نقطہ نظر

کشمیر ایک اور صحرا نوردی کی طرف

کشمیر ایک اور صحرا نوردی کی طرف

رشید پروین ؔ سوپور
بڑی مدت ،دراصل ۵ ؍اگست ریاست کو یوٹی کا درجہ عطا کرنے کے بعد ہمارے سابقہ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے اپنی زباں کے تالے کھولے ہیں ، عمر بھی کئی مہینوں تک قید تھے اور اب رہائی کے دن گذار رہے ہیں لیکن اب تک وہ خاموش رہے ، بالکل خاموش ، جس طرح کشمیری عوام نے اپنی پر اسرار خاموشی کو نہیں توڑا۔۔ کیا یہ واقعی پراسرار خاموشی ہے ،، جو کسی طوفاں کا پیش خیمہ سمجھی جا سکتی ہے یا بس یہ خاموشی ڈر ، خوف اور دراصل اس احساس کا نتیجہ ہے کہ ’’ گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو ‘‘ جب کچھ باقی بچا ہی نہ ہو تو واویلا کس بات کا ، اور اب اگر اچانک اور ناگاہ ہی عمر صاحب بہت کچھ کہہ گئے ہوں تو اس کی پر اسراریت میں اضافہ ہوجاتا ہے ،، اپنے ایک حالیہ تفصیلی انٹرویو میں عمر صاحب نے کچھ ایسی باتیں کی ہیں جن کی اہمیت سے صر ف نظر نہیں کیا جاسکتا،اور جس سے کشمیری مین سٹریم کی آگے کی حکمت عملی اور منصوبوں کو سمجھا جاسکتا ہے ، موجودہ سرکار نے ان پارٹیوں کی رگوں میں رواں لہو کا ڈی این اے ٹسٹ کیا ہے اور بہتر نتائج حاصل کر کے ان کی طرف ایک خاص رویہ اپنائے ہوئے ہے ’’سیاسی تنظیموں کا موقف یک طرفہ طور پر شروع سے اقتدار تک محدود رہنے کی وجہ سے بی جے پی نے بار بار اشاروں کنایوں میں ہی نہیں بلکہ تضحیک آمیز لہجے میں ان سے متعلق یہ بات واضح کی ہے کہ ا قتدار ان کی پہلی اور آخری منزل ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے حالات اور سیاسی پس منظر میں تعاون اور مرکزی مفادات کی نگہبانی کے سوا ان کے پاس کوئی اوپشن نہیں بلکہ ان پارٹیوں اور ان کے سربراہوں کو بار بار کرپٹ اور کنبہ پرور بتاکر انہیں ذلیل و خوار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی‘‘ اپنے پسِ منظر میں عمر صاحب اور اس کی پارٹی نیشنل کا نفرنس سے متعلق اس بات میں کوئی اختلاف رائے نہیں کیا جاسکتا کہ وہ شروع سے ہند نواز رہے ہیں اور ان کے دادا جی مرحوم شیخ صاحب نے شعوری طور پر ایک مسلم اکثریتی ریاست کو غیر فطری طور پر بھارت کے ساتھ جوڑنے میں جو کردار ادا کیا ہے اور جس طرح سے ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملانے میں عمر بھر سخت کوششیں کی ہیں وہ ہماری تاریخ کا شرمناک اور بھارتی تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے ، عمر کے والد فاروق صاحب جو اس وقت نیشنل کانفرنس کے صدر بھی ہیں اپنے باپ سے کسی بھی معاملے میں پیچھے نہیں رہے اور مختصر کہا جائے تو ان اوقات یا ادوار میں جب بھارت کے ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کے پیدا کردہ زلزلوں کے جھٹکے شدید تر ہوتے تو یہی صاحب اپنے والد صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان جھٹکوں کی شدت اور حدت کو ختم کرنے کے لئے آگے آتے رہے ہیں ، یہ کہانی ان کے ساتھ پہلے سے چلی ہے جب نہرو جی نے شیخ مرحوم کا سلامتی کونسل کے لئے انتخاب۔ رائے شماری رکوانے کے لئے کیا تھا ، لیکن ۵؍ اگست سے دونوں باپ بیٹے کی نظر بندی جو کبھی ان کے تصور میں بھی نہیں رہی ہوگی ان کی سوچ و فکر پر گہرے نقوش مرتب کرنے کے لئے کافی ہوسکتی تھی ۔لیکن یہ لوگ ہر طرح کے تلخ گھونٹ پینے کے جہاں عادی ہیں وہاں بد مزہ بھی نہیں ہوتے اس لحاظ سے بی جے پی کا ان کے بارے میں تجزیہ درست ثابت ہوتا ہے ۔ اپنی نظر بندی کے بعد آج تک ان دونوں نے اپنی زبانوں پر تالے چڑھائے ، ، یہ رہا تو ہوئے لیکن محبوبہ مفتی ابھی تک نظر بند ہیں ،اور ان کی نظر بندی میں مزید تین مہینے کا اضافہ کیا گیا ہے، اس لئے گماں غالب آجاتا ہے کہ فاروق اور عمر کو ’’خاموش ‘‘ رہنے کی ہدایت اور قبولیت کے بعد ہی رہا کیا گیا ہوگا ، اس انٹر ویو سے عمر صاحب اور ان کی جماعت کا نئے حالات کے پس، منظر اور پیش منظر میں ان کا موقف کھل کر سامنے آتا ہے ، واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کوئی نیا راستہ اور کوئی نیا اپروچ اپنانے کا تصور نہیں رکھتے بلکہ ہندوستانی سپریم کورٹ میں دائر دفعہ ۳۷۰ کی رٹ پر انحصار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کشمیر سے متعلق تمام غیر جمہوری اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی جنگ لڑی جاسکتی ہے ، انہیں اس بات کا یقین کیوں ہے اور کن بنیادوں پر وہ ایسا سوچ رہے ہیں اس کا ادراک انہیں ہی ہوگا یا وہ سمجھتے ہوں گے کہ سسٹم سے باہر رہ کر بھی ان کے پاس کوئی اور اوپشن نہیں ، فرض کیجئے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل اسی انداز میں آگیا جس طرح بابری مسجد کا فیصلہ آگیا ،، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ انصاف نہیں ہوا ، ہم تو بس یہ کہہ رہے ہیں کہ جو ایک پارٹی کے لئے انصاف ہوتا ہے وہ دوسرے فریق کی نظروں میں نا انصافی بن جاتا ہے ، کیا یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ این سی یہ فیصلہ آنے کے بعد اپنے عوام سے بس اتنا کہنے کے قابل ہوچکی ہوگی کہ ہم نے سپریم کورٹ میں کوشش کی اس کے بعد اور کیا۔ کیا جاسکتا ہے ؟ اگر چہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کادرجہ ختم کرنے اور ۳۷۰ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے جو دلائل بی جے پی نے ساری دنیا کو بتائے ،جن کا ڈھنڈورا پیٹا گیا ، ان میں نہ تو کوئی وزن ہے اور نہ زمینی سطح کے حالات ان تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ، کشمیر میں ہر لحاظ سے اس سے پہلے ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی مگر جاری و ساری تھی ، ۳۷۰ کسی بھی طرح تعمیر و ترقی میں مانع نہیں تھی بلکہ ان کے والد صاحب نے جو ۷۷ میں اسمبلی میں بل پیش کی تھی( لینڈ گرانٹس بل ) اس نے یہاں سرمایہ کاری پر تمام پابندیاں ختم کی تھی ، یہ بھی ان کا کہنا ہے کہ ڈومیسائل صرف جموں و کشمیر تک محدود رکھا گیا ہے ، لداخ اس قانون سے مبرا ہے ،،ہماچل پردیش اور اسی جیسے قوانین اور کئی ریاستوں میں نافذ ہیں ، جن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی۔ محض ایک مخصوص ریاست کو اس دائرے میں لانا اپنے آپ میں بہت کچھ معنی رکھتا ہے ، انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مرکز نے ۳۷۰ اور ریاستی درجے کو ختم کرنے کی وجوہات میں ملٹینسی کو بھی ایک وجہ بتایا تھا لیکن سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا ان اقدامات سے ملٹینسی میں کمی آئی ہے ؟ بلکہ حکومت نے خود ہی سپریم کورٹ میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ تشدد میں اضافے کی وجہ سے یہاں فورجی کو بحال نہیں کیا جاسکتا ،دوسری طرف یہ دعویٰ بھی بالکل لغو ثابت ہوا ہے کہ یہاں یہ ساری چیزیں ختم کرنے سے سرمایہ کاری کے لئے راستے ہموار ہوں گے اور یہاں کے ہر درخت اور ہر شاخ پرسونے کی چڑیا بسیرا کرنے لگے گی ۔ عمر صاحب بہت ہی درست اور یہاں تک صحیح سوچتے ہیں ، لیکن ان حالات سے پیدا شدہ نتائج پر جو ان کے فیصلے ہیں ان سے اختلافات کا ہوناناگزیر ہے ۔ ہر لیڈر اور سیاسی شخصیت اپنی ایک الگ پولیٹیکل فلاسفی رکھنے کا حق رکھتا ہے ،عمر نے یہ سب کہہ دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان حقائق کا ادراک کیا ہے انہوں نے یہ بھی سمجھا ہے کہ لوگ باہر سڑکوں پر احتجاج نہیں کر پائے اور یہ بہت ہی اچھا کیا کیونکہ بی جے پی اندازے کے مطابق یہاں لہو کے دریا رواں کرنے میں کسی طرح کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی ، یہ وجہ تھی کہ لوگ اور عوام، جمہوری ڈھنگ سے بھی اپنا احتجاج درج نہیں کراسکے اور یہ ایک اچھا قدم تھا ، عمر صاحب یہ ساری باتیں خود کہتے ہیں ،خود تسلیم کرتے ہیں اور خود کو نئی راہوں کے متلاشی جتاتے ہیں لیکن جہاں تک سوچ و فکر کا تعلق ہے اپنے آپ کو اور پارٹی کو اسی سسٹم کا حصہ بتاتے ہیں ، اور اپنے آپ کو اسی دائرے میں کو لھو کے بیل کی طرح چکر کاٹنے پر مجبور پاتے ہیں ۔۔ مرحوم شیخ کشمیری عوام کو بائیس برس تک رائے شماری ‘‘ کی چرس پلاتے رہے ، اور پھر اس سے صحرانوردی کہہ کر نئی حشیش ’’اٹانومی ‘‘ ایجاد کی ۔ بڑی مدت تک عوام کو اٹانومی کے نخلستانوں میں محوسفر رکھا جس کے بارے میں عمر نے کہا کہ ہم نے اس پر عوام کو گمراہ نہیں کیا ،آج بھی ہمارا یہ موقف ہے ، لیکن جب یہ قرار داد فاروق عبداللہ نے پاس کرکے مرکزی سرکار کو بھیجدی تھی تو اس سے ایک سخت ڈانٹ کے سوا کچھ ملا نہیں تھا اور اس قرارداد کو بنا پڑھے ہی ڈسٹ بن میں ڈالا گیا تھا ، کیا کبھی انہوں نے پچھلے ستر برسوں کے دوران مرکز تک اپنی کوئی بات یا مطالبہ زور دار آواز میں پہنچایا ہے ،؟ کیا کشمیر اسمبلی میں مجارٹی ہونے کے باوجود وہ اٹانومی پر سنجیدہ رہے ہیں ، ؟ کیا تاریخ میں وہ کوئی ایسی بات رقم کی ہوئی پاتے ہیں جس میں مرکزی سرکار سے ’’الحاق کشمیر ‘‘سے متعلق کوئی بات کی ہو ، یہاں تک کہ آہستہ آہستہ باقی سرکاروں ،کی طرح انہوں نے بھی اس الحاق کی روٹی سے تھوڑی تھوڑی کاٹ کر مرکزی آقاؤں کے پلیٹوں پر سجانے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا ۔پھر وہ اپنے آپ کو کن نئی راہوں کے متلاشی سمجھتے ہیں اور کس طرح عوام یہ باور کریں کہ وہ کشمیر کے بہی خواہ ہیں ، کشمیر کے اندر کی بات ہے کہ لوگ ان سب سے اوب چکے ہیں ، وہ حریت سے بھی بد گماں ہیں ، انہوں نے کئی لمبی ہڑتالوں اور لاک ڈاونوں کے نتائج پر بھی غور کیا ہے ، عوام نے ہر بار اپنے آپ کو دو دو دہائیوں بعد بھی صحر ا نوردیوں میں ہی پایا ، عوام این سی ، کانگریس اور پی ڈی پی کے چہروں سے بھی نقابیں ہٹاکر ان کے اصل چہرے دیکھ چکے ہیں ، اصل وجہ یہ تھی کہ جب سارا آشیاں اجڑ گیا ، اور جب یہ سارا خرمن ہی بجلیوں کی زد میں آگیا تو عوام کا ذہنی رد عمل یہی تھا کہ ( ایسا ہونا ہی تھا ) کیونکہ بی جے پی نے یہ بات درست کہی تھی کہ ۳۷۰ میں رہا کیا تھا وہ سارے لوگ بھی بے وقعت اور بے توقیر ہوگئے جو اس کے ذمہ دار ہیں ، لوگ اتنے ڈرے ہوئے نہیں تھے بلکہ غصے اور فرسٹریشن نے انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کردیا ہے ، جس کے اثرات ابھی تک اپنی شدت کے ساتھ موجود ہیں کیونکہ عوام سمجھتے ہیں کہ ہم صرف ڈوگرہ شاہی کے لئے ہی متاع کوچہ و بازار نہیں رہے ہیں بلکہ پچھلے ستر برسوں میں بھی بار بار ہماری اچھی خاصی قیمت وصول کی جاچکی ہے ،،،اور جنہوں نے یہ قیمت وصول کی ہے جب وہ بھی ان بجلیوں کی زد میں آئے تو عوام نے اس سے مکافات عمل اور اللہ کی لاٹھی سمجھ کر خاموشی اختیار کی بہرحال صرف الیکشن کے لئے ،، خالی کھوکھلی سٹیٹ ہڈ،، کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔ اور کوئی معنی نہیں رکھتی،بلکہ ایک اور لمبی صحرانوردی ہی ہو گی ,رہی خودی تو بادشاہی ، نہ رہی تو رو سیاہی ،،،