مضامین

کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا!/ کشمیر کی صورتحال پر راجیہ سبھا میں بحث

حزب المجاہدین کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت اگر چہ8 جولائی 2016 کو ہوئی تاہم اُسی روز وادی کی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہو گیا، آج ایک مہینے سے زیادہ وقت گذرنے کے باوجود بھی ریاست کی حالت واپس پٹری پر آنے کا نام نہیں لیتا۔ آئے روز ایسی دلدوز خبریں سننے کو مل رہی ہیں جس سے انسانی جانیں کانپ رہی ہیں، آئے روز کہیں نہ کہیں پلٹ گن کا استعمال کیا جاتا ہے اور درجنوں بھر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں یہاں تک کہ عورتوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس طرح سے وادی میں ایک مہینے سے زیادہ دنوں تک کرفیو کا نظام بھی رہا تاہم بھی حالات واپس پٹری پر نہیں آرہی ہے۔ لوگوں میں زبردست گم و غصہ پایا جاتا ہے۔ روز کہیں نہ کہیں پولیس فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، عوام کی طرف سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں، آزادی کے حق میں نعرے دئے جاتے ہیں۔ اس طرح سے وادی زبردست سنگین صورتحال سے گذر رہی ہے۔ آئے روز درجنوں افراد یا تو زخمی ہوتے ہیں یا موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ غرض کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ فورسز آئے روز کہیں کہیں ایسے واقعات انجام دیتے ہیں جن سے عوام کی جان و مال کی سلامتی کو خطرے لاحق ہوتا ہے تقریباً32 دن لگاتار ہڑتال، کرفیو اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد مجبوراً راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے کشمیر کی صورتحال پر بحث کرنے کی مانگ کی ۔ اپوزیشن کی لگاتار مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے10 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کے مدعو کو لے کر ایک زبردست بحث چھیڑ گیا جس میں اپوزیشن لیڈر اور سابق ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کشمیریوں کے کئی مدعوں کی اور ایوان کی توجہ دلائی۔ تاہم بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور بھارت کو کبھی گولیاں بند کرکے اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا ہے بلکہ بھارتی وفاق کے ساتھ اس کے تعلقات دفعہ370کے تابع ہیں۔ کشمیر کی صورتحال پر راجیہ سبھا میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے کر ن سنگھ نے کہا’’اس ایوان میں پارٹی لائنوں اور پارٹی سیاست سے اوپر اٹھ کر اس بات پر جامع اتفاق ہے کہ کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری طور کچھ کرنا ہے اور وہاں جو کچھ ہورہا ہے ،اس کی نسبت ہمدردی بھی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک چیز واضح ہے’’آخری دفعہ جب18جولائی کو ہم نے اس ایوان میں کشمیر بحران پر بحث کی،تب سے اب تک صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ہمیں امید تھی کہ آٹھ سے دس روز میںیہ ختم ہوگا لیکن ہوا یہ کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مرے۔اموات کی تعداد60تک پہنچ گئی ہے جبکہ 150سے200لوگوں کو ظاہری طور اندھا کرنے کے علاوہ ہزاروں کو زخمی کیاگیا ہے‘‘۔
ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ32دن کے کرفیو کے دوران سیول انتظامیہ کا مکمل بریک ڈاؤن ہوا ہے۔ان کا کہناتھا’’اشیائے ضروریہ کی سپلائی بند ہے، تعلیمی و طبی نظام مفلوج ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہوچکا ہے‘‘۔تاہم انہوں نے کہا’’مجھے لگتا ہے کہ اصل مسئلہ تک پہنچنے سے قبل جموں وکشمیر میں انسانی مسئلہ کے خدوخال کوسمجھنے کی ضرورت ہے‘‘۔ان کا مزید کہناتھا ’’گزشتہ25برسو ں سے جب سے 1989میں وہاں عسکریت شرو ع ہوئی ،کتنے لوگ وہاں مر گئے ،کئی بیوہ خواتین وہاں نالہ و فغان کررہی ہیں،کتنے بچے یتیم ہوگئے اور تمام دیہات میں بدقسمت آمیز ملی ٹینسی اور اس طرف سے بھی کچھ غلطیوں کی وجہ سے کتنے قبرستان آباد ہوگئے ؟‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’اب یہ لازمی ہے کہ امن و قانون کی صورتحال بحال کی جائے۔وہاں معقول سیول انتظامیہ ہونی چائیے ،مجھے بتایا گیا ہے کہ سیول سیکریٹریٹ بھی سرینگر میں ٹھیک طرح سے کام نہیں کررہا ہے ،لوگوں کی زندگیاں متاثر ہیں اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کا حل نکالے۔حکومت ہند جہاں ضروری ہو ریاست کی مدد کرے گی تاہم ریاست کو زیادہ متحرک رول ادا کرنا ہے اور انتظامیہ چلانے میں زیادہ متحرک رہنا ہے تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دورا ن ریاستی حکومت اپنی طرف سے کسی بھی خاص پہل یا پیش رفت کے ساتھ آگے نہیں آئی اور تاثر یہ ہے کہ حکومت عملی طور غائب ہے اور متحرک نہیں ہے اور یہ بہت غلط تاثر ہے کیونکہ ایک دفعہ جب سماج بدظن ہو ،آپ کو پھر معلوم نہیں کہ یہ بدظنی کہاں تک آپ کو لے جائیگی۔ کرن سنگھ نے کہا’’آج میں اپنے دل و دماغ کی بات کرنا چاہتاہوں اور آپ کے سامنے کچھ ایسے حقائق لاناچاہتاہوں جن کے بارے میں شاید آپ کو مکمل واقفیت نہ ہو یا وہ آپ کیلئے کچھ تکلیف دہ بھی ہوں تاہم میں جو کچھ کہوں گا ،وہ حقائق پر مبنی ہوگا‘‘۔ان کا کہناتھا’’ہمیں محاسبہ کرنا ہے کہ کیوں ہزاروں نوجوانوں نے وہ راستہ اختیار کررکھا ہے جو ان کی زندگی میں صرف موت و تباہی لائے گا؟۔ایسا کیوں ہورہا ہے؟۔ایسا کیوں ہے کہ یہ بیزاری صرف قصبوں تک محدود نہیں ہے،جہاں یہ پہلے ہوا کرتی تھی تاہم دیہی علاقوں تک پھیل گئی ہے؟۔ایسا کیوں ہے کہ لڑکپن میں ہی نوجوان اپنے گھروں سے باہر آکر یہ راستہ اختیار کررہے ہیں؟ایسا کیوں ہے؟۔کیوں کشمیر کی نفسیات اس قدر مجروح ہوچکی ہے کہ وہ یہ راستہ اختیار کرنے کیلئے تیار بہ تیار ہیں؟۔ہمیں معلوم ہے کہ انہیں آمادہ کیاجاتا ہے ،ہمیں معلوم ہے کہ انہیں کہاں سے اکسایا جارہا ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ فیس بک اور انٹرنیٹ پر مہم چل رہی ہے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کسی حد تک مالی امداد کہاں سے آرہی ہے ،ہمیں معلوم ہے کہ ہتھیار کہاں سے آرہا ہے۔ہمیںیہ سب معلوم ہے لیکن یہ کافی برسوں سے ہورہا ہے تو آج صورتحال کیوں اس قدر ابتر ہوئی ہے۔مجھے لگتاہے کہ ہمیں انتہائی محتاط انداز میں ایمانداری کے ساتھ احتساب کرلینا چاہئے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر کے رشتے دفعہ370 اور ریاستی آئین’’جس پر میرے دستخط ہیں اور جو قانون ہے ،کے تابع ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’جی ہاں ،یہ بھارت کا ایک اٹوٹ انگ ہے لیکن ہمیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ جموں و کشمیر کو عطا کی گئی خصوصی حیثیت ، بھلے ہی یہ غلط ہو یا صحیح ، ایک حقیقت ہے۔اب اس خصوصی حیثیت کے حوالے سے مختلف معاملات ہیں جن کے بارے میں کچھ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک مثبت ڈیولپمنٹ ہے جبکہ کچھ اسے منفی اقدام سمجھتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ1952میں شیخ محمد عبداللہ اور جواہر لال نہرو کے درمیان ایک سیاسی معاہدہ ہوا، 1957میں ریاستی آئیں منظور ہوا جس پر میں نے دستخط کئے۔اس کے بعد صدارتی احکامات کا ایک سلسلہ جاری ہوا جس سے اس کی مدوں میں اضافہ ہوتا رہا۔یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے ‘‘۔ڈاکٹرکرن سنگھ نے کہا ’’1975میں ایک اورمعاہدہ ہوا ،جو اندرا شیخ ایکارڈ کے نام سے موسوم ہے۔اس کے بعد کشمیر پر کئی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ورکنگ گروپوں کا اعلان ہوا، رابطہ کار مقرر کئے گئے اور کئی رپورٹیں سامنے آگئیں۔اگرچہ کچھ کاروائی کی گئی لیکن سیاسی طور پر ہم ابھی بھی ہوا میں لٹکے ہوئے ہیں اور جموں و کشمیر کے حقیقی درجے اور ہند یونین کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں ابھی بھی تذبذب موجود ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ اٹوٹ انگ ضرورہے لیکن حقیقی رشتہ کیا ہوگا۔۔۔کئی وفاقی مملکتوں میں یہ مختلف ہے۔۔۔حتیٰ کہ چین میں ایک مملکت اور دو نظام موجود ہیں۔۔۔ہانک کانگ میں ایک مختلف نظام ہے۔اسلئے ناقابل تنسیخ حصہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر جگہ کے معاملات یکساں ہونگے۔لہٰذا یہ بھی ایک ایسا معاملہ ہے جو طے نہیں ہوا ہے۔جتنی دیر تک ایسا ہی رہے گا ،معاملہ اْتنا ہی گنجلک ہوجائے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ ایسا کچھ ہے جس کے بارے میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور حکومت ہند کو کسی مرحلے پر کوئی ایسا قدم اٹھانا پڑے گا جومشکل اور ناخوشگوارلگے اور جسے اختیار کرنے سے گریز کیا جاتا رہا ہو۔ انہوں نے کہا ’’یہ ایک داخلی معاملہ لیکن تعلقات پر سوال ہنوز موجود ہے‘‘۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا’’جموں و کشمیر ایک واحد ریاست ہے لیکن ،جیسا (بی جے پی ممبر پارلیمنٹ) شمشیر سنگھ منہاس اور دوسروں نے کہا ، وہاں جموں ،کشمیر اور لداخ کے خطے ہیں اورپاکستانی زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پانچ خطے ہیں۔ ان خطوں میں اپنے مسائل ہیں جو ایک جیسے نہ ہوں۔جب ہمارے پاس جمہوریت ہے، انسانیت ہے، کشمیریت ہے تو ہمیں اس میں دو چیزیں اور بھی شامل کرنی چاہئیں جو جمویت اور لداخطیت ہیں ، کیونکہ وہ بھی ریاست کے حصے ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’2008میں امرناتھ زمین کا معاملہ سامنے آیا۔یہ کشمیر سے شروع ہوا اور پھر جموں پہنچا لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ آپ دیگر دو خطوں کو نظرانداز کرسکتے ہیں۔ان کے اپنے مسائل اور خواہشات ہیں۔لہٰذا کسی بھی مجموعی حل کیلئے تینوں خطوں کے لوگوں کی امنگوں کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے‘‘۔ کرن سنگھ نے مربوط طریقے سے مسلے کو حل کرنے پر زور دیا۔اْن کا کہنا تھا ’’ بہت ساری کمیٹیاں بنائی گئیں لیکن ابھی تک معاملہ لٹکا ہوا ہے ،جموں وکشمیر کے کئی پہلو ہیں ، انسانیت ،داخلی اور خارجی محرکات ، ریاست کی خصوصی پوزیشن کے محرکات اور علاقائی نابرابری اور خواہشات‘‘۔ان کا کہنا تھا یہ سیاسی مسئلہ ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہئے ، یہ پیکیجوں کا مسئلہ نہیں ، آپ پیکیج دے سکتے ہیں ، آپ کو دینے ہیں لیکن یہ سب کچھ نہیں۔کرن سنگھ نے کہا ’’ ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا ، دلوں کو جوڑنا ہو گا اور کچھ مربوط طریقے کا رکرنا ہو گا ، کل جماعتی وفد بھیجنے کا خیال اچھا ہے لیکن ہمیں وہاں جانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے ، اس کیلئے پہلے زمینی سطح پر کچھ کرنا ہو گا ، اگر ہم وہاں جا کر محبوبہ مفتی سے ملیں گے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا ، ہمیں مختلف طبقوں سے بات کرنی ہو گئی ، میں یہ تجویز بھی دے رہا ہوں کہ ایک آئینی کمیٹی بنائی جائے جو وہاں جا کر فیصلے لیں بلکہ صرف سفارشات مرتب نہ کریں ‘‘۔پیلٹ گن پر مکمل پابندی کی وکالت کرتے ہوئے کرن سنگھ نے کہا ’’ میں اس بات پر متفق ہوں کہ پلیٹ گن پر پابندی لگنی چاہئے ، انہیں بند کرو ، یہ منفی طریقہ کار کی ایک علامت بن گئے ہیں ، اس کا متبادل ڈھونڈنا چاہئے ، وزیر داخلہ ہو سکتا ہے کہ ایک ماہ اور لیں لیکن اس سے قبل کوئی اقدام کیا جانا چاہئے ، پیلٹ گن نوجوانوں کیلئے ہیبت ناک بن گئے ہیں ، جو احتجاج میں شامل نہیں ہوتے اْن پر بھی قیامت پربا کی جاتی ہے ‘‘۔کرن سنگھ نے کہا ’’ ہم بہ بانگ دہل کہتے ہیں کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے ، ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے اْس کے معنی کیا ہے‘‘۔کرن سنگھ نے مزید کہا ’’ ہم کہتے ہیں جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ، بیشک یہ ہے ، جس دن میرے والد نے الحاق پر دستخط کئے یہ بھارت کا حصہ بن گیا ، 27اکتوبر 1947میں اپنے کمرے میں تھا ، میرے والد نے تین باتوں پر حامی بھری ، اس میں دفاع ، مواصلات اور خارجی امور ، بھارت نے اسی طرح دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی دستاویزات پر دستخط کئے ، یہ تمام ریاستیں بھارت میں ضم ہوئیں لیکن ریاست جموں وکشمیر ضم نہیں ہوئی۔