو اپنے ساتھ آنے کے لئے کہا ۔ پولیس اہلکار نے ایسا کرنے سے انکار کیا ۔ جس کے بعد انہوں نے اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کی اور وہیں دم توڑ بیٹھا ۔ کہا جاتا ہے کہ شادی کی تقریب میں آیا دولہا فوج میں سپاہی کے طور کام کرتا ہے۔ جنگجوئوں کو دیکھ کر دولہا سخت گھبراہٹ کا شکار ہوا اور اس کو شک گزرا کہ عسکریت پسند اسے مارنے آئے ہیں ۔ لیکن عسکریت پسندوں کی یقین دہا نی پر وہ مطمئن ہوا اور وہاں موجود پولیس اہلکار مارا گیا ۔ چند روز بعد ہی ترال بازار میں ایک دکاندار کو قریب سے گولیاں چلا کر ہلاک کیا گیا ۔ بشیرداد ا نامی اس شہری کو اس سے پہلے بھی ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن بچ نکلا ۔ آج اسے ایک بار پھر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس دفعہ وہ بچ نہ سکا اورسرینگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ بیٹھا ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ترال میں اس وقت تین عام شہری مارے گئے جب یہاں دورے پر آئے کابینہ وزیر نعیم اختر پر گرینیڈ پھینکا گیا ۔ وزیر بال بال بچ گیا البتہ ایک لڑکی اور معزز شہری موقعے پر ہی دم توڑ بیٹھے ۔ حملے میں شدید زخمی ایک اور شہری بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا ۔ اس طرح سے حملے میں تین عام شہری مارے گئے جب کہ ایک درجن کے آس پاس دوسرے لوگ زخمی ہوگئے جو ابھی تک زیرعلاج ہیں ۔ ان ہلاکتوں اور ملی ٹنٹ حملوں کی وجہ سے وادی میں سخت افراتفری پائی جاتی ہے ۔
ادھر وادی میں پچھلے دو تین ہفتوں سے لڑکیوں کی چوٹیاں کاٹنے کا عمل جاری ہے ۔ سرینگر ، بارہمولہ اور بانڈی پوری سمیت جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور کئی درجن عورتوں کے بال کاٹ دئے گئے ۔ بال کاٹنے کا یہ عمل انتہائی مشکوک ہے اور تاحال کسی بھی مجرم کا پتہ نہیں لگایا جاسکا ۔ پولیس ایسے کسی کیس کی تہہ تک پہنچنے سے قاصر ہے ۔ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ اس عمل میں سیکورٹی ایجنسیاں ملوث ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگجووں کو لوگوں سے دور کرنے اور ان کے لئے جائے پناہ تلاش کرنے میں مشکلات پیدا کرنے کے لئے لوگوں کو مختلف حربوں سے خوفزدہ کیا جارہاہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے بیشتر واقعات جنوبی کشمیر کے ان علاقوں میں پیش آئے جہاں ملی ٹنٹ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی ملوث افراد کو لوگوں نے تحویل میں لیا اور اصل حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن پولیس نے بروقت کاروائی کی ، ملوث افراد کو چھڑا لیا گیا اور گھر والوں کے حوالے کیا گیا ۔ کوئی پوچھ تاچھ کی گئی نہ صحیح صورتحال معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لڑکیوں کے بال کاٹنے کی وجہ سے پوری وادی میں افراتفری پائی جاتی ہے ۔ لوگ خوفزدہ ہیں اور حیران ہیں کہ تاحال کسی کی نشاندہی نہیں کی جاسکی ۔ اس وجہ سے مسئلہ انتہائی پراسرار بنا ہوا ہے ۔ عورتیں خاص کر تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طالبات سخت خوفزدہ ہیں ۔ ان کے لئے حفاظت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے ۔ دفتر جانے والی خواتین کے لئے اس طرح کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر اپنے تشویش کا اظہار کیا ۔ علاحدگی پسندوں کی مشترکہ قیادت نے جمعہ کو یواین آفس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ۔ لیکن شہر میں بندشیں لگانے اور حریت رہنمائوں کو گھروں میں نظربند کرنے کی وجہ سے یہ پروگرام کامیاب نہیں بنایا جاسکا ۔ البتہ پریس اینکلیو سرینگر میں کئی لوگوں نے احتجا ج کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس نے اس احتجا ج کو ناکام بنایا اور احتجا ج کرنے والوں کو زبردستی گاڑیوں میں بھر کر پولیس تھانے پہنچا دیا گیا ۔ صورتحال انتہائی کشیدہ اور تشویشناک ہے ۔ حکومت اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی تو ایک بار پھر امن عامہ خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔