خبریں

کشمیر حل کیلئے سہ فریقی بات چیت لازمی

کشمیر حل کیلئے سہ فریقی بات چیت لازمی

حریت کانفرنس(گ) کے ایک پریس ریلیز کے مطابق 15؍مارچ شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے رات کی انٹلی جنس ایجنسی (IB)کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے چیرمین سید علی گیلانی کی رہائش گاہ حیدرپورہ سرینگر میں ایک ملاقات کے دوران سیدعلی گیلانی کو مذاکرات میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی ۔بیان کے مطابق حریت(گ) چیرمین نے مذکورہ بھارتی انٹلی جنس کے عہدیدار کو صاف وشفاف زبان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تنازعے کی صورت میں اس وقت نہ صرف برصغیر، بلکہ امنِ عالم کے لئے سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ جب تک بھارت اس کی تاریخی حیثیت اور ہیئت کو تسلیم کرتے ہوئے اس مسئلے کو ایڈرس کرنے پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کرتا تب تک مذاکرات ایک لایعنی سعی تصور کی جائے گی۔ سیدعلی گیلانی نے کہا کہ بھارت نے جموں کشمیر پر فوجی قبضہ کررکھا ہے جسے جموں کشمیر کے عوام نے تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ اس کے خلاف برسرِ جدوجہد ہیں۔ ہمارا صاف اور سیدھا مطالبہ یہ ہے کہ ریاستی عوام کو حقِ خودارادیت کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جانا چاہیے۔ حریت (گ)چیئرمین نے IBکے اعلیٰ آفیسر کو بھارت کے قابض افواج اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں جموں کشمیر کے عوام پر رونگھٹے کھڑا کرنے والے مظالم سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر میں پچھلے 70برسوں سے چھ لاکھ سے زائد انسانی جانوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا جاچُکا ہے۔ سیدعلی گیلانی نے آئی بی افسرکوبتایاکہ لاکھوں کی تعداد میں عوام کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا جاچُکا ہے، لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو بلالحاظ عمر وجنس آہنی سلاخوں کے پیچھے اسیرانہ زندگی سے دوچار کیا گیا ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو پیلٹ اور گولی باری سے معذور بنادیا گیا ہے۔ دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنادیا گیا ہے۔بیان کے مطابق اس گھمبیر صورتحال کا خلاصہ کرتے ہوئے حریت راہنما نے IBکے عہدیدار کو بتایا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے سیاسی طریق کار اپنانے کے بجائے فوجی طاقت کے بل پر جبرو اکراہ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ حریت راہنما نے مذاکرات کے حوالے سے ماضی کی تاریخ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اب تک دوطرفہ مذاکرات کے 150سے زائد ادوار ہوچکے ہیں، لیکن ان کی ناکامی کا سبب صرف اور صرف یہ رہا ہے کہ ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو ایڈرس کرنے کے بجائے اِسے انتظامی اور لاینڈ آردڑ معاملہ قرار دے کر صرف انتقالِ اقتداد پر ہی اکتفا کیا گیا۔ سیدعلی گیلانی نے بھارت کے انٹلی جنس آفیسر کو بھارت کی قابض انتظامیہ کے ہاتھوں پُرامن سیاسی سرگرمیوں اور جمہوری طریقِ کار کو مسدود کئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اس سرزمین پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کا دعویٰ کرنے والے ملک کے ہاتھوں سیاسی اختلاف رکھنے والے حریت راہنماؤں کی جملہ پُرامن سرگرمیوں پر ایمرجنسی جیسی پابندیاں عائد کردی گئیں ہیں۔ پر یس کانفرنس، سیمینار اور جلسے جلوسوں یہاں تک کہ بند کمروں میں میٹنگوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔بیان کے مطابق قابض افواج کے ہاتھوں اندھا دھند گولی باری میں لوگوں کے قاتلوں کے خلاف FIRدرج کرانے کی ممانعت کردی گئی ہے۔ AFSPA، POTA، PSAجیسے کالے قوانین کے نفاذ کے علاوہ NIAکی طرف سے حریت راہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف فرضی اور بے بنیاد الزامات کے تحت تہاڑ جیسے بدنامِ زمانہ جیل میں متعصب قیدیوں اور بے رحم جیل انتظامیہ کے ہاتھوں بدترین مظالم کا شکار بنایا جارہا ہے۔ سیدعلی گیلانی نے اس قسم کے ظالمانہ ماحول کو مذاکرات کے لئے نامناسب قرار دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر بامعنیٰ مذاکرات کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تمام ترذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔