خبریں

کشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ

کشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری اور کشمیر اُمور کے ماہر رام مادھو نےڈاک بنگلہ اننت ناگ میں میڈیا نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جنگجوؤں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے کےلئے جنگجوئیت کا خاتمہ لازمی ہے۔ رام مادھو کے مطابق اگر ریاست میں تعمیر و ترقی کو ممکن بنانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ جنگجوؤں کا خاتمہ ہو، اس کے بغیر ریاست میں تعمیر و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ رام مادھو نے کشمیریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر جنگجوؤں کا خاتمہ کرنے میں اُن کو تعاون فراہم کریں۔بی جے پی لیڈر نے بتایا کہ کشمیر میں جونہی جنگجوئیت کا خاتمہ ہوگا تب ہی یہاں تعمیر و ترقی کا دور دورہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا جو طریق کار ہوتا ہے وہی طریقہ بی جے پی کا بھی ہوگا۔ہم یہاںتعمیر و ترقی کی سیاست کریں گے لیکن اگر یہاں کی تعمیری و ترقی میں کوئی چیز رکاوٹ ہیں تو وہ یہاں کی علاقائی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں ہیں۔ کشمیر ہندوستان کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے جس کو کوئی بھی طاقت ملک سے الگ نہیں کرسکتی۔ جنگجوؤں اور علیحدگی پسندوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے بی جے پی لیڈر رام مادھو کا کہنا تھا کہ کشمیر کسی کی ماں یا باپ کی جاگیر نہیں ہے کہ کوئی ہمیں اس کو چھوڑنے کو کہے اور ہم بغیر مزاحمت کے اس کو چھوڑ دیں، یہ ہندوستان کا حصہ ہے۔ کشمیر ہندوستان کے کروڑوں بھارت واسیوں کا دیش ہے۔ کشمیر کو الگ کرنے والے اپنی زبان کو لگام دیں، ان کو لگتا ہے کہ کشمیر اُن کی ذاتی جاگیر ہے۔رام مادھو نے بتایا کہ موجودہ پارلیمانی چناؤ میں ہم صرف تعمیر و ترقی پر ہی سیاست کریں گے اور بقیہ مسائل و معاملات کو بعد میں دیکھا جائےگا۔ریاست میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رام مادھو کا کہنا تھا کہ ریاستی انتظامیہ نے عارضی اقدامات اُٹھائے ہیں اور ہم پرامید ہیں کہ جلد ہی ریاست میں اسمبلی انتخابات کا بگل بجادیا جائےگا۔انہوںنے کہا کہ ریاست میں جلد ہی لوگوں کی طرف سے منتخب سرکار وجود میں آئےگی۔ علاقائی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے رام مادھو نے بتایا کہ 1975میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے اندار گاندھی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا کیوں کہ ریاست اُس وقت سہی سمت میں نہیں جارہی ہے لہٰذا اُس وقت جو سمجھوتہ تشکیل پایا وہ ریاست کے حق میں تھا لیکن 1987میں نیشنل کانفرنس نے جو سیاسی کارڈ کھیلا اُس کے نتیجے میں ریاست میں تباہی کا باب کھلا اور یوں ایک نیا بیانیہ شروع ہوا۔بی جے پی لیڈر نے بتایا اسی غلط طریق کار کو ملک کے وزیرا عظم نریندر مودی نے سہی سمت دینے کی خاطر 2014میں مرحوم مفتی محمد سعید کےساتھ سمجھوتہ کیا لیکن یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ یہاں کی علاقائی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں ریاست کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرنا چاہتی ہے۔ رام مادھو نے بتایا کہ بی جے پی ریاست میں امن کو بحال کرنے کی خاطر ایک روڑ میپ پر کام کررہی ہے۔