خبریں

کشمیر میں جنگبندی میں توسیع کا حتمی فیصلہ عنقریب لیا جائیگا

کشمیر میں جنگبندی میں توسیع کا حتمی فیصلہ عنقریب لیا جائیگا

جموں وکشمیر میں رمضان جنگنبدی میں توسیع ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عنقریب لیا جائیگا اور اس سلسلے میںآئندہ چند روز میں دلی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی جائیگی جس میں ریاستی سرکار کو اعتماد میں لیکر کشمیری عوام کے حق میں فیصلہ لیا جائیگا۔ ان باتوں کا اظہارمرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نےکیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کپوارہ ضلع کیلئے روزگار پیکیج کو منظوری دی۔ انہوں نے کرناہ ٹنگڈار ٹنل کی تعمیر کو لیکر بھی معاملہ مرکز کے زیر غور ہونے کا اعتراف کیا ۔ ان باتوں کا اظہامرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاست کے دو روزہ دورے کے سلسلے میں کپوارہ میں نامہ نگاروں کیساتھ بات چیت کے دوران کیا ۔انہوں نے کہاکہ ان کا دورہ ریاست کا مقصد ریاست کے حالات اور سیزفائر کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینا تھا اور زمینی سطح پر لوگوں اور سیکورٹی ایجنسیوں سے فیڈ بیک حاصل کرنا تھا کہ آیا رمضان سیزفائر کے بعد حالات میں کس قدر بدلاو آیا ہے اور لوگ کس حد تک اس اقدام سے مطمئن ہیں ۔ رمضان جنگبندی میں توسیع کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام ابھی جاری ہے اور آئندہ چند روز کے اندر اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ لیا جائیگا کیونکہ اس پر فیصلہ لینے سے قبل دلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی جائیگی جس کے بعد ریاستی سرکار کو اعتماد میں لیکر فیصلہ لیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد لوگوں کو آگاہ کیاجائیگا جس میں ان کے حق میں ہی فیصلہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امن اور ترقی کیلئے بہت سارا کام ہوا ہے لیکن ابھی بھی کافی سارے کام کرنے باقی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ضلع میں سرحدی علاقوں کے لوگوں کیلئے کئی ایک پیکیج مرکز کے پاس ہیں جس میں ضلع کپوارہ کے سرحدی علاقوں کیلئے فورسز کی دو بٹالین قائم کی جارہی ہیں جن میں مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے گا جبکہ دو ہزار ایس پی اوز کی بھرتی کا بھی انہوں نے اعلان کیا۔اس کے علاوہ محکمہ پولیس میں خواتین اہلکاروں کی دو بٹالین قائم کرنے کو منظوری دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آئی آر پی کی پانچ بٹالیں قائم ہونگی جس میں سرحدی علاقوں کے لوگوں کیلئے ساٹھ فیصد ریزرویشن رہے گی ۔ جبکہ نرسنگ پیرا میڈیکل کالج بھی قائم کیا جائیگا ۔اس کے علاوہ انہوں نے کرناہ ٹنگڈار ٹنل کی تعمیر کے حوالے سے کہاکہ یہ معاملہ مرکز کے زیر غور ہے اور اس پر بہت جلد کوئی فیصلہ لیا جائیگا ۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ وہ سیکورٹی صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں اور وہ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران کیساتھ بھی تبادلہ خیال کریں گے۔چنانچہ وزیر داخلہ نے ا سے قبل عوامی وفود کیساتھ ملاقاتیں کیں جبکہ انہوں نے دیگر کئی ایک تاجروں ، ٹرانسپورٹ ،وکلاء برادری اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں کیساتھ علیحدہ علیحدہ میٹنگیں بھی منعقد کی جس میں ان نمائندوں نے اپنے اپنے مسائل ان تک رکھے اور مرکزی وزیر داخلہ نے ان عوامی وفود کیساتھ میٹنگ میں ان پر واضح کر دیا کہ مرکز کی بھاجپا حکومت ریاست جموں وکشمیر کے اندر تعمیر وترقی کا انقلاب لانا چاہتی ہے لیکن اس کیلئے امن پہلی ضمانت ہے کیونکہ اگر امن ہوگا تو ہی روزگار اور تعمیر ترقی کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے لہٰذا عوام کو مکمل طو رپر ریاستی حکومت اور مرکز کیساتھ تعاون کرنا ہوگا ۔
اس موقعے پر سرحدی علاقوں کے لوگوں نے مرکزی وزیر داخلہ کیساتھ گولہ باری کا معاملہ اٹھایا اور ان سے مطالبہ کیاکہ گولہ باری روکنے کیلئے مرکزی حکومت پاکستان کیساتھ مذاکرات کی بحالی کو یقینی بنائیں کیونکہ گولی باری کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے لوگ مر رہے ہیں اور پس رہے ہیں ان کے مصائب کم نہیں ہورہے ہیں جس پر مرکزی وزیر داخلہ نے انہیں یقین دلایا کہ اس معاملے کا حتمی حل نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی اور عوام کے جان ومال کا تحفظ مرکزی اور ریاستی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زیر زمین بنکروں کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا گیاہے۔انہوں نے عوامی وفود سے کہاکہ وہ جانتے ہیں کہ بہت سار اکام ہوا ہے اور بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے تاہم مستقبل میں کشمیر کے اندر تعمیر وترقی کا انقلاب برپا کیاجائیگا اور امن وامان کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی ۔
وزیر داخلہ نے انتظامیہ کے افسران کیساتھ بھی ایک اہم میٹنگ کی جس میں ڈپٹی کمشنر کپوارہ مسٹر خالد جہانگیر نے ایک پاور پوائنٹ پزنٹیشن پیش کی جس میں مرکزی اسکیموں اور دیگر اسکیموں کی معاونت سے ضلع میں ہورہے کام سے متعلق مرکزی وزی داخلہ کوجانکاری فراہم کی گئی۔ایسے میں اس موقعے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ،وزیراعظم آفس میں کشمیر امور کے انچار ج ڈاکٹر جیتندر سنگھ ، نائب وزیراعلیٰ کویندر گپتا ،کابینہ وزیر سجاد غنی لون ، ریاستی چیف سیکریڑی ، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، ممبر اسمبلی کپوارہ ، ممبر اسمبلی کرناہ ، ایم ایل سی ، ڈائریکٹر جنرل پولیس اور آئی جی کشمیر بھی موجود تھے ۔ اس میٹنگ پر وزیرداخلہ نے پاور پوائنٹ پزنٹیشن کو لیکر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ اس دوران مرکزی وزیرداخلہ نے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز کپوارہ میں سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران کیساتھ میٹنگ کی جس میں ملی ٹینسی میں مارے گئے پولیس اہلکاروں کو بھی عقیدت کا خراج پیش کیا گیا جبکہ امن وقانون کی صورتحال اور سیز فائر کے حوالے سے سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران نے مرکزی وزیر داخلہ کو زمینی صورتحال سے آگاہ کر دیا ۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ نے دیگر کئی ایک معاملا ت پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیرداخلہ کے اس دورے کی نسبت پورے ضلع میں سیکورٹی کے سخت ترین اقدامات کئے گئے تھے اور ڈاگ بنگلہ کے گرد نواح میں سیکورٹی کا کڑا پہرہ بٹھا دیا تھا ۔